سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(280) بیوی کی وفات کے بعد زرمہر کی حیثیت

  • 23045
  • تاریخ اشاعت : 2017-10-01
  • مشاہدات : 108

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

1۔زید نابالغ کا نکاح ہندہ نابالغہ سے ہوا۔زید کا باپ ہندہ کو اپنے گھر میں نابالغی کی حالت میں اس شخص سے رخصت کرالایا کہ بچپن ہی سے میرے گھر کا طریقہ سیکھے،پھر اپنے میکے چلی گئی اور وہاں سے اپنے ننہال آئی۔اتفاق سے ہندہ طاعون میں اپنی نونہال میں فوت کرگئی اور ترکہ میں صرف اپنا زر مہر چھوڑ گئی۔آیا ہندہ کی تجہیز وتکفین اس کے ترکہ زر مہر سے ہونی چاہیے یا اس کا باپ یا ماں یا شوہر اپنی طرف سے کرے؟اگر باپ ماں نے اپنے پاس سے ہندہ کی تجہیز وتکفین کی؟

2۔زید چاہتا ہے کہ ہمیں زر مہر دیتا ہے،میں اسی ترکہ سے تجہیز وتکفین میں جو صرف ہو،اسے منہا کرکے مہردوں تو زید ایسا کرسکتا ہے؟ہندہ نانہال میں مری اور نانہال ہی میں تجہیز وتکفین ہوئی۔

3۔ہندہ نابالغہ ہی تھی کہ زید کا باپ بغرض تعلیم طریقہ اپنے خاندان کے اس کو رخصت کرالایا۔زید کہتا ہے کہ ہندہ سے شادی تو ضرور ہوئی،مگر بوجہ نابالغیت قربت نہ ہوئی۔آیا زید پر کل مہر  ادا کرنا واجب ہے یا نصف،جیسا کہ فقہ کی کتابوں میں ایسی حالت میں دینا لکھا ہے اور آیت:

﴿وَإِن طَلَّقتُموهُنَّ مِن قَبلِ أَن تَمَسّوهُنَّ وَقَد فَرَضتُم لَهُنَّ فَريضَةً فَنِصفُ ما فَرَضتُم ...﴿٢٣٧﴾... سورة البقرة

"اور  اگر تم انھیں اس سے پہلے طلاق دے دو کہ انھیں ہاتھ لگاؤ اس حال میں کہ تم ان کے لیے کوئی مہر مقرر کرچکے ہو تو تم نے جو مہر مقرر کیا ہے اس کا نصف(لازم) ہے۔مطلقہ کے لیے خاص یا متوفیہ کے لیے بھی؟اگر متوفیہ کے لیے بھی ہے تو اس کا ثبوت شرعی کیا ہے؟

4۔زید کے یہاں برادری میں ہمیشہ کا قدیم دستور ہے کہ جب کوئی شخص اپنی لڑکی کی شادی کرتا ہےتو لڑکے کا باپ حسب رواج برادری کچھ زیورات بہو کو دیتا ہے۔زید کے باپ نے بھی حسب رسم ورواج کے کچھ زیورات اپنی بہو کو دیا،مگر زیورات کا مالک نہ بنایا۔بہو اپنے زیورات میں تصرفات مالکانہ مثل بیع وعاریت کے کچھ اختیار نہیں رکھتی۔آیا یہ زیورات جوزید کے باپ نے ہندہ کو بغرض پہننے کے دیا،ہندہ کی ملکیت شمار ہوکر اس کا ترکہ قرار پاسکتاہے اور مثل ترکہ مہر کے زیورات میں تقسیم مابین الزوج زید وباپ ہندہ کے ہوسکتی ہے؟زید کی برادری کا  رسم ورواج ہے کہ جب بہو مرجاتی ہے اور میکہ میں مرتی ہے تو سارے زیورات میکہ والے اس کے شوہر کو واپس کردیتے ہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

1۔دربارہ تجہیز وتکفین مسئلہ یہ ہے کہ میت کے ترکہ سے کیا جائے(اگر کچھ چھوڑا ہو) پس اگر حالت نابالغی کا نکاح صحیح ہے،جیسا کہ جمہور کا خیال ہے تو اس تقدیر پر ہندہ کی تجہیز وتکفین ہندہ کے ترکہ زر مہر سے کی جائے گی۔واللہ تعالیٰ اعلم۔

2۔زید نے ہندہ کی تجہیز وتکفین اگر تبرعاً کی ہے تو زید یہ صرفہ ہندہ کے زر مہر سے منہا نہیں کرسکتا اور اگر ہندہ کے زر مہر سے کی ہے،یعنی بوقت تجہیز وتکفین یہ نیت کرلی ہے کہ یہ تجہیزوتکفین ہندہ کے زر مہر سے کرتا ہوں تو برتقدیرصحت نکاح مذکور زید یہ صرف ہندہ کے زر مہر سے منہا کرسکتاہے۔واللہ تعالیٰ اعلم۔

3۔زید پر برتقدیر صحت نکاح مذکورہ ہندہ کا کل زر مہر واجب الادا ہے مگر چونکہ   زید ہندہ کے نصف ترکہ کا وارث ہے۔لہذا نصف مہر ہندہ زید کے ذمہ سے ساقط ہوگیا اورباقی نصف زید کے ذمہ واجب الادا ہے جو ہندہ کے دیگر ورثہ کا حق ہے اور یہ آیت کریمہ:

﴿وَإِن طَلَّقتُموهُنَّ مِن قَبلِ أَن تَمَسّوهُنَّ  ...﴿٢٣٧﴾... سورة البقرة

"اور  اگر تم انھیں اس سے پہلے طلاق دے دو کہ انھیں ہاتھ لگاؤ "

عورت مطلقہ کے ساتھ خاص ہے،چنانچہ خودآیت کریمہ میں لفظ (طَلَّقْتُمُوهُنَّ) موجود ہے۔عورت متوفاۃ کے کل مہر کے واجب ہونے کا ثبوت شرعی یہ حدیث ہے:

"وَعَنْ عَلْقَمَةَ عَنِ ابن مَسْعُودٍ: "أَنّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّج امْرَأَةً وَلَمْ يَفْرضْ لَهَا صَدَاقاً وَلَمْ يَدْخُلْ بهَا حَتى مَاتَ؟ فَقَالَ ابنُ مَسْعُودٍ: لَهَا مِثْلُ صَداقِ نسَائهَا لا وَكْسَ وَلا شَطَطَ، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ وَلَهَا المِيرَاثُ، فَقَامَ مَعْقِلُ بنُ سِنَانٍ الأشْجَعِيُّ فَقَالَ: قَضَى رسُولُ اللَّهِ صَلّى الله عَلَيْهِ وَسَلّم في بَرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ ــــ امْرَأَةٍ مِنّا ــــ مِثْلَ مَا قَضَيْتَ، فَفَرحَ بها ابنُ مَسْعُودٍ" رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالأرْبَعَةُ وَصَحّحَهُ التِّرمذيُّ وَحَسّنَهُ جَمَاعَةٌ."[1]

(رواہ تر مذی وابوداود،والنسائی والدارمی مشکوۃ باب الصداق ص269،"وقال الترمذی حدیث ابن مسعود حدیث حسن صحیح وقد روی من غیر وجہ)

علقمہ  رحمۃ  اللہ علیہ  سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے ایک آدمی کے متعلق سوال کیاگیا،جس نے ایک عورت سے شادی کی،ابھی اس نے(مہر وغیرہ) کچھ مقرر نہ کیا تھا اور نہ اس سے صحبت ہی کی تھی کہ وہ فوت ہوگیا۔عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے کہا:اسے اس جیسی عورتوں کی مثل مہر ملے گا۔نہ کم نہ زیادہ اسے عدت بھی گزارنی ہوگی اور اسے (خاوند سے) وراثت بھی ملے گی۔(یہ سن کر) معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کھڑے ہوئے اور فرمایا:رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے ہماری ایک عورت بروع بنت واشق  رضی اللہ تعالیٰ عنہا   کے بارے میں آپ کے فیصلے جیسا فیصلہ کیا تھا۔عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اس پر خوش ہوئے۔

"سبل السلام شرح بلوغ المرام"(2/84) میں ہے:

"والحديث دليلٌ على أنَّ المرأة تستحق كمال المهر بالموت، وإن لم يُسَمِّ لها الزوج، ولا دَخَلَ بِها،"والله تعاليٰ اعلم

"مذکورہ بالا حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ عورت وفات پر مکمل  مہر کی مستحق ہوگی،اگرچہ خاوند نے اس کے لیے مہر مقرر کیا ہو اور نہ اس کے ساتھ خلوت کی ہو"

4۔زیورات مذکورہ نہ ہندہ کی ملکیت شمار ہوں گی اور نہ ترکہ قرار پا کر ورثہ ہندہ پر تقسیم ہوگی،بلکہ زید کے باپ کو،جس نے یہ زیورات ہندہ کو بغرض  پہننے کے دیے تھے ،واپس دے دیے جائیں گے۔واللہ تعالیٰ اعلم۔


[1] ۔سنن ابی داود ر قم الحدیث(2116) سنن الترمذی رقم الحدیث(1154) سنن النسائی رقم الحدیث(3354) مشکاۃ المصابیح (2/227)

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

مجموعہ فتاویٰ عبداللہ غازی پوری

کتاب النکاح ،صفحہ:484

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ