سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(180) زمین کا عشر اور پیداوار کے اخراجات

  • 22945
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-24
  • مشاہدات : 909

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

شریعت میں جو عشر مقرر ہے آیا وہ سرکاری مالیہ کاٹ کرادا کیا جائے یا مالیہ سرکاری اس میں شمار کیا جائے؟جواب مدلل قرآن وحدیث سے ہو۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مالیہ سرکاری دو طرح کا ہے ایک زمین کا ،ایک پانی کا،زمین کا مالیہ کاٹ کر عشر دے،پانی کا مالیہ کاٹنے کی  ضرورت نہیں۔ بلکہ اس کی وجہ سے بجائے د سویں حصے کے بیسواں حصہ دے،کیونکہ نہر کا پانی قیمتاً آیا ہے،گویا ایسا ہوگیا جیسے کنویں کا پانی۔کاٹنے کی صورت یہ ہے کہ زمین کا تمام غلہ اگرنصاب کو پہنچ جائے تو اس سے پہلے اتنے دانے الگ کرلیے جائیں جتنوں سے یہ مالیہ پورا ہوجائے اس کے بعد عشر نکالا جائے۔حدیث میں ہے:

"عن عائشة رضي الله عنه قالت سمعت رسول الله صلي الله عليه وسلم يقول:(( ما خالطت الزكاة مالا الا اهلكته))"

(رواہ الشافعی مشکوۃ ص:149)

عائشہ  رضی اللہ  تعالیٰ عنہا   بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم  کو یہ فرماتے ہوئے سنا:جس مال میں زکوۃ خلط ملط ہوجائے  تو وہ(زکوۃ) اس کوتباہ کریتی ہے۔

اس حدیث سے معلوم ہواکہ زکوۃ کا تعلق مال سے ہے اور قرآن مجید میں بھی ہے کہ پکنے کے دن کھیتی کا حق دو۔[1]

اس آیت میں عشر کھیتی کا حق کہا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عشر کا تعلق کھیتی سے ہے،پس جتنی کھیتی اس کے قبضہ میں ہے،اسی کی زکوۃ اس کے ذمہ ہوگی،جتنی مالیے میں گئی،وہ اس کے قبضہ میں نہیں،اس لیے اس کی زکوۃ اسکے ذمہ نہیں پڑے گی،اس کی مثال یوں ہے کہ ایک شخص کے پاس سو روپیہ ہے ان سے پچاس چوری چلے گئے تو وہ باقی  پچاس کی زکوۃ دے گا نہ کہ سو کی۔یہی فتویٰ عبداللہ صاحب روپڑی کا لکھا ہواہے۔[2]


[1] ۔دیکھیں (سورۃ الانعام آیت۔141)

[2]۔دیکھیں ہفت روزہ  تنظیم اہل حدیث(18/7) فتاویٰ علمائے حدیث(7/141)

 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

مجموعہ فتاویٰ عبداللہ غازی پوری

کتاب الزکاۃ والصدقات ،صفحہ:356

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ