سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(86) ایک مقتدی اکیلا صف میں نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟

  • 22851
  • تاریخ اشاعت : 2017-09-24
  • مشاہدات : 189

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک مقتدی اکیلاصف میں نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟ اور نہیں درست تو اگلی صف کے کنارے سے کسی مقتدی کو پیچھے لے لے یا بیچ میں سے یا جہاں سے چاہے اور اگلی صف میں جو ایک آدمی کی جگہ خالی ہوئی ہے وہ خالی ہی رہے یا اس کے بائیں یا دائیں کے مقتدی سرک سرک کر اس کو بھر دیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ایک مقتدی تنہا صف میں نماز نہیں پڑھ سکتا۔

قَالَ : وَرَأَى رَجُلا يُصَلِّي خَلْفَ الصَّفِّ ، فَوَقَفَ حَتَّى انْصَرَفَ الرَّجُلُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم :َ (اسْتَقْبِلْ صَلاتَكَ ؛ فَلا صَلاةَ لِرَجُلٍ فَرْدٍ خَلْفَ الصَّفِّ ) . صححه الألباني في صحيح ابن ماجة . [1]

(علی بن شیبان  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک شخص کو صف کے پیچھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو ٹھہر گئے حتی کہ وہ فارغ ہوگیا تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اسے فرمایا: دوبارہ نماز پڑھو کیوں کہ صف کے پیچھے اکیلے شخص کی نماز نہیں ہو تی)

(وفي حديث وابصة أن النبي صلى الله عليه وسلم رأى رجلاً يصلي خلف الصف وحده ، فأمره أن يعيد صلاته)[2]

(وابصہ بن معبد رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مروی ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے صف کے پیچھے ایک شخص کو تنہا نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو اسے دوبارہ نماز پڑھنے کا حکم دیا)

وفي رواية سئل رسول الله صلي الله عليه وسلم عن رجل صلي خلف الصفوف وحده  فقال:يعيد الصلاة(رواہ احمد نیل ،61/3) [3]

(ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے ایک شخص کے متعلق پوچھاگیا جس نے صفوں کے پیچھے اکیلے نماز پڑھی ہے تو فرمایا وہ نماز کودوبارہ پڑھے)

اگر صف میں جگہ نہ ہو تو صف میں سے ایک مقتدی کو کھینچ لے اور اس خالی جگہ کو کسی طرف کے مقتدی سر ک سرک کر بھر دیں۔ داہنے یا بائیں کی قید حدیثوں سے معلوم نہیں ہوتی۔

(عن أَبي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ( وَسِّطُوا الإِمَامَ ، وَسُدُّوا الْخَلَلَ) ) (رواہ ابو داود) [4]

(ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مروی ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فر مایا : امام کو درمیان میں رکھواور صفوں کے درمیان خلا کو پُرکرو)


[1]۔مسند احمد 23/1)

[2] ۔ سنن ابی داود رقم الحدیث (681) سنن الترمذی رقم الحدیث (231)سنن ابن ماجہ رقم الحدیث (103)مسند احمد (228/4)

[3] ۔مسند احمد (228/4)

[4]۔سنن ابی داود رقم الحدیث (681)اس کی سند ضعیف ہے کیوں کہ اس کی سند میں یحییٰ بن بشیر اور ان کی والدہ مجہول ہیں دیکھیں تمام المنۃ للا لبانی (ص284)

 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

مجموعہ فتاویٰ عبداللہ غازی پوری

کتاب الصلاۃ ،صفحہ:204

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ