سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(79) حرف"ض"کا تلفظ

  • 22844
  • تاریخ اشاعت : 2017-09-24
  • مشاہدات : 281

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

زید کہتا ہے یہ حرف"ض"مشابہ بالظاء ہے بالدال نہیں ہے جیسے مولانا عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی :

﴿وَما هُوَ عَلَى الغَيبِ بِضَنينٍ ﴿٢٤﴾... سورة التكوير

کی تفسیر میں تحریر کرتے ہیں اور "محاسن العمل" میں مولانا مفتی عنایت احمد صاحب فرماتے ہیں کہ یہ حرف مشابہ بالظاء ہے بالدال نہیں ہے ایسا ہی تفسیر بیضادی کے حاشیہ پر ہے اور شیخ جمل حنفی مکی کے فتویٰ میں ہے کہ"ض"کو"ظا"پڑھنا اکثر لغت اہل عرب کا ہے اور"حاشیہ منیہ جہد المقل "میں ہے کہ "ض"اور"ظ"پڑھنا تعجب نہیں اس واسطے کے ان میں مشابہت ثابت ہے اور فرق کرنا مشکل ہے۔ تفسیرکبیر میں ہے کہ"ض"اور "ظ"میں فرق کرنا مشکل ہے اور احیاء العلوم میں اور کیمیائے سعادت میں امام غزالی صاحب فرماتے ہیں کہ"ض"اور "ظ"میں فرق کرنا چاہیے اگر نہ ہوسکے تب بھی درست ہے۔عبارت رعایا تصنیف امام محمد مکی میں ہے کہ یہ تینوں حرف ض،ظ ،ذ سننے میں یکساں ہیں تفسیر اتقان سورۃ قیامہ میں ہے کہ یہ دو لفظ جداجدا ہیں اور بولنے میں یکساں ہیں ۔

﴿وُجوهٌ يَومَئِذٍ ناضِرَةٌ ﴿٢٢ إِلىٰ رَبِّها ناظِرَةٌ ﴿٢٣﴾... سورة القيامة

(اس دن کئی چہرے ترو تازہ ہوگے اپنے رب کی طرف دیکھنے والے )

عبارت فتویٰ شیخ احمد دحلان مکی سے ظاہر ہے کہ حرف مشابہ بالظاء ہے بالدال نہیں ہےرسالہ "خلاصۃ التقریر"جس پر مہر مولوی بشیر الدین صاحب قنوجی اور مولوی محمد بشیر صاحب سہسوانی اور سید امیر حسن اور مفتی سعد اللہ صاحب اور دوسرے علماء کی اس پر مہر یں ہیں کہ یہ حرف ض مشابہ بالظاء ہے بالدال نہیں ہے فتاوی قاضی خان اور خنیہ اور خلاصہ اور نہر الفائق اور فتاوی عالمگیری وغیرہ میں اکثر علماء نے اس پر فتویٰ دیا ہے کہ حرف ضاور ظ میں فرق کرنا مشکل ہے کیونکہ ان میں مشابہت زیادہ ہے۔

یہ بیان زید کا صحیح ہے یا غلط؟عمرو کہتا ہے کہ یہ حرف ض مشابہ بالدال ہے بالظانہیں ہے کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ قرآن شریف کو پڑھو عرب کے لہجے میں پھر بموجب حدیث شریف کے حرمین شریفین  میں داود پڑھتے ہیں مشابہ بالدال یہ بیان دونوں میں کس کا صحیح اور غلط ہے؟خوب علیحدہ علیحدہ تفصیل سے بیان فرمائیں اللہ آپ کو اجر عظیم دے گا مکرریہ کہ سوائے آپ کے اور بھی علماء کی مہر بھی ہونا چاہیے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ان دونوں بیانوں میں سے زید ہی کا بیان (حرف ضاد مشابہ بالظاہے مشابہ بالدال نہیں ہے) صحیح ہے زید کے اس بیان کی تصدیق سے کتب تجوید وغیرہ بھری پڑی ہیں جن میں سے بعض کے نام خود سوال میں درج ہیں اور عمرو کا بیان کہ حرف مذکور مشابہ بالدال ہے بالظانہیں ہے بے ثبوت ہے واللہ اعلم بالصواب ۔

 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

مجموعہ فتاویٰ عبداللہ غازی پوری

کتاب الصلاۃ ،صفحہ:186

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ