سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(248) تقیہ اور توریہ

  • 22793
  • تاریخ اشاعت : 2024-03-03
  • مشاہدات : 1535

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 1۔تقیہ اور توریہ میں کچھ فرق ہے یا نہیں؟

2۔توریہ کیا چیز ہے؟

3۔تقیہ تو شیعہ مذہب میں ہے اور توریہ کس مذہب میں ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

1۔تقیہ اور توریہ میں ضرور فرق ہے تقیہ تو صاف صاف ہر ایک پہلو سے جھوٹ ہے اور توریہ ایسا نہیں۔

2۔توریہ یہ ہے کہ ایک لفظ کے دو معنےہوں ایک معنی قریب اور دوسرا معنی بعید اور بولنے والا اس لفظ کو بول کر اس سے بعید معنی مراد لے گو سننے والا اس سے اپنی غلط فہمی کی وجہ سے قریب معنی سمجھ جائے مثلاً زید ایک شخص کو جو اس کا نسبی بھائی نہیں ہےصرف اس کا ہم دین اور ہم مذہب ہے یہ کہہ دے کہ یہ میرا نسبی بھائی ہے توریہ تقیہ میں داخل ہو سکے گا اور زید اس شخص کو صرف یہ کہہ دے کہ یہ میرا بھائی ہے اور اس کی مراد یہ ہوکہ یہ میرا دینی اور مذہبی بھائی ہے(اور یہ سچ بات ہے)تویہ توریہ ہے گو اس سے سننے والا نسبی بھائی اپنی غلط فہمی سے سمجھ جائے۔

3۔توریہ اہل سنت کے یہاں بھی جائز ہے جہاں اس کا موقع ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم )(کتبہ محمد عبد اللہ (23/ربیع الاول 1335ھ)

 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 05

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ