سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(339) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر شیعہ کے اعتراضات کا جواب

  • 22787
  • تاریخ اشاعت : 2017-09-21
  • مشاہدات : 1658

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

حضرت ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   و حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   نے افشاء راز پیغمبرخدا کا کیا جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی سورۃ تحریم میں بتا کیدتوبہ دی ہے اور بعدہ اللہ تعالیٰ نے فعل کو ان کے بلفظ کفر تعبیر فرما کر مثال ان ہر دو بزرگواروں کی ساتھ زنان نوح و لوط  علیہ السلام   کے دی ہے جو دونوں کافرہ تھیں اور وہ دونوں حالت کفر میں مریں پس ایسی نص صریح کے مقابلے میں کس آیت قرآنی سے ان کی توبہ کا ثبوت ہو گا؟امید ہے کہ ثبوت اس کانص قرآنی سے فرمایا جائے گا۔چونکہ یہ اعتراض شیعوں کی جانب سے ہے ۔اگر انھیں کی معتبرکتابوں سے ثابت کیا جائے تو بہت خوب ہوگا۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس سوال میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا  اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   پر دوالزام قائم کیے گئے ہیں اور ان دونوں الزاموں کی نسبت قرآن میں نص صریح کے وجود کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

اول:ان دونوں بیبیوں نے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے راز کو فاش کیا اور اس وجہ سے اللہ نے توبہ کا حکم نازل کیا تو جب تک ان کی توبہ قرآن سے ثابت نہ ہو۔اس وقت تک قابل تسلیم نہیں۔

دوم:اللہ تعالیٰ نے ان دونوں بیبیوں کے فعل کی تعبیر بلفظ کفر کی ہے اور ان کی مثل زنان نوح اور لوط علیہ السلام   کے ساتھ دی ہے۔

الزام اول دووجہ سے مدفوع ہے۔

اولاً:کسی آیت میں یہ مذکور نہیں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   نے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا افشاء راز کیا بلکہ سورت تحریم میں پہلے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  سے اللہ تعالیٰ نے عتاب کے قالب میں خطاب فرمایا ہے کہ اپنی بیبیوں کی خاطر سے اللہ کی حلال کی ہوئی چیز کو حرام کیوں کرتے ہو؟

﴿يـٰأَيُّهَا النَّبِىُّ لِمَ تُحَرِّمُ ما أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبتَغى مَرضاتَ أَزو‌ٰجِكَ ...﴿١﴾... سورة التحريم

اے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم ! تو کیوں حرام کرتا ہے جو اللہ نے تیرے لیے حلال کیا ہے؟تو اپنی بیویوں کی خوشی چاہتا ہے)

پھر اس کو معاف بھی کردیا اور فرمایا: وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ (التحریم:1)

(اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم والا ہے )اس کے بعد جن بیبیوں نے افشاء راز کیا ،جس کا علم صحیح قطعی اللہ ہی کو ہے کہ وہ فلاں فلاں بیبیاں تھیں ان کا ذکر مبہم فرمایا :

﴿وَإِذ أَسَرَّ النَّبِىُّ إِلىٰ بَعضِ أَزو‌ٰجِهِ حَديثًا فَلَمّا نَبَّأَت بِهِ وَأَظهَرَهُ اللَّهُ عَلَيهِ...﴿٣﴾... سورة التحريم

(اور جب نبی نے اپنی کسی بیوی سے پوشیدہ طور پر کوئی بات کہی پھر جب اس(بیوی)نے اس بات کی خبر دی ) اس کے بعد افشاء راز کرنے والی بیبیوں کو توبہ کی ہدایت فرمائی:

﴿إِن تَتوبا إِلَى اللَّهِ فَقَد صَغَت قُلوبُكُما...﴿٤﴾... سورة التحريم

(اگر تم دونوں اللہ کی طرف توبہ کرو(تو بہتر ہے) کیوں کہ یقیناً تمھارے دل (حق سے) ہٹ گئے ہیں)

اس کے بعد یہ نصیحت فرمائی کہ اگر تم لوگ آپس میں صلاح و مشورہ کی مدد سے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کو اذیت دوگی تو پھر نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا مولاخود اللہ ہے اور جبرئیل علیہ السلام   اور صلحائے مومنین اور کل فرشتے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے مددگار ہیں اور نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  اگر تم بیبیوں کو طلاق دے دیں گے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اچھی اچھی بیبیاں مومنہ صالحہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کو دے گا۔

﴿وَإِن تَظـٰهَرا عَلَيهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَولىٰهُ وَجِبريلُ وَصـٰلِحُ المُؤمِنينَ وَالمَلـٰئِكَةُ بَعدَ ذ‌ٰلِكَ ظَهيرٌ ﴿٤ عَسىٰ رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبدِلَهُ أَزو‌ٰجًا خَيرًا مِنكُنَّ مُسلِمـٰتٍ مُؤمِنـٰتٍ قـٰنِتـٰتٍ تـٰئِبـٰتٍ عـٰبِد‌ٰتٍ سـٰئِحـٰتٍ ثَيِّبـٰتٍ وَأَبكارًا ﴿٥﴾... سورة التحريم

(اور اگر تم اس کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو تو یقیناًاللہ خود اس کا مددگار ہے اور جبریل اور صالح مومن اور اس کے بعد تمام فرشتے مددگار ہیں اس کا رب قریب ہے اگر وہ تمھیں طلاق دے دے کہ تمھارے بدلے اسے تم سے بہتر بیویاں دے دے جو اسلام والیاں توبہ کرنے عبادت کرنے والیاں روزہ رکھنے والیاں ہوں شوہر دیدہ اور کنواریاں ہوں)

الحاصل جن بیبیوں کو افشائے راز کی وجہ سے توبہ کی ہدایت ہوئی تھی ان بیبیوں کو اگر حضرت طلاق دیتے تو بلاشک ان سے اچھی بیبیاں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کو ملتیں اور جب نہ قرآن سے اور نہ کسی ایسی حدیث سے جو اہل السنۃ والجماعت یا شیعہ کے یہاں متمسک بہ ہو یہ بات ثابت ہوئی کہ ان بیبیوں کو نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے طلاق دی خصوصاً حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   کا نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی زوجیت میں تمام عمر رہنا اخباراور واقعات متواترہ فریقین سے ثابت ہے۔تولامحالہ ان بیبیوں کا تائب ہونا قرآن سے ثابت ہوا۔اس جمال کی تفصیل یوں ہے کہ اگر ان بیبیوں نے توبہ نہ کی ہوتی اور ان کی توبہ قبول نہ ہوئی ہوتی تو نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  مبغوضات الٰہی کی مصاحبت اور مواصلت ہر گز گوارہ نہ فرماتے اور بموجب ایماے حق سبحانہ تعالیٰ ضرور ان بیبیوں کو طلاق دے کر ان سے اچھی بیبیاں ان کے عوض میں اللہ سے لیتے نعمت الٰہی کو باوجود وعدے کے ہر گز ترک و ردنہ فرماتے ۔پس ان بیبیوں کو طلاق نہ دینا اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کاخصوصاً تمام عمر حضرت  صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں رہنا دلیل صریح اس کی ہے کہ وہ بیبیاں جو مفشی راز ہوئی تھیں بلاشک و شبہہ تائب ہوئیں اور ان کی توبہ قبول کر کے اللہ تعالیٰ نے جمیع صفتیں مسلمات و مومنات و قانتات و عابدات وسائحات وغیرہا کی اپنے فضل و کرم سے ان میں جمع کردیں۔

آیت کریمہ :

﴿ وَالطَّيِّبـٰتُ لِلطَّيِّبينَ وَالطَّيِّبونَ لِلطَّيِّبـٰتِ...﴿٢٦﴾... سورة النور

جو خالصتاًنبی  صلی اللہ علیہ وسلم  پر بعد واقعہ سورہ تحریم کے نازل ہوئی اور کسی نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  پر یہ آیت نازل نہ ہوئی جو شخص اس آیت کی تلاوت کے بعد ازواج مطہرات خصوصاً حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   مبشر بہ آیت کریمہ:

﴿ـٰنِساءَ النَّبِىِّ لَستُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّساءِ...﴿٣٢﴾... سورة النساء

کوخباثت اور غیرتائب ہونے کا الزام دے گا، بلاشک و شبہہ وہ شخص خبیث النفس اور بندہ ہویٰ و ہوس ہو گا۔

صرف آیت کریمہ: إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ

میں تامل کرنے سے صاف ظاہر تھا کہ جب اللہ نے خود توبہ کی ہدایت کی اور قبول توبہ اس شرط کی جزا مقدر فرمائی تو ضروروہ حضرات تائب ہوئیں صراحتاً ان کی توبہ کے ذکرکرنے کی کلام میں کوئی  حاجت نہ تھی اور آیت (إِن طَلَّقَكُنَّ)وغیرہاتونص ہے کہ بلاشک ان کی توبہ مقبول ہوکرمراتب و مدارج علیاسے سر فراز ہوئیں ۔

ثانیاً:ظاہر ہے کہ افشاء راز میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کے ذکر صریح سے قرآن ساکت ہے بلکہ ان حضرات کی طرف افشاء راز کی نسبت صریح صرف حدیث کے روسے کی جاتی ہے تو جب حدیث سے ان بیبیوں کا تعین قابل تسلیم سمجھا گیا تو پھر حدیثوں سے اور قابل اعتبار کیوں نہیں سمجھا جائے گا جو اس سوال کے جواب میں نص قرآنی کا ہونا ضروری سمجھاگیا ہے۔بعونہ تعالیٰ اگرچہ حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   کا الزام سے بری ہونامحض قرآن سے ثابت ہو گیا پھر جب اس کا تعین حدیث ہی سے ثابت ہے تو دوسرا جواب حدیث سے لیجئے ۔

صحیحین میں مروی ہے کہ لوگوں نے مشہور کردیا کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنی بیبیوں کو طلاق دی ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے اس خبر کو سن کر نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  سے آکر دریافت کیا آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فر ما یا نہیں ۔حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے عرض کی کہ لوگوں نے مشہور کردیا ہے تو ہم کہہ دیں کہ یہ بات غلط مشہور ہوئی ہے ۔آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اجازت دی اس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجد نبوی کے پاس آکر بآواز بلند پکاردیا کہ حضرت کے طلاق دینے کی خبر غلط مشہور ہے اور آیت کریمہ:

﴿وَإِذا جاءَهُم أَمرٌ مِنَ الأَمنِ أَوِ الخَوفِ أَذاعوا بِهِ وَلَو رَدّوهُ إِلَى الرَّسولِ وَإِلىٰ أُولِى الأَمرِ مِنهُم لَعَلِمَهُ الَّذينَ يَستَنبِطونَهُ مِنهُم ...﴿٨٣﴾... سورة النساء

(اور جب ان کے پاس امن یا خوف کا کوئی معاملہ آتا ہے اسے مشہور کردیتے ہیں اور اگر وہ اسے رسول کی طرف اور اپنے حکم دینے والوں کی طرف لوٹا تے تو وہ لوگ اسے ضرورجان لیتے جوان میں سے اس کا اصل مطلب نکالتے ہیں)نازل ہوئی۔

اسی حدیث میں سورت تحریم کے نزول کا واقعہ مروی ہے کہ جب آیت کریمہ:

﴿يـٰأَيُّهَا النَّبِىُّ قُل لِأَزو‌ٰجِكَ إِن كُنتُنَّ تُرِدنَ الحَيو‌ٰةَ الدُّنيا وَزينَتَها فَتَعالَينَ أُمَتِّعكُنَّ وَأُسَرِّحكُنَّ سَراحًا جَميلًا ﴿٢٨ وَإِن كُنتُنَّ تُرِدنَ اللَّهَ وَرَسولَهُ وَالدّارَ الءاخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلمُحسِنـٰتِ مِنكُنَّ أَجرًا عَظيمًا ﴿٢٩﴾... سورة الاحزاب

نازل ہوئی یعنی اے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  !اپنی بیبیوں سے کہہ دو اگر تم دنیا اور اس کی زینت چاہتی ہوتو ہم تم کو مال و متاع دیں اور اچھی طرح سے تم کو رخصت کریں اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کا گھرچاہتی ہوتو تم محسنات میں سے ہواور بے شک اللہ نے محسنات کے لیے بہت بڑاثواب مہیا کیا ہے۔

اس آیت کریمہ کو سب سے پہلے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا   کوپڑھ کرسنا۔ حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  نے عرض کی کہ ہم نے اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کا گھر قبول کیا پھر اور بیبیوں سے بھی آیت کریمہ تلاوت کرنے کے بعد یہی جواب ملا پس جب ازواج مطہرات رضوان اللہ عنھن  اجمعین خصوصاًجن کا زوجیت میں تمام عمر رہنا یقینی ہے مبشر بہ آیت کریمہ:

﴿نُؤتِها أَجرَها مَرَّتَينِ وَأَعتَدنا لَها رِزقًا كَريمًا ﴿٣١﴾... سورة الاحزاب

(اسے ہم اس کا اجردوباردیں گے اور ہم نے اسکے لیے باعزت رزق تیار کررکھا ہے)اور مشرف بہ آیت کریمہ:

﴿إِنَّما يُريدُ اللَّهُ لِيُذهِبَ عَنكُمُ الرِّجسَ أَهلَ البَيتِ وَيُطَهِّرَكُم تَطهيرًا ﴿٣٣﴾... سورة التحريم

(اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے گندگی دورکردےاے گھروالو!اور تمھیں پاک کردےخوب پاک کرنا) ہیں اور انھوں نے دنیااور زینت دنیا پر لات مار کر اللہ اور رسول اور دارآخرت کو اختیار کیا ہے اور

﴿فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلمُحسِنـٰتِ مِنكُنَّ أَجرًا عَظيمًا ﴿٢٩﴾... سورة الاحزاب

(تم میں سے نیکی کرنے والیوں کے لیے بہت بڑا اجرتیار کر رکھا ہے)

کی خلعت پہنی ہے تو اس سے زیادہ ان کی قبولیت توبہاور ان کے محسنہ ہونے کا ثبوت قرآن و حدیث سے اور کیاہوگا؟

جوشخص نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی بیبیوں کو غیرتائب یا غیر محسنہ سمجھے لاريب خسرالدنيا والأخرةہوگا۔اگر ان بیبیوں نے سچے دل سے اللہ اور رسول دارآخرت کو اختیارنہ کیا ہوتایا کسی فاحشہ مبینہ کی معاذ اللہ حضرت کی زندگی میں مرتکب ہوئی ہوتیں تو ضروراللہ تعالیٰ ان کے حال کی خبراپنے رسول کو دیتا اور ان بیبیوں کو اپنے رسول کی صحبت سے جداکردیتا چنانچہ الفاظ قرآن جو کچھ سورت احزاب میں ہیں صاف صاف اس امر پر دال ہیں جو ادنیٰ تامل سے ہر ذی فہم پر ظاہر ہے تو جب تک قرآن سے یاحدیث صحیح سےاگرچہ شیعوں کے یہاں حدیث صحیح سے یہ ثابت نہ ہو کہ ازواج مطہرات رضوان اللہ عنھن  اجمعین  نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  میں سے کسی بی بی نے بعد آیت کریمہ:

قُل لِّأَزْوَاجِكَکے معاذ اللہ کسی فاحشہ مبینہ کا ارتکاب کیا اور نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنی زوجیت سے اس کو نکال دیا یعنی طلاق دے دی اس وقت تک خیالات باطلہ ایسی مقدس بیبیوں کی نسبت ظاہر کرنا سخت جہالت ہے۔

افسوس ہزار افسوس کہ خیالات باطلہ اور توہمات رکیکہ سے ابرار کی اگر طرف برائیوں کا انتساب کیا جائے ہائے اتنا بھی پیغمبرکا لحاظ نہیں کہ پیغمبر کی بیبیوں کی شان میں یہ تہمت تراشیاں اور اپنے حقیقی عیوب کا تذکرہ اگر کسی سے سنیں تو اس کی جان کے دشمن ہوجائیں نعوذ بالله من الجهل والحمق والكفرالزام ثانی بھی دووجہ سے مدفوع ہے۔

اولاً:اللہ تعالیٰ نے کسی جگہ محمد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی کسی بی بی کے کسی فعل کو بلفظ کفر تعبیر نہیں کیا اور نہ کسی بی بی کی مثال زنان نوح ولوط علیہ السلام   کے ساتھ دی ہے اور بعض بیبیوں نے جو افشاء رازکیا وہ کوئی ایسے امر سے متعلق ہی نہ تھا۔

کہ اس میں کفر کا وہم ہو۔ بات تو یہی تھی جو حدیثوں سے سنی و شیعہ دونوں کے یہاں ثابت ہے کہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   اذن لے کر باپ کے گھر کسی ضرورت سے گئی ہوئی تھیں اور ان کی غیبت میں ان کے فراش پر نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ماریہ قبطیہ اپنی لونڈی کی عزت افزائی کی۔ اسی دوران میں حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   لوٹ کر آگئیں اور اس امر سے مطلع ہوکر انھوں نے بہت کچھ رنج وغیرہ ظاہر کی اور روکرکہنےلگیں کہ میری جگہ پر لونڈی سرفراز کی جائے!!

نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   کی خاطر سے فرمایا کہ ہم نے ماریہ قبطیہ کو حرام کر لیا۔ اس کو کسی پر ظاہر نہ کرنا جس پر آیت کریمہ نازل ہوئی:

﴿يـٰأَيُّهَا النَّبِىُّ لِمَ تُحَرِّمُ...﴿١﴾... سورة التحريم

اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   نے کمال مسرت سے اور بمقضائے اس جبلت کے جو عورتوں میں ہوتی ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   سے کہہ دیا کہ حضرت ماریہ کو اپنے اوپر حرام کرلیا اور نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے منع کرنے کو دنیا کے امور سے سمجھ کر اس کی اطاعت ضروری نہ سمجھا ۔یہ قصور فہم ہوا۔

اس خبر کی شہرت سے حضرت محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  کو رنج ہوا لہٰذا اللہ تعالیٰ نے توبہ کی ہدایت فرمائی اور تہدید کی۔ بعض روایت میں وہ رازیوں مروی ہے کہ حضرت محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  بعض ازواج کے یہاں شہد پیا کرتے تھے اور بیبیوں پر یہ شاق گزرا تو صلاح کر کے حضرت محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  سے ان لوگوں نے یہ بات کہی کہ آپ کے پاس سے مغافیر کی بوآتی ہے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ ہم نے شہد پیا ہے۔اب پھر اس کو نہ پیوں گا اس کو کسی سے ظاہر نہ کرنا جن بی بی سے کہا تھا وہ کمال خوشی سے کہ اب حضرت محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  شہد نہ پینے جائیں گےنہ زیادہ قیام فرمائیں گے۔ نہ ہم لوگوں کو رشک ہوگا دوسری بی بی سے کہہ دیا اس پر آیت مذکورالصدرسورۃتحریم کی نازل ہوئی۔

الحاصل روایت کوئی ہو وہ بات جو ظاہر کی گئی اس کو بیبیوں نے اموردین سے نہ سمجھا اور یہ نہ سوچا کہ حضرت محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  کی بات ظاہر کردینے میں اگر حضرت محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  کو رنج و اذیت ہوگی تو اللہ کا عتاب ہو گا۔ گو بات تو خفیف و حقیر ہے بات محبوب رب قدیر کی ہے ۔آخر اللہ تعالیٰ کو نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی اذیت جو اس بات کے افشاء سے آپ کو پہنچی پسند نہ آئی لہٰذا بیبیوں پر تہدید اور چشم نمائی کردی اور جو کچھ ان آیتوں میں بحث ہے الزام اول کے جواب میں مذکورہے۔اور کہیں اللہ تعالیٰ نے ان بیبیوں کے کفر کی طرف اشارہ کیا ہے اور نہ زنان نوح لوط علیہ السلام   کے ساتھ ان کی مثال دی۔

ثانیاً:معلوم ہوکہ شاید سائل نے تمھیں آیت کریمہ:

﴿ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِلَّذينَ كَفَرُوا امرَأَتَ نوحٍ وَامرَأَتَ لوطٍ كانَتا تَحتَ عَبدَينِ مِن عِبادِنا صـٰلِحَينِ ... ﴿١٠﴾... سورة التحريم

(اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی مثال بیان کی وہ ہمارے بندوں میں سے دونیک بندوں کے نکاح میں تھیں )سےسمجھا ہے کہ یہ آیت بھی اول سورۃ التحریم میں ہے اور اس میں بھی نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  ہی کی عورتوں سے بحث ہے لہٰذا

"الَّذِينَ كَفَرُوا "

کا مصداق معاذاللہ حضرت محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ازواج طیبات کو اور ان کے فعل کو معبربکفرسمجھا ان کی مثال امراۃ نوح و لوط کے ساتھ دی نعوذ باللہ من ذلک۔ حالانکہ سائل اگر اس قدر بھی خیال کرتا کہ یہ آیت آخر سورۃ تحریم میں ہے:

﴿وَإِذ أَسَرَّ النَّبِىُّ إِلىٰ بَعضِ أَزو‌ٰجِهِ... ﴿٣﴾... سورة الحريم

اول سورۃ میں ہے درمیان میں اور امور بحث ہے تو اس کا ذہن اس سوال کی طرف نہ جاتا اور ذی فہم پر تویہ امر بخوبی منکشف ہے کہ:

﴿ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِلَّذينَ كَفَرُوا...﴿١٠﴾... سورة التحريم

سے قبل یہ آیت کریمہ ہے :

﴿يـٰأَيُّهَا النَّبِىُّ جـٰهِدِ الكُفّارَ وَالمُنـٰفِقينَ وَاغلُظ عَلَيهِم وَمَأوىٰهُم جَهَنَّمُ وَبِئسَ المَصيرُ ﴿٩﴾... سورة التحريم

(اے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم !کفاراور منافقین سے جہاد کراور ان پر سختی کر اور ان کی جگہ جہنم ہے اور وہ براٹھکانا ہے)

صریح كَفَرُوا صیغہ جمیع مذکرغائب کا ہے اور الَّذِينَ اسم موصول جمع مذکر کے لیے ہے اس سے وہی کفار اور منافقین مقصود ہیں جن کا ذکر صدر آیت میں ہے زبردستی عورتوں کی طرف وہ بھی عورتیں مومنہ وہ بھی محمد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی بیبیوں کی طرف ضمیر پھیردی جائے تو اس کا کیا علاج ہے؟باقی رہی تمثیل امراۃ نوح اور امراۃ لوط کی اور شاید سائل کو اسی نے دھوکے میں ڈالا ہے تو قطع نظر اس کے کہ ممثل لہ مذکرہے اور"الَّذِينَ كَفَرُوا "مذکر کے لیے ہے اصل مقصود ظاہر کیا جا تا ہے۔

ظاہر یہ ہے کہ پہلے اللہ تعالیٰ نے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کو کفار اور منافقین سے جہاد کا حکم دیا اوراس لیے کہ کفار اور منافقین میں اکثر عزیز و قریب نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے اصحاب کے تھے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلے میں امراۃ نوح اور لوط کی مثال بیان فرمائی کہ قرابت اور معیت نبی کی کافرو منافق کو مفید نہیں جس طرح امراۃ نوح اور  لوط کو نبی کی قرابت اور معیت بوجہ کفر کے مفید نہیں ہوئی اس جگہ عورت کی مثال میں دونکتےہیں۔

اولاً :یہ کہ مرد پر جس قدر بار کفالت زوجہ کا اور اس کو تعلق زوجہ کے ساتھ ہوتاہے اس قدر دوسرے قریب کے ساتھ نہیں ہوتا تو جب زوجہ کافرہ کی زوجیت نبی کے ساتھ کے باوجود بار کفالت و قوت تعلق کے کچھ مفید نہیں تو دوسری قرابت کا تعلق کافر کا نبی کے ساتھ کب مفیدہو گا؟اس کے ساتھ جہاد اور اس کا قتل برتقدیر کفر ہر گز محل تامل نہیں۔

ثانیاً:یہ معلوم ہوتا ہے کہ عورت ناقص العقل اور ناقص الفہم ہوتی ہے اس کی شان سے وقوع خطا اکثری ہےلہٰذاعورت کی گرفت بمقابلہ مرد کے مناسب نہیں ہے لیکن کفرو شرک وہ خطا افحش ہے کہ نبی کی بیبیاں جو اس میں مبتلا ہوئیں توان کو نبی کی زوجیت باوجود عورت اور ناقص العقل ہونے کے کچھ کام نہ آئی دیکھوں امراۃ نوح اور لوط کو پھرجب عورتوں کا یہ حال ہے تو کفار اور منافقین جو رجال ہیں توان کو نبی کی قرابت کب کام آسکتی ہے ان سے ضرور جہاد کرو بلکہ

﴿وَاغلُظ عَلَيهِم وَمَأوىٰهُم جَهَنَّمُ وَبِئسَ المَصيرُ ﴿٩﴾... سورة التحريم

اور جب اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے مثال دی کہ کافر کو نبی یا ولی کی قرابت کام نہیں آتی تو مومن کی قرابت کافر سے مومن کو مضر ہوگی یا نہیں؟تو اس کا بتانا بھی مناسب مقام ہوا لہذا اللہ تعالیٰ نے امراۃ نوح و لوط کے بعد امراۃ فرعون اور حضرت مریم  علیہ السلام   کی مثال مومنین کے لیے دی ۔قال اللہ تعالیٰ ۔

﴿وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِلَّذينَ ءامَنُوا امرَأَتَ فِرعَونَ إِذ قالَت رَبِّ ابنِ لى عِندَكَ بَيتًا فِى الجَنَّةِ وَنَجِّنى مِن فِرعَونَ وَعَمَلِهِ وَنَجِّنى مِنَ القَومِ الظّـٰلِمينَ ﴿١١ وَمَريَمَ ابنَتَ عِمر‌ٰنَ الَّتى أَحصَنَت فَرجَها فَنَفَخنا فيهِ مِن روحِنا وَصَدَّقَت بِكَلِمـٰتِ رَبِّها وَكُتُبِهِ وَكانَت مِنَ القـٰنِتينَ ﴿١٢﴾... سورة التحريم

(اور اللہ نے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے فرعون کی بیوی کی مثال بیان کی جب اس نے کہا اےمیرے رب !میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنااور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے بچا لے اور مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔ اور عمران کی بیٹی مریم کی(مثال دی ہے) جس نے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی تو ہم نے اس میں اپنی ایک روح پھونک دی اور اس نے اپنے رب کی باتوں کی اور اس کی  کتابوں کی تصدیق کی اور وہ اطاعت کرنے والوں میں سے تھی)

حاصل یہ کہ ایمان مضبوط ہونا چاہیے اگر ایمان مضبوط ہے تو نجات ہے جس طرح زن فرعون کہ عورت ہوکر کامل الایمان تھیں تو فرعون کی زوجیت و معیت اور اس کا ظلم ان کے ایمان اور عاقبت کے لیے کچھ بھی مضرنہ ہوا اسی طرح جن لوگوں کا ایمان کامل ہے اگرچہ ان کے عزیز و اقارب کافر ہوں۔لیکن وہ ہر گز اپنے ایسے قرابت مندوں کا لحاظ و خیال نہیں کرتے اور ان کی معیت سے پناہ اور نجات کی دعا کرتے ہیں اس تمثیل سے اچھی طرح واضح ہوگیا کہ جانبین تمثیل میں بصورت تحقق علاقہ زن و مرد ہونے کا اختلاف ہر گز مانع تمثیل نہیں۔

الحاصل دونوں آیتوں میں دونوں مثالیں اس غرض سے دی گئی ہیں کہ کافر اور منافق سے جہاد میں تغافل و تکاسل بہ پاس قرابت نہ ہو اور دونوں مثالوں میں عورت ہی کی مثال دی گئی ۔تاکہ مردوں کو غیرت آئے کہ ایمان میں پاس قرابت کیسا؟کافر باپ ہو اور خدا کی مقرر کی ہوئی شرائط پائی جائیں تو قتل کردو۔اللہ کے دشمن کو زمین پر حتی الامکان نہ چھوڑو اور حضرت مریم  علیہ السلام  کی تمثیل سے اس سورۃ مبارک میں ایک فائدہ عظیم یہ ہے کہ اول سورۃ میں ازواج مطہرات  رضوان اللہ عنھن  اجمعین نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی نسبت چشم نمائی اور ان کی تعلیم ہوئی جس طرح خود نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی بھی تعلیم ہوئی۔

﴿يـٰأَيُّهَا النَّبِىُّ لِمَ تُحَرِّمُ ما أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ ... ﴿١﴾... سورة التحريم

(اے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  !تو کیوں حرام کرتا ہے جو اللہ تیرے لیے حلال کیاہے؟)

تو اس قدر عتاب بھی منافقین کے لیے موجب مضحکہ اور طعن کا نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی بیبیوں کے ساتھ ہواحالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی خطا کو عفو کر کے بڑے بڑے مراتب اور مدارج عنایت فرمائے۔کما سبق ۔تو اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم  علیہ السلام   کی مثل کے ساتھ ازراج مطہرات رضوان اللہ عنھن  اجمعین نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  اور تمام مومنین کو تسکین دی کہ اگر منافقین کچھ مضحکہ و طعن مقدس بیبیوں کی شان میں کر لیں تو صبرمناسب ہے جس طرح حضرت مریم  علیہ السلام   کو ان کی قوم نے  معاذ اللہ زنا کی تہمت دی مگر انھوں نے صبر کیا اور صابر ین و قائتین میں داخل ہوئیں اور کفار و منافقین کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے جہاد اور سختی کا نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کو اس سورۃ میں حکم دیا۔ اگر مخالف کو عقل اور تمیز ہوتو اب سے بھی سنبھل جائیں اور پھر نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی بیبیوں کی شان پاک میں بیہودہ گوئی نہ کریں سوال اول کا جواب تمام ہوا۔

سوال۔ دوم:۔

صحیح مسلم (39  4/2) میں ہے۔

"وروي عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: سمعت رسول الله-صلى الله عليه وسلم- يقول: « لا يذهب الليل والنهار حتى تعبد اللات[1] والعزى، فقلت: يا رسول الله، إن كنت لأظن حين أنزل الله: هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ »1 أن ذلك تام، قال: إنه سيكون من ذلك ما شاء الله ثم يبعث الله ريحا طيبة فتوفى كل من كان في قلبه مثقال حبة من خردل من إيمان، فيبقى من لا خير فيه فيرجعون إلى دين آبائهم"[2]

یعنی دنیا ختم نہ ہوگی اے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا  ! جب تک کہ تم لات و عزی کو نہ پوجو۔کہا اماالمومنین نے اے رسول اللہ !مجھے گمان تھا کہ جو مشرف بہ اسلام ہوارستگارہے۔فرمایا حضرت نے کہ عنقریب میرا گفتہ واقع ہوگا یعنی جس کے قلب میں برابردانہ خردل کے ایمان نہ ہو۔ اگر چہ بظاہر مومن ہو اپنے دین آباء کفار میں داخل ہوتا ہے ۔

یہ حدیث و ترجمہ اس کا مجمع البحرین سے نقل کی گئی ہے۔فقط اس سے صاف پا یا جا تا ہے کہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا  نے لات و عزی کی پرستش کی اور طرف دین کفار کے اپنےکو رجوع کیا۔اگر یہ امر واقع نہ ہوا تو معاذ اللہ پیغمبرخدا پر جھوٹ فرمانا لازم آتا ہے اور اگر بموجب خبر کے صنم پرستی عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا   سے صادر ہوئی تو ان کے کفر میں کیا شک ہے؟فقط۔

جواب۔میں نہیں جانتا کہ صاحب مجمع البحرین کون شخص اور کس پایہ کا آدمی ہے اور اگر سائل کی نقل صحیح ہے اور جو عبارت ترجمہ کی سائل نے نقل کی ہے وہ عبارت درحقیقت صاحب مجمع البحرین کی ہے تو صاحب مجمع البحرین محض ایک سادہ آدمی معلوم ہو تا ہے اس کے ترجمہ کو حدیث سے کچھ تعلق نہیں اور ترجمہ کی صحت تو ایک صیغہ تک نہیں پہچانتا۔

شاید میزان بھی یاد نہیں ہے۔ حدیث کو صیغہ واحد مونث حاضر مضارع معروف اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کو مخاطب اور ضمیر مخاطب کو فاعل سمجھا ہے حالانکہ میزان پڑھنے والا طالب العلم بھی اس صیغہ کو ایسا نہ سمجھتا ۔صیغہ واحد مونث غائب مضارع مجہول کا پڑھتا اور صیغہ واحد مونث حاضر مضارع معروف سمجھنے والے کو ہنستا اور کہتا کہ اگر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   سے خطاب ہوتا اور صیغہ واحد مونث حاضر مضارع معروف کا استعمال مقصود ہو تا تو "تعبدین "اور "ان"مقدرہ بعد "حتی"کے عمل سے نون اعرابی گرکے"تعبدی"پڑھا جاتا۔اب صاحب مجمع البحرین کی غلطی کہاں تک بیان کریں؟

حدیث کا ترجمہ صحیح بیان کردیتے ہیں اس سے ناظرین غلطی سمجھ لیں گےاور سوال کا لغو ہو نا جان جائیں گے۔

ترجمہ:حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   سے روایت ہے میں نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے سنا آپ فرماتے تھے کہ رات اور دن ختم نہ ہو جائے گا جب تک لات و عزی پوجی نہ جائے گی ۔میں نے عرض کیا: یارسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم !میں تو سمجھتی تھی کہ آیت کریمہ:

﴿هُوَ الَّذى أَرسَلَ رَسولَهُ بِالهُدىٰ وَدينِ الحَقِّ لِيُظهِرَهُ عَلَى الدّينِ كُلِّهِ وَلَو كَرِهَ المُشرِكونَ ﴿٣٣﴾... سورة التوبة

جس وقت اتری یہ امر پورا ہونے ولا ہے(یعنی سوائے دین اسلام کے کوئی دوسرا دین نہیں رہے گا اور آکر تک اسلام ہی کو قیام و اثبات رہے گا)آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :ایسا ہو گا جب تک اللہ کو منظور ہے پھر اللہ تعالیٰ ایک خوشبو دار ہوا بھیجے گا جسکی وجہ سے ہر مومن جس کے دل میں دانہ خردل برابر بھی ایمان ہوگا مرجائے گا اور جس میں نہ ہو گا وہی لوگ باقی رہ جائیں گے اور وہ لوگ اپنے باپ داداکے دین پر لوٹ جائیں گے(توجس کے باپ دادالات وعزی پوجنے والے تھے وہ لات و عزی کو پوجنے لگیں گے اور پھر دنیا ختم ہو جائے گی اور قیامت آئے گی۔فقط)

بھلا حدیث سے اور سوال سے کیا واسطہ ہے؟اگر ہم حسب زعم باطل سائل فرض بھی کر لیں کہ وہ صیغہ واحد مونث حاضر مضارع معروف کاہے تو اس وقت حدیث کا مطلب یہ ہو جائے گا کہ اے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا  !جب تک تم لاتو عزی کو نہ پوجوگی اس وقت تک دنیا ختم نہ ہوگی اور وہ زمانہ وہ وقت ہو گا کہ اس وقت سوابت پرست مشرکین کے کوئی مومن زندہ نہ ہوگا تو معاذ اللہ اس سے تنہا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   ہی کابت پرست ہونا لازم نہ آئے بلکہ اکثر اہل بیت اطہاروآئمہ اہل بیت  رحمۃ اللہ علیہ کا بھی بت پرست ہونا لازم آجائے گا کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کاکوئی زمانہ کوئی دن کوئی آن تمام عمر نہ گزراکہ اس وقت میں نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  یا کوئی امام آئمہ اہل بیت اور رجال ونساء اہل بیت میں سے نہ رہا ہو۔ سائل سے کمال تعجب ہے کہ مجمع البحرین کے ایک غلط ترجمے کے بھروسےپر سوال کر بیٹھا یہ بھی نہ سوچا کہ اس حدیث کی راوی خود حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   ہیں وہ کیونکہ ایسی حدیث کو دعویٰ مومنیت کے ساتھ اعلان کرتیں ۔ضرورصاحب مجمع البحرین سے حدیث کے سمجھنے میں غلطی فاحش ہوئی ہے یا نقل ہی صحیح نہ ہو۔

سوال۔ سوم:۔

بخاری (160/5)میں ہے۔

"قال النبي صلي الله عليه وسلم خطيبا فاشار نحو مسكن عائشة فقال ههنا ثلاثا من حيث يطلع قرن الشيطان"

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے طرف خانہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   کے تین بار کہ اس جگہ شاخ ابلیس کی ہے یہ حدیث ترجمہ مجمع البحرین سے لکھا گیا ہے اس حدیث سے صاف پا یا جاتا ہے کہ اس گھر میں ضلالت بھری ہوئی تھی۔اور یہاں پر شاخ ابلیس سے کیا مراد ہے اور سخت تردوکا مقام ہے کہ جس گھر میں شاخ ابلیس ہو وہاں پیوستہ پیغمبر خدا کی اوقات بسر ہو در بعد رحلت کے وہی خانہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   مدفن پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم  ہو۔ فقط

جواب۔اس حدیث میں لفظ"فتنہ "و"قام"کا سائل نے شاید غلطی سے نہیں لکھا ورنہ لفظ حدیث کا یوں ہے۔

نافع عن عبد الله رضي الله عنه قال قام النبي صلى الله عليه وسلم خطيبا فأشار نحو مسكن عائشة فقال هنا الفتنة ثلاثا من حيث يطلع قرن الشيطان[3] 

نافع رحمۃ اللہ علیہ  عبد اللہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت کرتے ہیں۔ انھوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے کھڑے ہوکر خطاب کیا اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   کے گھر کی طرف تین بار اشارہ کر کے فرمایا:یہاں فتنہ ہوگا جہاں سے شیطان کا سینگ (شاخ )نکلے گا۔

اس حدیث میں قرآن ابلیس سے وہی مراد ہے جو سائل نے سمجھا ہے یعنی ضلالت و فتنہ باقی رہاحدیث کا مطلب تو اس حدیث میں ظاہر اًتین احتمال ہیں۔

احتمال اول یہ ہے کہ طلوع ہونا قرن ابلیس کا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   کے گھر سے مراد ہے۔

احتمال ثانی یہ ہے کہ قرن ابلیس سے معاذ اللہ صاحب خانہ یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   کی ذات مراد ہے۔

احتمال ثالث یہ ہے کہ طلوع ہونا قرن ابلیس کا اس جانب سے مراد ہے جس جانب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   کا ممکن تھا اور وہ مشرق کی طرف تھا یعنی مشرق کی جانب سے فتنہ اٹھے گا۔

احتمال اول تو صریح باطل ہے جو سائل کے نزدیک بھی محل تردوہے چوں کفر از کعبہ بر خیز دکجاماند مسلمانی اور پھر باوجود اور احتمالات کے اس احتمال کو متعین کر کے ناحق تردواور گمراہی میں کیوں پڑے ؟

احتمال ثانی کے یقین پر باوجود احتمال ثالث کے کوئی دلیل نہیں خصوصاً یہ احتمال احتمال اول سے بھی زیادہ تردو میں ڈالتا ہے اور مومن کی شان سے بہت بعید ہے کہ اس احتمال کو متعین کرے اور کیونکر اس احتمال کو کوئی مومن متعین کر سکتا ہے کہ اس میں صریح اہانت نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی ہوتی ہے۔

اگر یہ احتمال فی الوقع صحیح ہوتا تو بعد علم کے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  ایسی زوجہ کی صحبت ایک آن کے لیے بھی گوارانہ کرتے چہ جائیکہ اور کثرت صحبت و محبت کی ہواور تمام صحابہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   کی ضلالت و فتنہ کا شعور ہو جاتا خصوصاًراوی اس حدیث کے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کبھی اکرام اور احترام حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   کا نہ کرتے اور ان کے فضائل اور مناقب مشہور نہ کرتے کیونکہ ان کے مناقب اور اس احتمال ثانی میں بہت بڑا تعارض اور تضاد ہے تو باوجود ان قباحتوں کے اور احتمال ثالث کے ہوتے ہوئے کسی مومن کا کام نہیں کہ احتمال ثانی کو متعین کر لے اور جب احتمال ثانی بھی کسی طرح متعین نہیں ہو سکتاتو لامحالہ احتمال ثالث متعین ہوا اوراس حدیث کے روسے کسی اعتراض یا خدشہ اور شہبہ کرنے کی جگہ باقی نہ رہی اور قطع نظر اس بحث کے احتمال ثالث کا تعین دلیل سے ثابت ہے۔

اولاًیہ کہ "نحومسکن عاشیہ"لفظ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا نہیں ہے بلکہ یہ لفظ راوی کا یعنی عبد اللہ بن عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا ہے جو کلمہ "ھنا"کی شرح میں مذکورہوا ہے اور یہی عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے اس واقعہ کی دوسری روایت میں اس کلمہ "ھنا"کی شرح میں یہ عبارت فرماتے ہیں۔

اومي بيده نحو المشرق-[4] (کنا رواہ مسلم)

(آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے) اپنے ہاتھ کے ساتھ مشرق کی طرف اشارہ کیا) خود بخاری نے کتاب الفتن میں انھیں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی واقعہ میں یہ حدیث مرفوع روایت کی ہے

وهو مستقبل المشرق، يقول: ألا إن الفتنة هاهنا من حيث يطلع قرن الشيطان[5]

(عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کو مشرق کی طرف منہ کر کے یہ کہتے ہوئے سنا: خبردار!یہاں سے فتنہ اٹھے گا جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا)

مسکن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   کا اس وقت رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم سے یورپ ہی طرف تھا چنانچہ قسطلانی شرح بخاری میں لکھتے ہیں۔

فأشار نحو مسكن عائشة  اي  هنا فقال هنا  اي  جانب المشرق[6]

 (پس (آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے) مسکن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   کی طرف یعنی یہاں کہہ  کر اشارہ کیا اور فرمایا : یہاں سے یعنی جانب مشرق سے) اس تحقیق سے اور ان تینوں روایتوں کے ملانے سے"کالشمس فی نصف النھار"روشن ہوگیا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقصود "ھنا"کی شرح میں جانب مشرق کی تعیین ہے نہ کہ تعیین مسکن عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   بخصوصہ ۔کسی سے"نحو المشرق "کسی سے"وھومستقبل المشرق "فرمایا ،کسی سے"نحو مسکن عائشہ "بھی سہی کیونکہ مسکن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   مشرق کی جانب تھا غرض کہ الفاظ تین ہیں اور مقصود واحد یعنی جانب مشرق سے فتنہ اور قرن ابلیس کا ظہور ہو گا۔

ثانیاً :ظہور فتنہ قرن ابلیس جانب مشرق میں جس مقام سے ہو گا دوسری حدیث مرفوع سے وہ مقام بھی متعین ہے۔یعنی نجد جو مدینے سے جانب مشرق ہے بخاری نے کتاب الفتن میں انھیں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت کی ہے ۔

"عَنْ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما قَالَ : ( اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَأْمِنَا وفِي يَمَنِنَا . قَالُوا : وَفِي نَجْدِنَا ؟ قَالَ : اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَأْمِنَا وفِي يَمَنِنَا . قَالُوا : وَفِي نَجْدِنَا ؟ قَالَ : هُنَاكَ الزَّلاَزِلُ وَالْفِتَنُ ، وَبِهَا يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ"[7]

 (نافع  رحمۃ اللہ علیہ  ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انھوں نے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ذکر فرمایا :اے اللہ !ہمارے شام میں برکت فرما۔ ہمارے یمن میں برکت فرما۔ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی ۔اے اللہ کے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم !ہمارے نجد میں؟آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فر ما یا : اے اللہ ہمارے شام میں برکت فرما۔اے اللہ!ہمارے یمن میں برکت فرما۔انھوں نے عرض کی ۔اے اللہ کے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم !ہمارے نجد میں؟ میرا خیال ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے تیسری مرتبہ فرمایا: وہاں زلزلے اور فتنے ہوں گے اور شیطان  کا سینگ وہیں سے طلوع ہو گا)شرح قسطلانی میں ہے

"نجد بفتح النون وسكون الجيم قال الخطابي نجد من جهة المشرق ومن كان بالمدينة كان نجده بادية القراق ونواحيها وهي شرق اهل المدينة "[8]

("نجد "نون کی زبر اور جیم کی سکون کے ساتھ ہے امام خطابی  رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا :نجد مشرق کی جانب ہے جو شخص مدینے میں ہو اس کا نجد بادیہ عراق اور اس کے نواحی میں آتا ہے اور وہ اہل مدینہ کا مشرقی حصہ ہی بنتا ہےاب بعد ان دلائل ساطعہ و براہین قاطعہ کے احتمال ثالث اچھی طرح متعین ہوگیا ولامحذورفیہ۔

سوال چہارم:۔

جناب پیغمبر خدا  صلی اللہ علیہ وسلم  نے حفصہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا   کو بعد افشاء راز کے طلاق دیا اور طلاق عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   بدست علی سپرد کیا چنانچہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بعد جنگ جمل کے بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کو طلاق دیا اور زوجیت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم  خدا سے خارج کردیا؟

جواب۔یہ محض غلط اور بے اصل بات ہے۔ اگر دعوی ہے تو کسی کتاب معتبر کی روایت صحیح سے عام اس سے کہ وہ کتاب سنی کی ہو یا شیعہ کی ثابت کیا جائے اور اس دعوے کا جھوٹا اور اس قول کا اتہام محض ہونا اس شخص پر ظاہر ہو گا جس نے فریقین کی کتب معتبرہ اور روایات صحیحہ میں نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے مرض الموت اور وفات کاواقعہ دیکھا  ہوگا اور صحابہ کی روایات ازواج مطہرات خصوصاً حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا  و حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   و اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا  وغیرہن سے دیکھی ہوگی۔اور اس سوال کے واضع سے سخت تعجب ہے کہ اس نے یہ خیال نہیں کیا کہ کہیں قرآن و حدیث سے یہ مسئلہ ثابت ہے کہ زوج کی موت کے بعد زوجہ مطلقہ ہو؟

سوال پنجم:۔

تعجب اور افسوس کا مقام ہے کہ شیخین  رحمۃ اللہ علیہ  کو پہلو ے مبارک میں جناب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم  کے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   نے دفن ہونے دیا اور ان کے فرزندامام حسن کو اپنے جدا امجد کے پہلو میں دفن ہونے سے باز رکھا بلکہ لاش حسن  رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر اس قدر تیر باران کیا کہ کئی تیران کی کفن میں چسپاں ہوگئے ۔اگر عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا   کو دعویٰ ملک تھا تو اس کا ثبوت کافی ہونا چاہیے اور اگر ترکہ کا زعم تھا تو عباس عم رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  اور فاطمہ زہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   کا بھی اس مکان میں ترکہ تھا۔

جواب۔بروے تعجب اور افسوس کا تو یہ مقام ہے کہ ناحق دین و دنیا برباد اور خراب کرنے کو کیوں مقدس لوگوں پر تہمتیں وضع کی جاتی ہیں ؟کسی روایت صحیحہ قابل الاعتماد میں نہیں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   نے حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کو دفن ہونے نہ دیا اور اس قدر تیرباران کیا کہ کئی تیر کفن حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ  میں چسپاں ہوگئے۔نعوذ باللہ من ہذہ التہمہ![9]

جہاں تک بات ہے وہ صرف مروان کا مفسد ہ اور فتنہ ہے اور جب حضرت ام المومنین  رضی اللہ تعالیٰ عنہا   اس تہمت سے بری ہیں تو پھر اس بحث کی ضرورت باقی نہیں رہی کہ اس مکان میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   کو دعویٰ رواثت تھا یا دعویٰ ملک ۔نفس الامرتو یہ ہے کہ دعویٰ وراثت آپ کو تھا ہی نہیں کیونکہ آپ خود حدیث حضرت محمد  صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ کے ترکہ کاکوئی وارث نہیں ہے۔ بلکہ صدقہ ہے باقی آپ کی ملک ہونے میں شبہہ نہیں۔سوال سوم کی حدیث جس میں "نحومسکن عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا  "مروی ہے اس میں ظاہر ہے اور اگر وہ مکان آپ کی ملک نہ تھا تو حضرت شیخین یا حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ  آپ سے اپنے دفن ہونے کی اجازت کیوں طلب کرتے؟فقط بعونہ تعالیٰ ۔پانچواں سوالوں کے جواب شافی تمام ہوگئے۔(حررہ : محمد رشید غازیپوری عفی عنہ)


[1]۔ اصل سوال میں ایسے ہی مرقم ہے۔

[2] ۔صحیح مسلم رقم الحدیث(2907)

[3] ۔صحیح البخاری رقم الحدیث (2937)

[4] ۔ صحیح مسلم رقم الحدیث (2905۔)

[5] ۔ صحیح البخاری رقم الحدیث (6680۔) صحیح مسلم رقم الحدیث (2905۔)

[6] ۔ارشاد الساری للقسطلانی(198/5)

[7] ۔صحیح البخاری رقم الحدیث (9681)

[8] ۔ارشاد الساری(19/189)

[9] ۔اس کی تفصیل سیرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   (ص144۔141)مصنفہ سید سلیمان ندوی میں دیکھنی چاہیے (عبدالسمیع غفرلہ)

 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 04

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ