سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(320) ہوٹلوں میں منعقد تقریبات میں شرکت

  • 22753
  • تاریخ اشاعت : 2017-09-20
  • مشاہدات : 114

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا شادی بیاہ کی تقریبات ہوٹلوں اور شادی گھروں میں منعقد کی جا سکتی ہیں کتاب و سنت کی رو سے صحیح راہنمائی کریں۔


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا شادی بیاہ کی تقریبات ہوٹلوں اور شادی گھروں میں منعقد کی جا سکتی ہیں کتاب و سنت کی رو سے صحیح راہنمائی کریں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عصر حاضر میں شادی بیاہ کی اکثر تقریبات ہوٹلز اور شادی گھروں میں منعقد کی جاتی ہیں اور ان تقریبات میں بےشمار قباحتیں موجود ہوتی ہیں جیسا کہ

1۔ اکثر مقامات پر دیکھا گیا ہے کہ مرد و زن کا اختلاط بہت زیادہ ہوتا ہے۔ آزادانہ طریقے سے خواتین مردوں میں گھوم رہی ہوتی ہیں اور اسلامی حجاب کو ترک کر کے گلوں میں دوپٹے ڈال کر پھرتی ہیں بلکہ کئی خواتین ایسے غیر شرعی لباس میں ملبوس ہوتی ہیں کہ شرم و حیاء بالائے طاق ہوتی ہے۔

2۔ ایسی تقریبات فضول خرچی اور غیر ضروری اخراجات کا باعث بنتی ہیں جبکہ فضول خرچی شرعی طور پر درست نہیں قرآن حکیم میں فضول خرچ افراد کو شیطان کا بھائی قرار دیا گیا ہے۔

3۔ اکثر تقریبات میں ویڈیو بنائی جاتی ہے جس میں غیر محرم مرد غیر محرم بیبیوں کی تصاویر اتارتے ہیں جو کہ شرعا حرام ہے۔

جہاں ایسی اخلاق باختہ اور حیا سوز اشیاء موجود ہوں تو وہاں تقریبات منعقد کرنے سے گریز کیا جائے اور اگر مذکورہ قباحتیں موجود نہ ہوں اور نہ ہی کوئی اور غیر شرعی حرکت ہو وہاں پر ایسی تقریبات اگر منعقد کی جائیں تو کوئی حرج نہیں۔ آج کل اکثر گھروں میں جگہ اتنی کم ہوتی ہے کہ دعوت ولیمہ پر بلائے گئے افراد کے لئے ناکام ثابت ہوتی ہے جس کی وجہ سے ہوٹل وغیرہ کا انتظام لوگ کرتے ہیں۔ بہرکیف بوقت ضرورت ایسی اشیاء سے شرعی حدود میں رہتے ہوئے فائدہ اٹھانا بالکل صحیح اور درست ہے۔

 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

تفہیمِ دین

کتاب الادب،صفحہ:407

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ