سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(266) دم کر کے کتابیں فروخت کرنا

  • 22699
  • تاریخ اشاعت : 2017-09-19
  • مشاہدات : 86

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

دم کر کے اگر کوئی دعاؤں وغیرہ کی کتابیں پاس رکھی ہوئی ہوں اور جس کو دم کیا ہو اس کو کہا جائے کہ یہ کتابیں خرید کر تقسیم کر دیں تو کیا یہ جائز ہے۔ (ایک سائل)


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

دم کر کے اگر کوئی دعاؤں وغیرہ کی کتابیں پاس رکھی ہوئی ہوں اور جس کو دم کیا ہو اس کو کہا جائے کہ یہ کتابیں خرید کر تقسیم کر دیں تو کیا یہ جائز ہے۔ (ایک سائل)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شرکیہ دم کے علاوہ باقی دم تو بالکل جائز ہے اور درست ہے ایسے دم کرنے میں تو کوئی حرج نہیں جیسا کہ صحیح مسلم میں موجود ہے رہا دینی کتب کی فروخت و خرید یا کسی صاحب استطاعت کو توجہ دلانا کہ وہ دینی کتب خرید کر لوگوں میں تقسیم کر دے یہ امور خیر سے ہے اور نیکی کے کاموں میں تعاون ہے جو بالکل جائز و درست ہے۔ البتہ یہ لحاظ ضرور رکھا جائے کہ جو کتاب تقسیم کے لیے کہی جائے وہ کتاب و سنت کی دعوت پر مبنی ہو اس میں کتاب و سنت کے خلاف کوئی مواد نہ ہو اور دم بھی بالکل جائز تحریر ہوں، شرکیہ دم نہ ہوں۔

 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

تفہیمِ دین

کتاب البیوع،صفحہ:349

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ