سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(599) قبروں کی زیارت کے آداب اور عورتوں کے لئے حکم

  • 2267
  • تاریخ اشاعت : 2024-04-16
  • مشاہدات : 3372

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قبرستان جانے کے کیا آداب ہیں؟ اور کیا عورت قبرستان جا سکتی ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عبرت حاصل كرنے اور آخرت كو ياد ركھنے كے ليے قبروں كى زيارت كرنا مشروع ہے، ليكن شرط يہ ہے كہ وہ قبروں كى زيارت كرتے وقت وہ ايسے كلمات نہ كہے جو اللہ سبحانہ وتعالى كو ناراض كردے، مثلا اللہ تعالى كے علاوہ قبر ميں دفن شدہ سے مانگنا اور اسے پكارنا، اور اس سے مدد طلب كرنا، يا اس كا تزكيہ كرنا، اور اسے يقينا جنتى قرار دينا, وغيرہ.

قبروں كى زيارت كا مقصد دو چيزيں ہيں:

ا ۔: زيارت كرنے والا شخص موت اور فوت شدگان كو ياد كركے فائدہ حاصل كرنا، اور يہ ياد كرتا ہے كہ ان فوت شدگان كا ٹھكانہ يا تو جنت ہے يا جہنم، اور قبروں كى زيارت كا پہلا اور بنيادى مقصد يہى ہے.

ب ۔: زيارت كرنے والے شخص كے سلام اور اس كے احسان اور اس كے ليے دعائے استغفار كى بنا پر ميت كو فائدہ ہوتا ہے، اور يہ مسلمان كے ساتھ خاص ہيں، اور وہاں كى جانے والى دعاؤں ميں سے كچھ يہ ہيں:

«السلام عليكم أهل الديار من المؤمنين والمسلمين ، وإن شاء الله بكم لاحقون ، أسأل الله لنا ولكم العافية »

اے اس گھر والے مومنو اورمسلمانو تم پر سلامتى ہو، اور يقينا ہم بھى تم سے ملنے والے ہيں، ميں اپنے اور تمہارے ليے عافيت كا طلبگار ہوں"

اور وہاں دعا كرتے وقت ہاتھ اٹھانے بھى جائز ہيں، اس كى دليل عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كى مندرجہ ذيل حديث ہے:

وہ بيان كرتى ہيں كہ:

«خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات ليلة ، فأرسلت بريرة في أثره لتنظر أين ذهب ، قالت : فسلك نحو بقيع الغرقد ، فوقف في أدنى البقيع ثم رفع يديه ، ثم انصرف ، فرجعت إلى بريرة ، فأخبرتني ، فلما أصبحت سألته ، فقلت ، يا رسول الله أين خرجت الليلة ؟ قال : ( بعثت إلى أهل البقيع لأصلي عليهم »

" ايک رات رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم باہر نكل گئے تو ميں نے بريرہ رضى اللہ تعالى عنہا كو ان كے پيچھےروانہ كيا كہ ديكھے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كہاں تشريف لے گئے ہيں، وہ كہتى ہيں:

رسول كريم صلى اللہ عليہ قبرستان بقيع الغرقد كى جانب تشريف لے گئے اور بقيع ميں كھڑے ہو كر ہاتھ اٹھائے، اور پھر بريرہ ميرے پاس واپس پلٹ آئى اور مجھے بتايا، جب صبح ہوئى تو ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے عرض كيا: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم رات آپ كہاں نكل گئے تھے؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" مجھے اہل بقيع كے ليے دعا كرنے كےليے بھيجا گيا تھا"

ليكن وہ دعا كرتے وقت قبروں كى طرف رخ نہ كرے بلكہ دعا كے وقت قبلہ رخ ہو كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے قبروں كى جانب رخ كر كے نماز ادا كرنے سے منع فرمايا ہے، اور دعا نماز كا مغز اور گودا ہے، جيسا كہ معروف ہے، لھذا اس كا حكم بھى وہى ہوگا، اور پھر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

«الدعاء هو العبادة ) ، ثم قرأ : ( وقال ربكم ادعوني أستجب لكم »

" دعا ہى عبادت ہے" اور پھر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے يہ آيت تلاوت فرمائى:

﴿ اور تمہارے رب كا فرمان ہے تم مجھے پكارو ميں تمہارى دعا قبول كرونگا﴾.

اور نہ ہى وہ مسلمانوں كى قبروں كے درميان جوتوں سميت چلے.

عقبہ بن عامر رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

«لأن أمشي على جمرة أو سيف ، أو أخصف نعلي برجلي ، أحب إلي من أن أمشي على قبر مسلم ، وما أبالي أوسط القبور قضيت حاجتي أو وسط السوق» رواه ابن ماجه ( 1567 ) .

" مجھے انگارے يا تلوار پر چلنا، يا اپنا جوتا اپنى ٹانگوں كے ساتھ باندھ لينا مسلمان كى قبر پر چلنے سے زيادہ محبوب ہے، اور مجھے يہ پرواہ نہيں كہ ميں اپنى حاجت قبروں كےدرميان پورى كروں يا بازار كے درميان"

اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ ہمارے اور مسلمانوں كے فوت شدگان كو عافيت سے نوازے اور ان پر رحمتيں نازل كرے.

من مختصر أحكام الجنائز للألباني بتصرف]

عورتوں کے لئے قبرستان جانا حرام اور ممنوع ہے،نبی کریم نے فرمایا:

«لعن الله زوارات القبور. صححه الألباني»

قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر اللہ لعنت فرمائے۔

مذكورہ حديث كى بنا پر صحيح تو يہى ہے كہ عورتوں كے ليے قبروں كى زيارت كرنا جائز نہيں، ، لھذا عورتوں پر واجب ہے كہ وہ قبروں كى زيارت كرنا چھوڑ ديں، اور جس عورت نے جہالت اور لاعلمى ميں قبر كى زيارت كى لى تو اس پر كوئى حرج نہيں، اب اسے چاہيے كہ وہ آئندہ ايسا نہ كرے، اور اگر اس نے ايسا كيا تو اسے توبہ و استغفار كرنا ہو گى، اور توبہ پہلےگناہ ختم كرديتى ہے.

لھذا قبروں كى زيارت مردوں كے ساتھ خاص ہے، نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

«كنت نهيتكم عن زيارة القبور فزوروها فإنها تذكر بالآخرة. رواه مسلم»

میں نے تمہیں قبروں كى زيارت سے منع کیا تھا اب تم ان کی زیارت كيا كرو، كيونكہ يہ تمہيں آخرت ياد دلاتى ہے"

شروع اسلام ميں مردوں اور عورتوں دونوں كے ليے قبروں كى زيارت كرنا ممنوع تھى، كيونكہ مسلمان ابھى نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اور وہ جاہليت ميں فوت شدگان كى عبادت كيا كرتے تھے، اور ان كے ساتھ متعلق تھے تو شر كے سد ذريعہ اور شركيہ مادہ كو ختم كرنے كے ليے قبروں كى زيارت كرنا ممنوع قرار دے ديا گيا، اور جب اسلام نے استقرار حاصل كر ليا اور مسلمانوں نے شريعت اسلاميہ كو سمجھ ليا تو اللہ تعالى نے ان كے ليے قبروں كى زيارت مشروع كردى، كيونكہ زيارت كرنے ميں عبرت و نصيحت اور موت اور آخرت كى ياد آتى ہے، اور فوت شدگان كے ليے دعائے استغفار اور ان كے ليے رحم كى دعا كى جاتى ہے.

پھر اللہ سبحانہ وتعالى نے عورتوں كو زيارت كرنے سے منع كر ديا، علماء كرام كا صحيح قول يہى ہے، كيونكہ مرد فتنے ميں پڑجاتے ہيں، اور ہو سكتا ہے وہ خود بھى فتنے ميں پڑ جائيں، اور اس ليے انہيں زيارت سے منع كيا گيا ہے كہ ان ميں صبر و تحمل بہت كم ہوتا ہے، اور وہ بہت زيادہ جزع فزع كرتى ہيں، تو اللہ تعالى نے ان پر رحمت اور احسان كرتے ہوئے ان پر قبروں كى زيارت حرام كردى.

اور پھر اس ميں مردوں كے ليے بھى احسان ہے، كيونكہ قبر كے پاس سب كا جمع ہونے سے ہو سكتا ہے فتنہ كا باعث بنے، تو يہ اللہ تعالى كى رحمت ہے كہ انہيں قبروں كى زيارت سے منع كر ديا گيا.

ليكن نماز جنازہ ادا كرنے ميں كوئى حرج نہيں، لھذا عورتيں نماز جنازہ ادا كر سكتى ہيں، صرف انہيں قبروں كى زيارت كرنے سے منع كيا گيا، لھذا ممانعت پر دلالت كرنے والى احاديث كى بنا پر علماء كرام كے صحيح قول كے مطابق عورت كے ليے قبر كى زيارت كرنا جائز نہيں، اور اس پركوئى كفارہ نہيں بلكہ وہ صرف توبہ كرے.

مجموع فتاوى و مقالات متنوعۃ فضيلۃ الشيخ عبد العزيز بن عبد اللہ بن باز رحمہ اللہ ( 9 / 28 )

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ