سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(231) بچوں کی نگہداشت کی ذمہ داری

  • 22664
  • تاریخ اشاعت : 2017-09-19
  • مشاہدات : 66

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا گھریلو اخراجات اور اولاد کے نان و نفقہ کی ذمہ داری عورت پر ہے یا مرد پر؟ (ابو عائشہ، لاہور)


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا گھریلو اخراجات اور اولاد کے نان و نفقہ کی ذمہ داری عورت پر ہے یا مرد پر؟ (ابو عائشہ، لاہور)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عورت کے نان و نفقہ کی ذمہ داری اللہ نے مرد پر ڈالی ہے عورت اگرچہ مال دار ہی کیوں نہ ہو وہ گھر کے اخراجات کی ذمہ دار نہیں ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے "مرد عورتوں پر حاکم ہیں اس وجہ سے کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس بنا پر بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں"۔ (النساء: 34)

اس آیت کریمہ میں مرد کو دو وجہ سے حاکم قرار دیا گیا ہے۔

(1) وھبی فضیلت: کہ اللہ نے مرد کو فطری طور پر ہی ایسا بنایا ہے کہ اسے عورت پر درجہ و مقام حاصل ہے۔

(2) کسبی فضیلت: کہ مرد اپنا مال و متاع خرچ کرتا ہے، اس مال کے خرچ کرنے کی وجہ سے بھی مرد کو عورت پر برتری حاصل ہے، دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے "عورت کا کھانا اور کپڑا عرف کے مطابق دینا بچے کے باپ پر فرض ہے"۔ (البقرۃ: 233)

ان دو آیات کریمہ سے واضح ہوا کہ مال خرچ کرنا، کھانا اور لباس فراہم کرنا مرد کی ذمہ داری ہے اولاد کے باپ کا حق ہے کہ وہ بچوں کی ماں کو کھانا اور کپڑا لا کر دے، ہر مرد کی آمدنی کے لحاظ سے خرچ کا تعین کیا جائے گا اگر مرد کے پاس اسباب و ذرائع زیادہ ہیں تو اس کا حق ہے کہ وہ اپنی دولت کے لحاظ سے عورت کو بھی سہولت پہنچائے اور جس طرح کا کھانا پینا اور لباس خود رکھتا ہے بیوی کو بھی اسی حساب سے دے اور اگر کوئی مرد تنگ دست ہے تو وہ اپنی آمدن کے لحاظ سے خرچ کرے گا بہرصورت نان و نفقہ کی ذمہ داری اللہ نے مرد کے کندھوں پر ڈالی ہے، عورت کا یہ حق نہیں کہ وہ گھر کے اخراجات برداشت کرنے کے لئے نوکری و جاب تلاش کرے اس کا حق ہے کہ گھر کی چار دیواری میں خاوند کی خدمت، گھر کی نگرانی اور بچوں کی نگہداشت کرے۔ دفاتر، بازار، کارخانہ و فیکٹری، ہوٹلز و ریسٹورنٹ وغیرہما کی زینت نہ بنے۔

 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

تفہیمِ دین

کتاب النکاح،صفحہ:301

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ