سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(192) عورتوں کا گھر میں اعتکاف

  • 22625
  • تاریخ اشاعت : 2017-09-19
  • مشاہدات : 214

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

نماز ایک عبادت ہے جو کہ عورت گھر میں ادا کر سکتی ہے تو پھر عورت گھر میں اعتکاف کیوں نہیں کر سکتی جبکہ یہ بھی عبادت ہے اور قرآن میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے مردوں کے لئے کہ "اور نہ ملو اپنی عورتوں سے اور تم اعتکاف کرنے والے ہو مسجدوں میں"۔ (ایک سائلہ، فیصل آباد)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہمارے لئے حجت اللہ کی شریعت ہے اور شریعت قرآن و حدیث کا نام ہے عبادت کے احکامات وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائے ہیں عورت کے لئے گھر میں نماز ادا کرنے کے متعلق شرعی نصوص موجود ہیں جبکہ اعتکاف بیٹھنے کے لئے کوئی دلیل موجود نہیں قرآن حکیم نے بھی اعتکاف کا محل مساجد ذکر کیا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں عورتیں مسجد میں بھی اعتکاف بیٹھا کرتی تھیں۔ کسی بھی صحیح دلیل سے یہ ثابت نہیں کہ عورتوں کے لئے مسجد کی بجائے گھر کو جائے اعتکاف قرار دیا گیا ہو لہذا ہمیں اپنی طرف سے احکامات گھڑنے کی بجائے شریعت کے نصوص کو دیکھنا چاہیے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

تفہیمِ دین

کتاب الصیام،صفحہ:248

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ