سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(588) خاوند کو بتائے بغیر صدقہ کرنا

  • 2256
  • تاریخ اشاعت : 2012-12-17
  • مشاہدات : 770

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ميرا خاوند اپنى سارى تنخواہ مجھے لا كر ديتا ہے تا كہ ميں جس طرح چاہوں اسے خرچ كروں، كيا ميرے ليے اس كى اجازت كے بغير صدقہ و خيرات كرنا جائز ہے، یاد رہے كہ اگر اسے علم ہو جائے تو وہ خوش اور راضى ہو گا ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر بيوى كو علم ہو كہ اس کا خاوند ايسا كرنے سے راضى ہو گا تو اس كے ليے خاوند كے مال سے صدقہ و خيرات كرنے ميں كوئى حرج نہيں ہے ، اور عورت اتنا صدقہ و خيرات كرسکتی ہے جس كے متعلق اسے علم ہو كہ اس کا خاوند اس پر ناراض نہیں ہو گا، ليكن زيادہ مال صدقہ و خيرات كرنے كے ليے خاوند كى اجازت لينا ضرورى ہے.

سیدہ عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ رسول كريمﷺ نے فرمايا:

(إِذَا أَنفَقَتِ المَرأَةُ مِن بَيْتِ زَوجِهَا غَيرَ مُفسِدَةٍ ، كَانَ لَهَا أَجْرُهَا ، وَلَهُ مِثلُهُ بِمَا اكتَسَبَ ، وَلَهَا بِمَا أَنفَقَت ، وَلِلخَازِنِ مِثلُ ذَلِكَ ، مِن غَيرِ أَن يَنتَقِصَ مِن أُجُورِهِم شَيئًا) البخاري (1425) ومسلم (1024) .

" اگر عورت بغير كسى خرابى كے خاوند كے گھر سے خرچ ( صدقہ ) كرتى ہے تو اسے اس كا اجر وثواب حاصل ہو گا، اور اس كے خاوند كو بھى كمائى كا اجر وثواب اور بيوى كو جو خرچ كيا ہے كا اجر وثواب ملےگا، اور خزانچى كو بھى اسى طرح اجر حاصل ہوگا، ان كے اجر وثواب ميں كسى قسم كى كوئى كمى نہيں كى جائيگى "

سیدہ اسماء رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ وہ نبى كريمﷺ كے پاس آئيں اور عرض كيا:

( يَا نَبِيَّ اللهِ ، لَيسَ لِي شَيْءٌ إِلَّا مَا أَدخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيرُ ، فَهَل عَلَيَّ جُنَاحٌ أَن أَرضَخَ مِمَّا يُدخِلُ عَلَيَّ ؟ فَقَالَ: إِرضَخِي مَا استَطَعتِ ، وَلا تُوعِي فَيُوعِيَ اللهُ عَلَيكِ) رواه البخاري (1434) ومسلم (1029).

" اے اللہ كے نبىﷺ ميرے پاس وہى كچھ ہوتا ہے جو مجھے زبير﷜ ديں، تو كيا اگر ميں تھوڑا سا كسى كو دے دوں جو زبير مجھے ديتا ہے تو مجھے كوئى گناہ تو نہيں ہوگا ؟

نبى كريمﷺ نے فرمايا:

" تم حسب استطاعت خرچ كيا كرو، اور جمع كر كے مت ركھو ،ورنہ اللہ بھى تم پر روزى تنگ كر دے گا "

اور امام نووى رحمہ اللہ مسلم كى شرح ميں لكھتے ہيں:

اجازت كى دو قسمیں ہيں:

پہلى: صدقہ و خيرات اور نفقہ كى صريح اجازت.

دوسرى: عرف و عادت كے مفہوم سے اجازت، مثلا سوالى كو روٹى وغيرہ دينا جس كى معاشرہ ميں عادت ہو، اور اس كے متعلق عرف كے ذريعہ علم ہو كہ خاوند اور مالک ايسا كرنے پر راضى ہوگا، اس میں اس كى اجازت ہے چاہے اس نے كہا نہ بھى ہو ...

اور يہ علم ميں ركھيں كہ يہ سب كچھ تھوڑى اور قليل سى چيز ميں ہے جس كے بارہ ميں علم ہو كہ عام طور پر خاوند راضى ہو گا، اور اگر متعارف اور عادت سے زيادہ چيز ہو تو جائز نہيں ہے.

درج ذيل فرمان نبىﷺ كا معنى بھى يہى ہے:

" اگر كوئى عورت اپنے گھر كا غلہ بغير كسى خرابى كے خرچ ( صدقہ ) كرتى ہے "

رسول كريمﷺ نے اس مقدار كى طرف اشارہ كيا ہے جس پر عام طور پر خاوند راضى ہو جاتا ہے " انتہى ديكھيں: شرح مسلم للنووى ( 7 / 113 )

اور فتاوى اللجنۃ الدائمۃ كے فتاوى جات ميں درج ہے:

" اصل يہى ہے كہ عور كو اجازت كے بغير اپنے خاوند كے مال سے صدقہ و خيرات كرنے كا حق حاصل نہيں، مگر تھوڑى بہت چيز جو عام طور پر معروف ہو كر سكتى ہے، مثلا پڑوسى كے ساتھ صلہ رحمى كرنا، اور سوالى كو تھوڑى سى چيز دينا جس سے خاوند كو نقصان نہ ہوتا ہو، اور اس كا اجر وثواب دونوں كو حاصل ہوگا.

كيونكہ رسول كريمﷺ كا فرمان ہے:

" جب عورت اپنے گھر كا كھانا بغير كسى خرابى كے خرچ كرتى ہے تو اس نے جو خرچ كيا ہے اسے اس كا ثواب حاصل ہوگا، اور اس كے خاوند كو اس نے جو كمايا اس كا اجر وثواب ملےگا، اور خزانچى كو بھى اسى طرح، ان ميں سے كسى ايک كے اجر وثواب ميں بھى كمى نہيں كى جائيگى " متفق عليہ. انتہى

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 10 / 81 )

اور شيخ صالح الفوزان حفظہ اللہ كہتے ہيں:

" رہا مسئلہ عورت جو اپنے خاوند كے مال سے خرچ كرتى ہے اور خاوند اسے ايسا كرنے سے منع نہيں كرتا، اور بيوى كو بھى خاوند كے متعلق اس كا علم ہے تو پھر ايسا كرنے ميں كوئى مانع نہيں، ليكن اگر خاوند اسے ايسا كرنے سے منع كرتا ہے تو پھر يہ جائز نہيں ہوگا " انتہى

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ