سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(73) عورتوں کا چہرے اور ابروؤں کے بال اکھاڑنا حرام ہے

  • 22506
  • تاریخ اشاعت : 2017-09-18
  • مشاہدات : 99

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مرد حضرات کے بارے میں بار بار آیا ہے کہ وہ زیر ناف بال صاف کریں اسی طرح عورتوں کو بھی یہ حکم ہے تو کیا بغلوں کے بال، چہرے کے بال، ابروؤں کے بال بھی صاف کئے جائیں۔ (ابو علی، گجرات)


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مرد حضرات کے بارے میں بار بار آیا ہے کہ وہ زیر ناف بال صاف کریں اسی طرح عورتوں کو بھی یہ حکم ہے تو کیا بغلوں کے بال، چہرے کے بال، ابروؤں کے بال بھی صاف کئے جائیں۔ (ابو علی، گجرات)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شریعت میں جس طرح زیر ناف بالوں کی صفائی فطرت میں شامل ہے اسی طرح بغلوں کے بال اکھیڑنا بھی فطرت میں سے ہے۔

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دس چیزوں فطرت میں سے ہیں۔ مونچھیں تراشنا، داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی چڑھانا، ناخن تراشنا، انگلیوں کے جوڑوں کو صاف کرنا، بغلوں کے بال اکھاڑنا، زیر ناف بال مونڈنا، پانی سے استنجا کرنا، راوی حدیث کہتے ہیں میں دسویں چیز بھول گیا ہوں ممکن ہے وہ کلی ہو۔ (صحیح مسلم کتاب الطہارۃ 56/261، مشکوٰۃ 379)

اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا جس طرح زیر ناف بال مونڈنا فطرت میں سے ہے اسی طرح بغلوں کے بال اکھیڑنا، مرد کے لئے داڑھی بڑھانا اور مونچھیں تراشنا وغیرہ بھی فطرت میں سے ہے۔ رہا عورت کے لئے چہرے کے بال اور ابروؤں کے بال اتارنا تو یہ حرام ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے کے بال نوچنے والی عورت پر لعنت کی ہے۔ صحیح البخاری اور صحیح مسلم کتاب اللباس میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث اس پر واضح طور پر دلالت کرتی ہے۔ اس لئے جو خواتین فیشن کرتے ہوئے چہرے اور ابروؤں کے بال اتارتی اور باریک کرتی ہیں یہ اللہ کی تخلیق اور فطرت کو بدلتی ہے اور اللہ کی لعنت کی مستحق ٹھہرتی ہیں۔ انہیں اس فعل حرام سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے اور صحیح فطرت اسلامی کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنا چاہیے۔

 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

تفہیمِ دین

کتاب الطہارۃ،صفحہ:110

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ