سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(364) استانیوں کا مذاق اڑانا اور انہیں برے القاب سے پکارنا

  • 22430
  • تاریخ اشاعت : 2017-09-17
  • مشاہدات : 185

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بعض طالبات معلمات کا مذاق اڑاتی ہیں اور انہیں برے القابات سے پکارتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ہم تو صرف مذاق کر رہی ہیں۔ اس کا کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مسلمان کو ایسی چیزوں سے اپنی زبان کو مھفوظ رکھنا چاہیے جو کسی کی ایذاء اور بے عزتی کا باعث بنتی ہوں۔

حدیث شریف میں ہے:

(لا تؤذوا المسلمين ولا تتبعوا عوراتهم) (الترغیب والترھیب للمنذری 3/239 و مجمع الزوائد 6/246)

"مسلمانوں کو تکلیف نہ دو اور ان کی پوشیدہ چیزوں کی ٹوہ میں نہ لگے رہو۔"

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَيلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ لُمَزَةٍ ﴿١﴾... سورة الهمزه

"ہلاکت ہے پس پشت عیب جوئی کرنے والے کے لئے۔"

﴿هَمّازٍ مَشّاءٍ بِنَميمٍ ﴿١١﴾... سورة القلم

"طعنہ باز (عیب گو) ہے، چلتا پھرتا چغل خور ہے۔"

﴿وَلا تَنابَزوا بِالأَلقـٰبِ ...﴿١١﴾... سورةالحجرات

"اور ایک دوسرے کو برے القاب سے نہ پکارو۔"

مسلمان کی تنقیص اور ایذاء رسانی حرام ہے۔شیخ ابن جبرین

 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ برائے خواتین

مختلف فتاویٰ جات،صفحہ:370

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ