سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(306) ضرورت کے علاوہ تمام جاندار اشیاء کی تصاویر کا حکم

  • 22372
  • تاریخ اشاعت : 2024-04-16
  • مشاہدات : 667

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمیں بعض لوگوں کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ تصویریں حرام ہیں اور تصویروں والے گھروں میں فرشتے داخل نہیں ہوتے تو کیا یہ صحیح ہے؟ اور کیا حرام تصاویر سے مراد آدمیوں اور حیوانوں کی تصاویر اور مجسمے ہیں یا ہر طرح کی تصویریں اس کے تحت آتی ہیں؟ مثلا شناختی کارڈز اور نوٹوں وغیرہ پر موجود تصویریں بھی؟ اور اگر تمام تصاویر اس حرمت کے تحت آتی ہیں تو ان سے گھروں کو کس طرح صاف کیا جا سکتا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

تصویر آدمی کی ہو یا کسی حیوان کی، وہ مجسم ہو یا کاغذ پر، ڈیزائن دار کپڑوں میں بنی ہو یا فوٹو گرافی کے انداز میں ہو، الغرض تمام جاندار اشیاء کی تصاویر حرام ہیں۔

یہ بات بھی درست ہے کہ فرشتے تصاویر والے گھروں میں داخل نہیں ہوتے، کیونکہ اس کی دلیل کے طور پر وارد احادیث عام ہیں۔ ہاں ضرورت کے تحت تصویریں اس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔ مثلا جرائم پیشہ اور مشتبہ افراد کی گرفتاری کے  لیے  تصاویر، اسی طرح پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کے  لیے  تصاویر۔ ہمیں امید ہے کہ گھروں میں ایسی تصاویر فرشتوں کے آنے میں رکاوٹ نہیں ہوں گی، کیونکہ ایسی تصویروں کا پاس رکھنا ایک ضرورت ہے۔ بستروں اور تکیوں پر موجود غیر مجسم تصویروں کا بھی یہی حکم ہے۔ اس بارے میں وارد احادیث میں سے ایک حدیث کے الفاظ یوں ہیں:

(إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقَالُ لَهُمْ: أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ) (صحیح البخاری)

’’ تحقیق تصویریں بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور انہیں کہا جائے گا کہ جسے تم نے بنایا ہے اسے زندہ بھی کرو۔‘‘

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے اور تصویریں کھینچنے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔۔۔۔دارالافتاء کمیٹی۔۔۔

ھٰذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ برائے خواتین

مختلف فتاویٰ جات،صفحہ:332

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ