سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(231) ماں اپنی چھوٹی بیٹی سے غافل رہی اور اس کی موت کا سبب بن گئی

  • 22297
  • تاریخ اشاعت : 2017-09-16
  • مشاہدات : 77

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک عورت کے پاس اس کی دو سالہ بچی بیٹھی ہوئی تھی، اس کے پاس ہی قہوہ دانی اور چائے دانی پڑی تھی، بچی کھیلنے لگی جبکہ اس کی ماں بچی سے دوسری جانب متوجہ ہو کر کپ دھونے لگی۔ بچی اچانک قہوہ دانی کے پاس پہنچی اور اسے پکڑ لیا وہ اس کے اوپر گر گئی۔ قہوہ انتہائی گرم تھا۔ جب بچی گری تو قہوہ اس کی انتڑیوں کے اندر تک اتر گیا جس کے چوبیس گھنٹے بعد بچی دم توڑ گئی۔ خاتون یہ پوچھنا چاہتی ہے، کیا اس پر کفارہ واجب ہے؟ اگر ہے تو کتنا؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک عورت کے پاس اس کی دو سالہ بچی بیٹھی ہوئی تھی، اس کے پاس ہی قہوہ دانی اور چائے دانی پڑی تھی، بچی کھیلنے لگی جبکہ اس کی ماں بچی سے دوسری جانب متوجہ ہو کر کپ دھونے لگی۔ بچی اچانک قہوہ دانی کے پاس پہنچی اور اسے پکڑ لیا وہ اس کے اوپر گر گئی۔ قہوہ انتہائی گرم تھا۔ جب بچی گری تو قہوہ اس کی انتڑیوں کے اندر تک اتر گیا جس کے چوبیس گھنٹے بعد بچی دم توڑ گئی۔ خاتون یہ پوچھنا چاہتی ہے، کیا اس پر کفارہ واجب ہے؟ اگر ہے تو کتنا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سائلہ اصل حالات و واقعات سے بخوبی آگاہ ہے، اگر ظن غالب کی رو سے بچی کی موت میں اس کی کوتاہی کا عمل دخل ہے تو اس پر کفارہ ادا کرنا واجب ہے، جو کہ گردن آزاد کرنا ہے اور اگر یہ ناممکن ہو تو مسلسل دو ماہ روزے رکھنے ہوں گے۔مستقل فتویٰ کمیٹی

 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ برائے خواتین

جنایات یعنی قابل سزا جرائم،صفحہ:255

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ