سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(157) لڑکی کو اس کے غیر پسندیدہ شخص سے شادی پر مجبور نہیں کیا جا سکتا

  • 22223
  • تاریخ اشاعت : 2017-08-28
  • مشاہدات : 264

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا باپ اپنی بیٹی کو کسی ایسے شخص سے شادی کرنے پر مجبور کر سکتا ہے جسے وہ ناپسند کرتی ہو؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

باپ ہو یا کوئی اور شخص اپنے زیر کفالت بچی کو اس کے غیر پسندیدہ شخص سے شادی کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا، بلکہ اس بارے میں لڑکی سے اجازت لینا ضروری ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

(لا تنكح الايم حتى تستامر ولا تنكح البكر حتى تستاذن " قالوا : يا رسول الله  صلى الله عليه وسلم وكيف إذنها ؟ قال : " ان تسكت۔ وفى لفظ آخر۔ قال: إذنها صماتها۔ وفى لفظ الثالث۔ والبكر يستأذنها أبوها وإذنها سكوتها) (رواہ مسلم فی کتاب النکاح باب 9 والدارمی فی کتاب النکاح باب 13 و احمد جلد 2 ص 234)

"جب تک بیوہ عورت سے مشورہ نہ کر لیا جائے اس کا نکاح نہ کیا جائے، اور جب تک کنواری لڑکی سے اجازت نہ لی جائے اس کا نکاح نہ کیا جائے۔ اس پر لوگوں نے سوال کیا یا رسول اللہ! اس کے اذن کی کیا صورت ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی خاموشی۔"

دوسری روایت کے الفاظ ہیں کہ: "اس کی خاموشی اس کی اجازت ہے۔" تیسری روایت کے الفاظ ہیں: "کنواری لڑکی سے اس کا باپ اجازت لے اور اس کی خاموشی ہی اس کی اجازت ہے۔"

اگر لڑکی کی عمر نو برس یا اس سے زیادہ ہو تو باپ کے لئے اس سے اجازت لینا ضروری ہے۔ اسی طرح اس کے دوسرے سرپرست بھی اس کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح نہیں کر سکتے۔ سب لوگوں پر ایسا کرنا واجب ہے، اور اگر کسی نے اس کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح کر دیا تو وہ نکاح صحیح نہیں ہو گا، کیونکہ نکاح کے لئے میاں بیوی دونوں کی رضامندی شرط ہے۔

اگر انہوں نے اس کی مرضی کے بغیر، زبردستی مار پیٹ کر یا سنگین نتائج کی دھمکی دے کر اس کا نکاح کر دیا تو بھی ایسا نکاح صحیح نہیں ہو گا، ہاں اگر لڑخی کی عمر نو سال سے کم ہو اور اس کا باپ اس کی مرضی کے بغیر اس کا نکاح کر دے تو صحیح مذہب کی رو سے اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ان کی اجازت کے بغیر شادی کی، جبکہ اس وقت ان کی عمر نو سال سے کم تھی۔ اور اگر لڑکی کی عمر نو سال یا اس سے زائد ہو تو باپ سمیت کوئی بھی شخص اس کی مرضی کے بغیر اس کا نکاح نہیں کر سکتا۔ شادی کا پیغام دینے والے شخص کو اگر لڑکی کی ناپسندیدگی کا علم ہو جائے تو اسے ایسے اقدامات سے باز رہنا چاہیے اگرچہ لڑکی کا باپ بھی اس معاملے میں لچک رکھتا ہو۔ باپ پر واجب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور بیٹی کی مرضی کے برعکس کوئی قدم نہ اٹھائے۔ اگر باپ کو یہ دعویٰ ہو کہ اس نے لڑکی پر زبردستی نہیں کی پھر بھی شرعی محرمات کا ارتکاب نہیں کرنا چاہیے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکی سے اجازت لینے کا حکم دیا ہے۔

ہم لڑکی کو بھی نصیحت کریں گے کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرے۔ اس کا باپ اگر اس کی شادی کرنا چاہتا ہو اور منگنی کا پیغام دینے والا شخص دینی اور اخلاقی طور پر پسندیدہ اوصاف کا حامل ہو تو اسے چاہیے کہ اس پر موافقت کا اظہار کر دے۔ اگر باپ کے علاوہ کوئی دوسرا شخص بھی اس کی شادی کرنا چاہے تو بھی اسے ایسا ہی کرنا چاہیے کیونکہ نکاح میں بڑی برکات اور مصلحتیں پنہاں ہوتی ہیں، جبکہ مجرد زندگی بسر کرنے میں بے شمار خطرات پوشیدہ ہوتے ہیں۔

ہم تمام نوجوان لڑکیوں کو نصیحت کریں گے کہ وہ مناسب رشتے آنے پر اپنی موافقت کا اظہار کر دیں اور درس و تدریس وغیرہ کو بہانہ نہ بنائیں۔

 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ برائے خواتین

نكاح،صفحہ:170

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ