سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(541) یہودیوں سے تجارت

  • 2209
  • تاریخ اشاعت : 2012-11-28
  • مشاہدات : 809

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

موجودہ دور کے یہودیوں سے معاشی یا تجارتی یا مذہبی طور پر ملاقات یا معاملات کرنے میں شریعت اسلامیہ ہماری کیا رہنمائی کرتی ہے؟ ازراہ کرم تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں۔کیونکہ ہمارے ایک کاروباری دوست یہودیوں سے کاروباری طور پر اشتراک کا سوچ رہے ہیں ان کو اس سےمنع کیا ہے،تووہ نبیﷺکے مدینہ میں یہودیوں سے تعلقات کی بات کرتے ہیں۔ پلیز سوال کا جواب جلدی دیجیے گا۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگرچہ غیر مسلموں کے ساتھ تجارت کرنا جائز ہے بشرطیکہ اس میں کوئی حرام امر ، یا فتنے کا اندیشہ نہ ہو۔ نبی کریمﷺ بھی غیر مسلموں کے ساتھ معاملہ کر لیا کرتے تھے۔جب آپ فوت ہوئے تو آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع جو کے بدلے رہن رکھی ہوئی تھی۔ لیکن موجودہ حالات ، جن میں مسلمانوں کے خلاف آئے روز سازشوں کے جال بنے جارہے ہیں اور ہم سے منافع کما کر ہمارے ہی خلاف استعمال کیا جا رہا ہے اور ہمارے مسلمان بھائیوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ ہمیں ان کے ساتھ تجارت کی حوصلہ افزائی نہیں کرنی چاہیے۔ اور ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا چاہئے۔ کیونکہ ان حالات میں ان کے ساتھ تجارت کرنےمیں مسلمانوں کا نقصان ہے ،جس سے شریعت نے منع فرمایا ہے۔

حدیث نبوی ہے:

’’لا ضرر ولا ضرار‘‘ [ابن ماجه]

تمام مسلمان ممالک کو چاہئے کہ وہ او آئی سی کے پلیٹ فارم سے اسلامی ممالک کی باہمی تجارت کو فروغ دیں۔ اور یہودیوں کے ساتھ تجارت سے پرہیز کریں،تاکہ کسی مسلمان کا کوئی نقصان نہ ہو، اور وہ مسلمانوں کے خلاف سازشیں نہ کر سکیں۔

اس پیارے بھائی سے بھی گزارش ہے کہ وہ مسلمانوں کے قاتل یہودیوں کی بجائے مسلمانوں کے ساتھ تجارتی اشتراک کو مضبوط بنائیں، مسلمانوں میں بھی بڑے بڑے تاجر اور صنعت کار لوگ موجود ہیں۔

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ