سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(6) غیر مسلم ملازمہ کا حکم

  • 22072
  • تاریخ اشاعت : 2017-08-27
  • مشاہدات : 123

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں نے گھریلو ملازمہ کے حصول کے لیے متعلقہ لوگوں سے درخواست کی تو مجھے بتایا گیا کہ جس ملک میں ملازمہ کے حصول کی خواہشمند ہوں وہاں سے کسی مسلمان ملازمہ کا ملنا ناممکن ہے۔ کیا میرے لیے غیر مسلم ملازمہ کا لانا جائز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جزیرۃ العرب میں غیر مسلم خادمہ یا خادم کا لانا ناجائز ہے، اسی طرح غیر مسلم مزدور بھی جزیرۃ العرب میں رکھنا ناجائز ہے، اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیرۃ العرب سے یہود و نصاریٰ کو نکال باہر کرنے کا حکم صادر فرمایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات کے وقت وصیت فرمائی تھی کہ جزیرۃ العرب سے تمام مشرکین کو نکال دیا جائے۔

نیز اس لیے بھی کہ غیر مسلم مرد و زن کو یہاں لانا مسلمانوں کے عقائد و اعمال اور تربیت اولاد کے سلسلے میں خطرے سے خالی نہیں۔ لہذا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے ہوئے فتنے و فساد کی جڑ کاٹنے کی غرض سے جزیرۃ العرب میں غیر مسلموں کی آمد کو روکنا از بس ضروری ہے۔

 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ برائے خواتین

عقیدہ  ،صفحہ:43

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ