سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(278) حج افراد کی نیت کے بعد حج تمتع کرنا

  • 22043
  • تاریخ اشاعت : 2017-08-27
  • مشاہدات : 221

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر کوئی شخص حج افراد کی نیت کر کے مکہ مکرمہ میں داخل ہو اس کے بعد اپنی نیت کو حج تمتع میں بدل دے اور عمرہ کر کے حلال ہو جائے تو اسے کیا کرنا چاہیے ؟ اور ایسا آدمی حج کی نیت کب اور کہاں سے کرے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جو شخص حج افراد یا حج قران کی نیت کر کے مکہ مکرمہ میں داخل ہو اس کے لیے افضل یہی ہے کہ اپنی نیت کو عمرہ کی نیت میں بدل دے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ حج کےلیےآئے تو ان میں سے بعض قارن تھے اور بعض مفرد ،اور ان کے پاس قربانی کا جانور نہ تھا تو آپ نے ان کو حکم دیا کہ صرف عمرہ کر کے حلال ہو جائیں۔ چنانچہ وہ لوگ طواف سعی اور بال کٹوانے کے بعد حلال ہو گئے۔ ہاں !جو شخص قربانی کا جانور ساتھ لائے اسے احرام نہ کھولنا چاہیے یہاں تک کہ حج اور عمرہ دونوں سے فارغ ہو جائے ۔ اگر قارن ہے اور اگر مفرد ہے تو عیدکے دن حج کے اعمال سے فراغت کے بعد(احرام کھولے)

مقصد یہ ہے کہ جو شخص مکہ مکرمہ صرف حج یا عمرہ یا دونوں کی نیت کر کے آئے اور اس کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو اس کے لیے مسنون یہی ہے کہ اپنی نیت کو صرف عمرہ کی نیت میں بدل دے اور طواف سعی اور بال کٹوانے کے بعد حلال ہو جائے۔ اور جب حج کا وقت آئے تو حج کا احرام باندھے۔ اس طرح وہ آدمی متمتع ہو جائے گا اور اس پر دم تمتع واجب ہو گا۔

 ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ البانیہ

حج بیت اللہ اور عمرہ کے متعلق چنداہم فتاوی صفحہ:340

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ