سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(33) منی پاک ہے یا نجس

  • 2195
  • تاریخ اشاعت : 2012-10-24
  • مشاہدات : 2286

سوال




السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میرا سوال یہ ہے کہ کیا منی پاک یا نجس؟ اس پر قران ، سنت اور علماء کی تحقیق کی روشنی میں تفصیل سے جواب دیں۔شکریہ

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرا سوال یہ ہے کہ کیا منی پاک یا نجس؟ اس پر قران ، سنت اور علماء کی تحقیق کی روشنی میں تفصیل سے جواب دیں۔شکریہ


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

منی کے پاک یا نجس ہونے کے حوالے سے اہل علم کے ما بین اختلاف پایا جاتا ہے۔ لیکن راجح مسلک یہی ہے کہ منی پاک ہے ،نجس نہیں ہے۔ اس کی دلیل صحیح مسلم میں وارد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے ،وہ فرماتی ہیں کہ:

’’لقد كنت أفركه من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم فركاً ، فيصلي فيه‘‘

میں نبی کریمﷺ کے کپڑوں سے منی کو کھرچ دیتی تھی اور ان میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔

یہ حدیث مبارکہ منی کے پاک ہونے اور نجس نہ ہونے کی دلیل ہے کیونکہ کھرچنے سے کوئی چیز مکمل طور پر زائل نہیں ہوتی، چنانچہ منی آپﷺ کے کپڑوں پر موجود ہوتی تھی اور آپ ان میں نماز ادا کر لیا کرتے تھے۔

صحابہ میں سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سعد بن أبی وقاص، ابن عمر﷢ ،اور تابعین میں سےسعيد بن المسيب، عطاء ،اور فقہاء ﷭میں سے امام شافعی، امام أحمد، امام إسحاق، داود الظاهري، اورابن المنذر﷭ اسی کے قائل ہیں۔

منی کو نجس قرار دینے والوں نے اسےپیشاب پاخانے پر قیاس کیا ہے ،کہ ان تمام کا مخرج ایک ہے،لہذا پیشاب پاخانے کی مانند منی بھی نجس ہے۔لیکن یہ قیاس مردود ہے،کیونکہ سبیلین سے نکلنے والی ہر چیز نجس نہیں ہوتی،ولادت کے وقت مولود بھی نجس نہیں ہوتا،اسی طرح منی بھی نجس نہیں ہوتی جیسا کہ اوپر حدیث میں گزر چکا ہے۔

مذکورہ دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ منی نجس نہیں ،پاک ہے۔

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ