سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(182) شطرنج وتاش کھیلنا

  • 21947
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-25
  • مشاہدات : 1703

سوال

(182) شطرنج وتاش کھیلنا

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

شطرنج وتاش اور نردوغیرہ ان کھیلوں کا کیا حکم ہے؟(فتاوی الامارات63)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

تاش کا کھیل کفار کا کھیل ہے کہ جنہوں نے اپنے عقیدے خراب کر رکھے ہیں۔بلکہ بعض صورتوں میں تو شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔تو ان اوراق کے ساتھ اگرچہ جوئے کے بغیر کھیلا جائے تو بھی کم ازکم یہ مکروہ سے خالی نہیں ہے کیونکہ اس کھیل میں تصویروں کا استعمال ہے اور ان پہ جھکنا وغیرہ ۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے ایک روایت مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کچھ لوگوں کے پاس گزرے وہ لوگ شطرنج کھیل رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:یہ وہ مورتیاں ہیں جن کے آگے تم جھکے ہو؟

کیونکہ شطرنج میں بالفعل تصویریں ہیں۔ مثلاً گھوڑے وغیرہ کی اور تاش کھیلنا بھی عقل پر قائم ہے۔ باقی جو نردہے اس کی حرمت کے لیے صریح نص موجود ہے۔"صحیح مسلم" میں حدیث ہے۔

"الذي يلعب بالنرد مثله كمثل الذي يغمس يده في لحم خنزير ودمه "

کہ جو شخص نرد کھیلتا ہے گویا کہ اپنا ہاتھ خنزیر کے گوشت خون میں لت پت کر کے آتا ہے۔ جو چیزیں عقل پر ان کی بنیاد ہے ان کا حکم شطرنج کا حکم ہے۔ ہم نصیحت کرتے ہیں کہ جو شخص شطرنج کے کھیل میں ملوث ہواسے چاہیے کہ ان چھوٹی چھوٹی تصویروں کے سر کاٹ دے۔

قاعدہ:

یہ ہے کہ جس کھیل میں مورتیاں اور تصویریں ہوں تو اس سے دور رہنا چاہیے جس کھیل میں ایسی چیزیں نہ ہوں تو اگر بسااوقات دل کی خوشی کے لیے کھیلنا چاہے تو کھیل جائز ہے اور اگر مستقل اس میں مشغول رہے اور یہ چیز اس کو نماز سے بھی غافل رکھے، اپنے بچوں سے بھی غافل رکھے ایسی صورت میں اس کا حکم شراب والا حکم ہو گا کہ جو نماز اورذکر سے روکنے کا باعث بنتا ہے۔

 ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ البانیہ

حلال کھیل اور حرام کھیل کا بیان    صفحہ:261

محدث فتویٰ

تبصرے