سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(149) داڑھی لمبی اور چوڑی ہونی چاہیے؟

  • 21914
  • تاریخ اشاعت : 2017-08-23
  • مشاہدات : 143

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا داڑھی کی لمبائی اور چوڑائی کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  سے کچھ ثابت ہے؟(فتاویٰ الامارات:93)

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا داڑھی کی لمبائی اور چوڑائی کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  سے کچھ ثابت ہے؟(فتاویٰ الامارات:93)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی داڑھی مبارک بڑی تھی۔

اور یہ بھی ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے مطلق طور پر داڑھی چھوڑنے کا حکم دیاہے۔

"اعْفُوا اللِّحَى وَقُصُّوا الشَّارِبْ، وَخَالِفُوا اليَهُودَ والنَّصَارَى".

"کہ مونچھیں کاٹو اور داڑھیوں کو معاف کردو۔یہودونصاریٰ کی مخالفت کرو۔"

میں جمہور نہیں کہتا لیکن اکثر علماء مٹھی سے زیادہ داڑھی کاٹنے کے قائل ہیں جبکہ دوسرے اہل حدیث حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے فرمان "اعْفُوا اللِّحَى" کے عموم سے استدلال کرتے ہیں اور میری بھی رائے یہ ہے کہ مٹھی سے نیچے کے بالوں کو کاٹنا جائز ہے اور میری دلیل ابن عمر کے جو گزشتہ احادیث کے رواۃ میں سے ایک راوی کہ جن میں داڑھی چھوڑنے کا مسئلہ مذکور ہے اس کے باوجود ان سے کئی ایک روایات میں ثابت ہے کہ وہ  حج یا حج کے علاوہ دو مواقع میں مٹھی سے زائد داڑھی کے بالوں کو کاٹا کرتے تھے۔

"تفسیر بن جریر الطبری"میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور دیگر سلف سے بھی یہ ثابت ہے کہ وہ ایک مٹھی سے زیادہ داڑھی کو کاٹا کرتے تھے۔

تو یہاں ضروری ہے کہ ہم اس فقہی قاعدے کو بھی دیکھیں کہ جس میں یہ بات ہے کہ"راوی اپنی روایت کے بارے میں زیادہ جانتا ہے"اور یہ قاعدہ ابن عمر پر فٹ آتا ہے۔[1]


[1] ۔شیخ البانی  رحمۃ اللہ علیہ  کا موقف اس مسئلہ میں محل نظر ہے کیونکہ جب شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ  خود شروع میں بیان کرچکے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی داڑھی مبارک لمبی تھی تو پھر ایک مٹھی سے زائد کاٹنے کی اجازت دینا کیسے جائز ہوا؟رہا جہاں تک صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کا فعل تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  سے جب پانچ الفاظ":

واعفوا‘اوفعوا‘ارفوا‘ارحوا‘وفروا‘ كہ جن کا معنی ومطلب یہ ہے کہ داڑھی کو اس کی حالت پر چھوڑدو' کے آجانے کے بعد صرف ایاح صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے عمل سے جواز کا فتویٰ دینا محل نظر ہے۔کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے مقابلے میں کسی صحابی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا عمل حجت نہیں اور پھر ابوہریرۃ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ،ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،کے علاوہ عشرہ مبشرہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  ،خلفاء اربعہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  میں سے کسی سے یہ ثابت نہیں۔اس لیے داڑھی کو ایک مٹھی سے زیادہ کاٹنا بھی جائز نہیں۔(راشد)
 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ البانیہ

لباس اور سنن الفطرہ کا بیان صفحہ:236

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ