سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(143) كفيل بننا

  • 21908
  • تاریخ اشاعت : 2017-08-23
  • مشاہدات : 118

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اس مسلمان شخص  کا کیا حکم ہے؟ کہ جو کسی کا کفیل بن جاتا ہے  یا شریک بنتا ہے تجارتی معاملات میں کہ جو حکومت کی طرف سے جاری ہوتے ہیں ۔وہ شخص چاہے مسلمان ہو یا غیر مسلم ہو'دوسرے ملک کا ہو'جس کا کفیل بنتاہے اس کے ساتھ حلال وحرام کی شرط نہیں لگاتا'تجارتی معاملات میں وہ کہتا ہے کہ میں صرف کفیل ہوں اور تجارتی معاملات میں میری کوئی مداخلت نہیں ہے؟(فتاویٰ الامارات:79)

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اس مسلمان شخص  کا کیا حکم ہے؟ کہ جو کسی کا کفیل بن جاتا ہے  یا شریک بنتا ہے تجارتی معاملات میں کہ جو حکومت کی طرف سے جاری ہوتے ہیں ۔وہ شخص چاہے مسلمان ہو یا غیر مسلم ہو'دوسرے ملک کا ہو'جس کا کفیل بنتاہے اس کے ساتھ حلال وحرام کی شرط نہیں لگاتا'تجارتی معاملات میں وہ کہتا ہے کہ میں صرف کفیل ہوں اور تجارتی معاملات میں میری کوئی مداخلت نہیں ہے؟(فتاویٰ الامارات:79)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

واللہ اعلم! مجھے جو سمجھ آتی ہے کہ اگریہ صرف صورتاً کفالت ہو اور اپنے مکفول کے ساتھ عملی صورت میں کوئی مساعدت نہیں کرتا تو یہ چیز قرآن مجید میں منع ہے بلکہ باطل طریقوں سے لوگوں کا مال کھانے کے مترادف ہے۔

 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ البانیہ

معاملات کا بیان صفحہ:231

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ