السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
چھینکنے والا اگر الحمد للہ نہ کہے یا اگر کہے اور آواز نہ سنائی دے، یا پھر دور سے کسی چھینکنے والے کی آواز آئے۔ کیا چھینے کی آواز سن کر جواب میں کلمات ادا کرنے چاہییں۔ ؟ یا پھر اس شخص سے الحمد للہ سن کر جواب دینا ہو گا ۔؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
الحمد للہ کہنے پر جواب دینا چاہیے۔ حدیث نبوی ہے،
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَلَمْ يُشَمِّتْ الْآخَرَ ، فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ : (هَذَا حَمِدَ اللَّهَ ، وَهَذَا لَمْ يَحْمَدْ اللَّهَ) .
روى البخاري (6221) – واللفظ له - ومسلم (2991)
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو اشخاص نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب چھینک ماری تو آپ نے ایک کو جواب دیا اور دوسرے کو جواب نہ دیا۔ پس آپ سے اس بارے سوال ہوا تو آپ نے کہا؛ اس نے الحمد للہ کہا تھا اور اس نے نہیں کہا تھا۔
عَنْ أَبِي مُوسَى رضي الله عنه قال : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : ( إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَحَمِدَ اللَّهَ فَشَمِّتُوهُ ، فَإِنْ لَمْ يَحْمَدْ اللَّهَ فَلَا تُشَمِّتُوهُ ) . وروى مسلم (2992)
سیدناابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا؛ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جب تم میں کوئی ایک چھینک مارے اور پھر الحمد للہ کہے تو اس کو جواب میں یرحمک اللہ کہو۔ پس اگر وہ الحمد للہ نہ کہے تو تم بھی یرحمک اللہ نہ کہو۔
اصل مسئلہ تو یہی ہے کہ الحمد للہ سن کر جواب دے لیکن اگر کوئی شخص دور ہو اور اس کے بارے غالب گمان ہو کہ اس نے الحمد للہ کہا ہو گا تو اس کو جواب دیا جا سکتا ہے۔
ھذا ما عندی واللہ أعلم بالصواب