سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(6) قبروں پر سلام بھیجنا

  • 21771
  • تاریخ اشاعت : 2017-07-31
  • مشاہدات : 124

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک شخص مدینہ منورہ کے  علاوہ کسی شہر سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  پر سلام بھیجے اور ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی قبر کے پاس کھڑا ہوکرسلام بھیجے تو کیا ان دونوں میں کوئی فرق ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص مدینہ منورہ کے  علاوہ کسی شہر سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  پر سلام بھیجے اور ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی قبر کے پاس کھڑا ہوکرسلام بھیجے تو کیا ان دونوں میں کوئی فرق ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔

اہل بیت سے کسی شخص کے بارے میں آتاہے کہ اس نے ایک شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی قبر کے کونے میں بیٹھے ہوئے دیکھا کہ تو اس سے وہاں بیٹھنے کی وجہ پوچھی۔اس شخص نے جواب دیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  پر درود بھیج رہا ہوں۔تو اہل بیت کے اس شخص نے کہا کہ کوئی نمازی یہاں  بیٹھ کر درود بھیجے اور کوئی اندلس سے درود بھیجے دونوں برابر ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی خصوصیات میں سے یہ بات تھی ،جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

"إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ يُبَلِّغُونِي مِنْ أُمَّتِي السَّلَامَ"

"کہ بے شک زمین میں اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے گھومتے رہتے ہیں کہ جومجھے میری امت کی طرف سے بھیجا ہوا سلام پہنچاتے ہیں۔

ایک اور حدیث ہےکہ:

"مَنْ صَلَّى عَلَيَّ عِنْدَ قَبْري سَمِعْتُهُ وَمَنْ صَلَّى عَلَيَّ نَائِيًا أُبْلِغْتُهُ".

"کہ جو شخص دور سے مجھ پر درود بھیجتا ہے وہ مجھے پہنچایا جاتا ہے اورجو شخص قریب سے مجھ پر درود بھیجتا ہے میں اس کو سن لیتا ہوں۔"

یہ حدیث موضوع ہے،ثابت نہیں ہے۔

امام عقیلی رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی کوئی اصل نہیں ہے اور محفوظ بھی نہیں ہے اور اس کی متابعت اس سے کم درجہ کے لوگوں نے کی۔ اس سے ان کی مراد سدی ہے۔جریر بن حازم نے اس کو کذاب کہا ہے۔صالح جزرہ فرماتے ہیں کہ یہ شخص حدیثیں گھڑا کرتا تھا۔مزید تفصیل کے لیے دیکھیں"ھدم المنارہ"ص 311تا 316"

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ البانیہ

عقیدہ کے مسائل صفحہ:81

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ