سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(12) نیٹ پر غیر محرم سے گفتگو کرنے کا حکم

  • 2174
  • تاریخ اشاعت : 2012-10-24
  • مشاہدات : 3735

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

انٹرنیٹ کے ذریعے کسی غیرمحرم سے بات کرنا کیسا ہے؟اس میں چیٹنگ، ای میل، یا کسی فورم میں بات ہو۔ اگر بات دین کی بات کہنے کے لئے ہو تو کیا صحیح ہے؟ نامحرم سے دوستی کرنا انٹرنیٹ کے ذریعے چاہے وہ دین کے کام کے لئے ہو یا پھر ٹائم پاس کے لئے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر گفتگو کا مقصد دینی مسائل کی راہنمائی حاصل کرنا ہو تو وقار ،متانت ، سنجیدگی اور شرعی تعلیمات کو ملحوظ خاطر رکھ کر گفتگو کی جا سکتی ہے۔ صحابہ کرام متعدد مسائل میں سیدہ عائشہ سے راہنمائی لیا کرتے تھے۔

اور اگر بات چیت کا مقصد وقت گزاری اور دوستیاں لگانا ہو توغیر محرم لڑکوں اور لڑکیوں سے گفتگو کرنا ناجائز،حرام اور ممنوع ہے۔ کسی خاص ضرورت کے بغیر یہ فضول کام ہے، اور بالآخر حرام کے ارتکاب کا سبب بنے گا۔ فقہائے کرام فرماتے ہیں :

’’دواعی الی الحرام ،حرام‘‘

یعنی وہ امور جو حرام کی طرف لے جائیں، وہ بھی ناجائز ہیں۔

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورت کو بغیر شوہر کی اجازت کے غیر مردوں کے ساتھ کلام کرنے سے سخت تاکید کے ساتھ منع فرمایا ہے۔ اور دوسری ایک روایت میں ہے عورتوں کو غیر مردوں کے ساتھ میٹھی میٹھی باتیں کرنے کی بھی سخت غضب و غصے کے ساتھ ممانعت فرمائی ہے کہ مرد اس کی طرف کچھ ریجھنے لگیں۔ یعنی اگر عورت کسی غیر مرد سے نرم و نازک باتیں کرے گی تو مرد کے دل میں طمع پیدا ہوگا اور دل کا چور جاگ اٹھے گا جو دونوں کیلئے نقصان دہ اور موجب عذاب ہے۔

عورت کی مرد کے ساتھ گفتگو اس وقت ہو سکتی ہے جب فتنہ سے محفوظ رہنے کی گارنٹی دی گئی ہو اور اللہ تعالٰی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ:-

“واذا سالتموهن متاعا فاسئلوهن من وراء حجاب“

اور جب تم کسی ضرورت اور حاجت کی وجہ سے عورتوں سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگو۔

پھر عورت کا غیر محرم مرد سے گفتگو کرنا صرف ضرورت کی حد تک جائز ہوگا اور اس میں بھی اس بات کا لحاظ رکھا جائے گا کہ شریعت نے کہاں کون سی حد لگائی ہے مرد و زن کے درمیان ہونے والی گفتگو میں نرم لہجہ (شیرنی اور لوچ دار آواز کا انداز) نہ ہو کیونکہ جب آپ کسی سے لوچ دار آواز سے بات کریں تو ظاہر ہے کہ سننے والا یہی سمجھے گا کہ آپ اس کو لفٹ کرا رہی ہیں اور وہ مزے سے آپ کے قصے دوسروں کو سناتا رہے گا کیونکہ ان کا کام ہی یہی ہوتا ہے کہ ہم نے اتنی لڑکیوں سے دوستی کر رکھی ہے یا اتنی لڑکیاں ہم پر جان دیتی ہیں تو خدارا ان لفنگوں سے اپنے آپ کو بچائیں اور دین کی سیدھی راہ کو اپنائیں کہ کہیں نا سمجھی میں اٹھایا ہوا قدم کل کو دوزخ کی آگ میں کھینچ کر لے جائے۔

عورت کی غیر محرم کے ساتھ ٹیلیفون پر گفتگو کی شرعی حیثیت یہ ہے کہ بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے مرد کو عورت سے ضرورت کے تحت بات کی اجازت ہے لیکن اس میں بھی بہت لحاظ رکھنا پڑتا ہے کہ یہ بھی ایک طرح کی خلوت ممنوع ہے جس میں مرد و عورت کے درمیان تیسرا شیطان ہوتا ہے اور اس سے بچنے کی اہمیت پر زور دینا چاہئیے۔ کیونکہ اس طرح کی گفتگو کرنا بعض اوقات حرام کاری اور بدکاری تک لے جاتی ہے جس طرح آج کل ایک وبا پھیلی ہوئی ہے کہ ریڈیو پر مرد عورت یا عورت مرد ٹیلی فون کے ذریعے اپنی پسند کے گانے سنتے ہیں اور بیہودہ ہنسی مذاق میں مشغول رہتے ہیں یہ نہایت ہی لغو حرکت ہے جس سے بچنا نہایت ہی ضروری ہے کیونکہ ایسی ہی لڑکیاں ایسے لڑکوں کو دل دے بیٹھتی ہیں اور اپنی دنیا اور آخرت دونوں تباہ و برباد کر ڈالتی ہیں۔

اللہ تعالٰی بہتر جانتا ہے کہ تمہاری نیت کیا ہے بہتر یہ ہے کہ ایسی وبا سے دور ہی رہنا چاہئیے جو تباہی کے دروازے پر لے جائے عورت کا ٹیلی فون پر گفتگو کرنا جائز ہے مگر اس کے ساتھ نرم لہجہ میں بات نہ کرے اور نہ ہی بات کرنے میں لوچ آئے صرف ضروری بات کرے جتنی شرعاً ضرورت ہے بس اسی قدر بات کرے زیادہ نہیں۔

اور جو یہ ٹیلی فون پر بے حیائی کی گفتگو ہوتی رہتی ہے یہ سراسر حرام ہے ایسی گفتگو سے بچنا چاہئیے کیونکہ جب ایسی لڑکیوں کو روکا جاتا ہے تو وہ کہتی ہیں کہ جب بازار جاؤ یا کسی دکان والے سے خرید و فروخت کرو جب بھی تو مرد سے بات کرتے ہیں کیا وہ گناہ نہیں ہے۔

تو اے اللہ کی بندیو ! جب تم خرید و فروخت کرنے یا رکشہ ٹیکسی میں جاتی ہو تو لازمی تمہارے لہجے میں سختی ہوتی ہے مگر جب یہ لہجہ کسی ایسے کے روبرو ہو جاتا ہے کہ جس سے اسلام نے دور رہنے کا حکم دیا ہوتا ہے تو یہی لہجہ سختی سے نرمی اور لوچ پر اتر آتا ہے۔ جو کہ سراسر گناہ ہے اور جب مرد و عورت کو ایسی گفتگو کا موقع مل جائے جو ان کو حرام کاری تک لے جائے ایسی گفتگو کو چھوڑ ہی دینا چاہئیے۔ یہ ماں باپ کا فرض ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں پر نظر رکھیں کہ وہ کس سے کب کہاں اور کس لہجے میں گفتگو کر رہی ہیں نہ کہ اس حرام کھیل میں ان کا ساتھ دیں کیونکہ جب ٹیلی فون پر اپنے کے گانے سننے کا اعلان کر رہی ہوتی ہیں ان میں یہ ہوتا ہے کہ اب میری والدہ سے بات کریں اب میری چھوٹی بہن سے بات کریں خود تو گناہ میں ملوث ہیں ہی دوسروں کو بھی گناہوں میں دھنسا رہی ہیں۔

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ