سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(714) بیوی کا نان و نفقہ

  • 2172
  • تاریخ اشاعت : 2012-10-23
  • مشاہدات : 1273

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سوال یہ ہے کہ ایک عورت کے والدین کسی دوسرے ملک میں رہتے ہیں اور والدین نے ویزا کا مسئلہ حل کرنے کے لیے اپنی بیٹی کو بلایا ہے ، اب مسئلہ یہ ہے کہ شوہر نے بیوی کو جانے کے لئےٹکٹ کے پیسے دینے سے انکار کر دیا ہے ، مگر واپسی کے لیے رضامند ہے۔ تو کیا شریعت شوہر پر یہ لاگو کرتی ہے کہ وہ آنے جانے دونوں کا خرچا اٹھائے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

خاوند پر نفقہ واجبہ میں کھانا ،لباس اور گھر شامل ہیں ۔اس کے علاوہ دیگر اخراجات خاوند پر لازم نہیں ہیں۔الا یہ کہ نکاح میں ان اخراجات کی شرط لگا دی گئی ہو۔ اگر تو عقد نکاح میں یہ شرط شامل تھی کہ خاوند اس کے آنے جانے کے اخراجات برداشت کرے گا تو تب خاوند کے لئے ٹکٹ کے پیسے دینا لازم ہوگا،اوراگر ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہے تو پھر خاوند پر یہ لازم نہیں ہے۔

ہاں البتہ اگر خاوند صاحب حیثیت ہے تو اسے جھگڑا کرنے کے بجائے نرمی سے کام لینا چاہئے اور اپنے اہل وعیال پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ کرنا چاہئے۔اپنے اہل وعیال پر خرچ کرنے کو نبی کریمﷺ نے بہترین صدقہ قرار دیا ہے۔

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتویٰ کمیٹی

محدث فتویٰ

 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ