سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(31) بيماری کی وجہ سے سارا دن سونا اور بستر پر نماز پڑھنا

  • 21719
  • تاریخ اشاعت : 2017-07-26
  • مشاہدات : 243

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک خاتون جو دل کے بعض امراض اور شوگر کے مرض میں مبتلا ہے اور ڈاکٹروں نے اس کو روزہ رکھنے کی ہدایت کی ہے اس لئے کہ روزہ رکھنے کے باعث اس کی صحت کو اور زیادہ نقصان پہنچ جانے کا اندیشہ ہے۔ یہ خاتون گزشتہ سال روزے رکھتی رہی ہے اور اس سال بھی روزے رکھ رہی ہے مگر وہ روزہ رکھنے کے بعد دن بھر سوتی ہے۔ صرف نمازوں کے اوقات میں بستر سے اٹھتی ہے اور نماز پڑھ کر پھر سو جاتی ہے اگر وہ ایسا کرے (دن بھر سوتی رہے) تو اس کی بیماری میں اضافے کی کوئی علامت نظر نہیں آتی تو کیا اس حال میں اس کا روزہ رکھنا درست ہے؟

یہ خیال رہے کہ پچھلے سال اس خاتون نے تمام روزے رکھے تھے اور ماہواری کے پانچ ایام کے دوران اس نے روزہ نہیں رکھا مگر بعد میں ان کا کفارہ ادا کر دیا تھا۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ایسی صورت میں جب کہ کسی مریض کے لئے روزہ رکھنا مشکل ہو یا روزہ اس کی بیماری میں اضافے کا یا شفا میں تاخیر کا سبب بن سکتا ہو تو مریض کے لئے روزہ چھوڑ دینا جائز ہے بلکہ اس حالت میں اس کے لئے روزہ چھوڑ دینا ہی بہتر ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق کہ:

﴿ وَمَن كانَ مَريضًا أَو عَلىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِن أَيّامٍ أُخَرَ يُريدُ اللَّهُ بِكُمُ اليُسرَ وَلا يُريدُ بِكُمُ العُسرَ ... ﴿١٨٥﴾... سورة البقرة

’’اور جو کوئی تم میں سے (اے مسلمانو) بیمار ہو جائے یا سفر کی حالت میں ہو تو (چھوٹے ہوئے روزوں کی) گنتی دوسرے دنوں میں (روزے رکھ کو) پوری کرے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ آسانی کا معاملہ کرنا چاہتا ہے اور تمہیں تنگی میں مبتلا کرنا نہیں چاہتا۔‘‘

چنانچہ اگر اس بیماری کو جاننے والے دو مسلمان ڈاکٹر (یا حکیم) یہ رائے دے دیں کہ اس مرض کی حالت میں روزہ رکھنا مریض کے لئے نقصان کا باعث ہو گا تو مریض کے لئے روزہ چھوڑ دینا جائز ہے۔ لیکن اگر مریض یا مریضہ آرام کر کے یا سو کر روزہ برداشت کر سکتا ہو جیسا کہ مذکورہ خاتون کرتی ہے تو چونکہ اس طرح روزہ رکھنے سے اس کے مرض کی علامات میں اضافہ نہیں ہوتا اس لئے روزہ چھوڑنا جائز نہیں۔ ہاں اگر اس خاتون کے روزہ رکھنے کی وجہ سے اس کی بیماری کے جاری رہنے یا اس میں اضافہ کا خدشہ ہو تو اس صورت میں اس کو روزہ چھوڑ دینا چاہیے۔ اور اللہ کی عطا کردہ رخصت سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ بعد میں اگر وہ روزوں کی قضا کی طاقت رکھتی ہو تو ایسے دنوں میں جب اس کی بیماری میں کمی واقع ہو جائے یا سردی کے موسم کے چھوٹے دن ہوں تو اس کو چھوڑے ہوئے روزے رکھنے چاہئیں اگر وہ خود روزے نہ رکھ سکے تو اس کی طرف سے ہر روزے کے بدلے میں ایک مسکین کو ایک مد (تقریبا 600 گرام) گیہوں یا آدھا صاع (تقریبا سوا کلو گرام) کھجوریں کفارے کے طور پر دی جائیں گی۔ اور یہی کفارہ ان ایام کے روزوں کا بھی دیا جائے گا جو اس نے حیض کے دنوں میں پچھلے سال چھوڑ دئیے تھے۔

 ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ الصیام

صفحہ:87

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ