سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(8) صدقہ فطر (فطرانے) کے بارے میں

  • 21696
  • تاریخ اشاعت : 2017-07-24
  • مشاہدات : 193

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
صدقہ فطر (فطرانے) کے بارے میں

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

صدقہ فطر (فطرانے) کے بارے میں


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فطرانہ کو فرض قرار دیا ہے اور رمضان کے آخر میں ادا کیا جائے گا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

(فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم زكاة الفطر من رمضان على العبد والحر، والذكر والأنثى، والصغير والكبير من المسلمين) (متفق علیه)

"اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا صدقہ فطر غلام آزاد، مرد عورت، چھوٹے بڑے ہر مسلمان پر فرض کیا ہے۔" (بخاری و مسلم)

فطرانہ کھانے کے غلہ کا ایک صاع ہے جو آدمی کی بھوک کو ختم کرتا ہے۔

حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

(كنا نخرج في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم صاعا من طعام وكان طعامنا الشعير والزبيب والاقط والتمر) (رواہ البخاری)

"ہم صدقہ فطر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دور میں کھانے کا ایک صاع نکالتے تھے۔ ہمارا ان دنوں کھانا جَو، منقہ، پنیر اور کھجور ہوتا۔ (بخاری)

صدقہ فطر میں مبلغ نقدی لباس جانوروں کا چارہ اور دیگر اشیاء وغیرہ نہیں دی جا سکتیں۔ اس لئے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دور اقدس میں صدقہ فطر غلہ کی ہی صورت میں دیا گیا ہے اور آپ کا ارشاد مبارک ہے کہ:

(من عمل عملا ليس عليه امرنا فهو رد)

"جس نے ایسا کام کیا جس پر ہمارا حکم نہیں تو وہ مردود ہے۔"

جہاں تک ایک صاع کے وزن کا تعلق ہے تو وہ دو کلو اور چالیس گرام اعلیٰ درجہ کی گندم وغیرہ ہے۔ یہ وہ مقدار ہے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں دی جاتی تھی۔ صدقہ فطر کا عید الفطر سے پہلے نکالنا ضروری ہے اور افضل یہ ہے کہ اس کو عید والے دن نماز عید سے قبل ادا کیا جائے۔ تاہم ایک یا دو دن پہلے بھی دیا جا سکتا ہے۔ نماز عید کے بعد صدقہ فطر اگر ادا کیا جائے تو یہ جائز نہیں ہے اور اس کی دلیل حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ:

(أن النبي صلى الله عليه وسلم فرض زكاة الفطر طهرة للصائم من اللغو والرفث وطعمة للمساكين من اداها قبل الصلاة فهي زكاة مقبولة ومن اداها بعد الصلاة فهي صدقة من الصدقات)

"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر روزے دار کو بے ہودگی فحش باتوں سے پاک کرنے کے لئے نیز محتاجوں کے کھانے کا انتظام کرنے کے لئے فرض کیا ہے جس نے نماز عید سے پہلے ادا کیا اس کا صدقہ فطر ادا ہو گیا اور جس نے نماز عید کے بعد ادا کیا اس کا صدقہ فطر عام صدقہ شمار ہو گا۔ (ابوداؤد، ابن ماجہ)

لیکن اگر ایسی صورت ہو جاتی ہے کہ صدقہ الفطر دینے والے کو عید کے دن کا عید کی نماز کے بعد پتہ چلتا ہے اور اس وقت وہ صحرا میں تھا یا کسی ایسی جگہ مقیم تھا جہاں اس کے مستحق موجود نہ تھے تو پھر عید کی نماز کے بعد بھی صدقہ فطر ادا کیا جا سکتا ہے۔ (واللہ اعلم)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ الصیام

صفحہ:53

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ