سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(706) مشت زنی کا حکم

  • 2164
  • تاریخ اشاعت : 2012-10-23
  • مشاہدات : 2539

سوال








السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مشت زنی سے متعلق قرآن مجیداور حدیث کی کیا رہنمائی ہے؟ کیا یہ زنا کے درجے میں حرام ہے؟ یا یہ ایک مباح عمل ہے یا پھر یہ ناجائز ہے البتہ مخصوص حالات میں اس کا جواز بھی ملتا ہے؟ برائے مہربانی اپنے جواب کی سپورٹ میں قرآن کی آیات اور حدیث یا آثار بھی نقل کردیں۔ شکریہ

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مشت زنی سے متعلق قرآن مجیداور حدیث کی کیا رہنمائی ہے؟ کیا یہ زنا کے درجے میں حرام ہے؟ یا یہ ایک مباح عمل ہے یا پھر یہ ناجائز ہے البتہ مخصوص حالات میں اس کا جواز بھی ملتا ہے؟ برائے مہربانی اپنے جواب کی سپورٹ میں قرآن کی آیات اور حدیث یا آثار بھی نقل کردیں۔ شکریہ


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مشت زنی کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہے: ارشاد باری تعالی ہے:

والذين هُم لِفُرُوجِهِمْ حافِظون. إلا على أزواجِهِم أو ما مَلَكت أيمانُهُم فإنهم غيرُ مَلومين. فمَنِ ابتَغى وراءَ ذلك فأولئك همُ العادون (4-6 المؤمنون)

اہل ایمان اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں سوائے اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے ،ان میں وہ ملامت نہیں کئے گئے۔ جو ان کے علاوہ کوئی رستہ تلاش کرے گا وہ زیادتی کرنے والوں میں سے ہو گا۔

ان آیات مبارکہ میں اللہ تعالی نے بیویوں اور لونڈیوں کے علاوہ تمام راستوں کو حرام کر دیا ہے۔ جن میں مشت زنی بھی شامل ہے۔

سیدنا ابن مسعود فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے غیر شادی شدہ نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

يا معشر الشباب. من استطاع البائةَ فليتزوّج، فإنه أغضُّ للبصر وأحصَنُ للفرْج. ومن لم يستطع، فعليه بالصَّوم، فإنه لهُ وِجَاءٌ(بخاری، مسلم)

اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو شادی کی طاقت رکھتا ہے وہ شادی کرلے۔ بے شک شادی نظر کو جھکانے والی اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والی ہے۔ اور جو شادی کی طاقت نہیں رکھتا وہ روزے رکھے ،بے شک یہ روزےاس کو حرا م سے بچانے والی ڈھال ہیں۔

اس حدیث مبارکہ میں نبی کریمﷺ نے روزے رکھنے کی طرف راہنمائی فرمائی ہے ۔ آپ نے مشت زنی کا طریقہ نہیں بتلایا۔

مشت زنی کی حلت کے حوالے سے وارد تمام روایات ضعیف اور ناقابل حجت ہیں۔

مشت زنی کے متعدد طبی و نفسیاتی نقصانات ہیں اور یہ اخلاقیات سے گرا ہوا ایک عمل ہے۔

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتویٰ کمیٹی

محدث فتویٰ




ماخذ:مستند کتب فتاویٰ