سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
(82) سفر میں ظہر کی نماز جماعت کے ساتھ اور عصر کی قصر کرنا
  • 21587
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-26
  • مشاہدات : 1626

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر ہم سفر میں ہوں اور ظہر کے وقت ہمارا گزر کسی مسجد سے ہو تو کیا ہم ظہر کی نماز اس مسجد کی جماعت کے ساتھ پڑھیں اور پھر عصر کی نماز الگ قصر کے ساتھ پڑھیں یا ہم اپنی دونوں نمازیں الگ پڑھیں ۔ہمارے لیے مستحب کیا ہے؟اور اگر ہم نے ظہر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھ لی تو کیا تسلسل قائم رکھنے کے لیے سلام پھیرنے کے بعد فوراً عصر کی نماز کے لیے کھڑے ہوں گے۔ یا ذکر اور تسبیح و تہلیل سے فارغ ہونے کے بعد پڑھیں گے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

افضل یہ ہے کہ آپ لوگ اپنی نمازیں الگ قصر کے ساتھ پڑھیں کیونکہ مسافر کے لیے چار رکعت  والی نماز میں قصر کرنا ہی سنت ہے اور اگر آپ مقیم لوگوں کی جماعت کے ساتھ نماز پڑھ رہے ہوں تو پوری نماز پڑھنا ضروری ہے جیسا کہ صحیح حدیثوں سے ثابت ہے اور اگر آپ کا ارادہ جمع کرنے کا ہے تو سنت پر عمل کرتے ہوئے تین بار "استغفراللہ" اور "اللھم انت السلام و منک السلام تبرکت یا ذوالجلال والاکرام"پڑھنے کے بعد فوراً اس کے لیے کھڑا ہو جانا مشروع ہے جیسا کہ جواب نمبر67 میں اس کا بیان گزر چکا ہے۔

لیکن اگر کوئی شخص سفر میں اکیلا ہو تو اس پر واجب ہے کہ وہ لوگوں کی جماعت کے ساتھ پوری نماز پڑھے کیونکہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا واجب ہے اور نماز کا قصر مستحب ہے اور واجب کو مستحب پر مقدم کرنا ضروری ہے۔

 ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

ارکانِ اسلام سے متعلق اہم فتاویٰ

صفحہ:143

محدث فتویٰ

تبصرے