سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(697) ضعیف حدیث پر عمل کرنے کا حکم

  • 2155
  • تاریخ اشاعت : 2012-10-23
  • مشاہدات : 1892

سوال




السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اگر ایک عام شخص صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے علاوہ دیگر کتب احادیث میں احادیث پڑھ کر عمل کرتا رہتا ہے لیکن وہ حدیث ضعیف ہو تو کیا اس کا یہ عمل باطل ہو جائے گا اور قیامت کے دن اس کو سزا ملے گی؟ ازراہ کرم تفصیلی جواب سے مطلع فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر ایک عام شخص صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے علاوہ دیگر کتب احادیث میں احادیث پڑھ کر عمل کرتا رہتا ہے لیکن وہ حدیث ضعیف ہو تو کیا اس کا یہ عمل باطل ہو جائے گا اور قیامت کے دن اس کو سزا ملے گی؟ ازراہ کرم تفصیلی جواب سے مطلع فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اہل علم کے مابین ضعیف حدیث پر عمل کرنے کے بارے میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ جمہور اہل علم کے نزدیک فضائل اعمال سے متعلق ضعیف احادیث پر تین شرائط کی بنیاد پر عمل کیا جا سکتا ہے۔ ان کی وضاحت کرتے ہوئے حافظ ابن حجر لکھتے ہیں:

1۔ حدیث میں شدید نوعیت کا ضعف نہ پایا جاتا ہو۔

2۔ حدیث کو کسی اصل حدیث کے تحت درج کیا جائے (جو کہ صحیح ہو) اور اس پر عمل کیا جاتا ہو۔

3۔ عمل کرتے ہوئے اس حدیث کے ثابت شدہ ہونے پر یقین نہ رکھا جائے بلکہ احتیاطاً عمل کیا جائے۔ (تدریب الراوی ج 1 ص 298-299 اور فتح المغیث ج 1 ص 268)

اگر کوئی شخص غلطی سے ضعیف حدیث پر عمل کرتا رہا ہےلیکن وہ عمل دیگر صحیح احادیث سے بھی ثابت ہے تو وہ اللہ کے ہا مقبول وماجور ہے،اور اگر وہ عمل دیگر احادیث سے ثابت نہ ہو تو جہالت کی بنیاد پران شاء اللہ اس کا وہ عمل اللہ کے ہاں قابل معافی ہے۔کیونکہ حدیث نبویﷺ ہے:

’’ إن الله تجاوز عن أمتي الخطأ والنسيان وما استكرهوا عليه ‘‘

اللہ تعالی نے میری امت سے غلطی سے، بھول کر، یا مجبور ہو کر کیے گئے اعمال سے در گزر کر لیا ہے۔

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتویٰ


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ