سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(38) مزدلفہ میں قیام اور رات گزارنے کا کیا حکم ہے

  • 21498
  • تاریخ اشاعت : 2017-07-13
  • مشاہدات : 433

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مزدلفہ میں قیام اور رات گزارنے کا کیا حکم ہے اور اس قیام کی مدت کیا ہے؟ حجاج کرام کی وہاں سے واپسی کب شروع ہو گی؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صحیح رائے یہ ہے کہ مزدلفہ میں رات گزارنی واجب ہے۔ بعض نے اسے رکن بتایا ہے اور بعض نے مستحب لیکن صحیح رائے یہی ہے کہ واجب ہے اور جو وہاں رات گزارے وہ قربانی کرے۔ اور سنت یہ ہے کہ فجر کی نماز اور پوپھٹنے سے پہلے مزدلفہ سے روانہ نہ ہو۔ وہاں سے منیٰ تلبیہ کہتا ہوا روانہ ہو۔فجر کی نماز کے بعد اللہ کا ذکر کرے اور دعائیں مانگے اور پوپھٹنے کے بعد تلبیہ کہتا ہو منیٰ کی طرف روانہ ہو جائے۔

کمزور عورتوں ، مردوں اور بوڑھوں کے لیے مزدلفہ سے آدھی رات کے بعد روانگی جائز ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایسے لوگوں کو یہ اجازت دی ہے ان کے علاوہ دوسرے طاقت والوں کے لیے سنت یہ ہے کہ مزدلفہ میں قیام کریں فجر کی نماز ادا کریں اور نماز فجر کے بعد اللہ تعالیٰ کا خوب ذکر کریں، پھر طلوع آفتاب سے قبل روانہ ہو جائیں ۔ مزدلفہ میں دونوں ہاتھوں کو اٹھاکر قبلہ رخ ہو کر دعا کرنا سنت ہے جیسا کہ عرفہ میں کیا تھا۔مزدلفہ کا پورا میدان قیام کی جگہ ہے۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

حج بیت اللہ اور عمرہ کے متعلق چنداہم فتاوی

صفحہ:40

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ