سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(10) حالتِ احرام میں پیشاب کے قطرے نکلنا

  • 21470
  • تاریخ اشاعت : 2017-07-13
  • مشاہدات : 166

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اگر حالت احرام میں یا نماز کے لیے جاتے ہوئے مذی یا پیشاب کے قطرے ٹپک جائیں تو اس کا کیا حکم ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر حالت احرام میں یا نماز کے لیے جاتے ہوئے مذی یا پیشاب کے قطرے ٹپک جائیں تو اس کا کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ایسی صورت میں ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ جب نماز کا وقت آئے تو وضو کرے لیکن وضو سے پہلے پیشاب یا مذی سے طہارت حاصل کرنے کے لیے استنجاء کرے۔مذی کی صورت میں آلہ تناسل اور دونوں فوطوں کو دھونا ضروری ہے۔ پیشاب کی صورت میں آلہ تناسل کا وہی حصہ دھونا ہوگا جہاں پیشاب لگا ہو ۔ اس کے بعد اگر نماز کا وقت ہو تو وضو کرے اور اگر ابھی نماز کا وقت نہیں ہوا ہے تو وضو کو نماز کے وقت تک مؤخر کر سکتا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ صرف وسوسہ نہیں یقین کی بنیاد پر ہونا چاہیے وسوسہ میں نہیں پڑنا چاہیے کیونکہ بعض لوگوں کو صرف وہم ہو جاتا ہے کہ کوئی چیز خارج ہوئی ہے حالانکہ ایسا نہیں ہوتا اس لیے وسوسہ کا عادی نہیں بننا چاہیے اور اگر وسوسہ کا خطرہ ہو تو وضو کے بعد اپنی شرمگاہ کے ارد گرد پانی چھڑک لے تاکہ اگر کہیں وسوسہ ہو بھی تو ذہن میں یہ بات آئے کہ یہ تو پانی کے قطرے ہیں۔ ایسا کرنے سے وسوسہ کے شر سے محفوظ رہ سکتا ہے۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

حج بیت اللہ اور عمرہ کے متعلق چنداہم فتاوی

صفحہ:21

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ