سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(3) حج یا عمرہ کی نیت کرنے کے بعد کوئی مانع پیش آنا

  • 21463
  • تاریخ اشاعت : 2017-07-13
  • مشاہدات : 184

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اگر کوئی شخص حج یا عمرہ کی نیت سے تلبیہ کہتے ہوئے میقات سے آگے بڑھ جاتا ہے اور کوئی شرط نہیں لگاتا ۔ اس کے بعد اسے کوئی مانع پیش آجاتا ہے جو اسے نسک (حج یا عمرہ) کی ادائیگی سے روک دیتا ہے تو ایسی صورت میں اسے کیا کرنا ہو گا۔

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر کوئی شخص حج یا عمرہ کی نیت سے تلبیہ کہتے ہوئے میقات سے آگے بڑھ جاتا ہے اور کوئی شرط نہیں لگاتا ۔ اس کے بعد اسے کوئی مانع پیش آجاتا ہے جو اسے نسک (حج یا عمرہ) کی ادائیگی سے روک دیتا ہے تو ایسی صورت میں اسے کیا کرنا ہو گا۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ایسے آدمی کو محصر کہا جا تا ہے، یعنی جس کو راستہ میں کوئی رکاوٹ پیش آگئی ہو، اسے چاہئے کہ صبر کرے،شاید کہ رکاوٹ دور ہو جائے اوروہ  اپنا نسک پورا کر سکے، وگرنہ وہ محصر ہوگا۔ اور اس کاحکم یہ ہے کہ جس جگہ مانع پیش آیا ہے وہیں قربانی کرے گا اور بال کٹوا کر حلال ہو جائے گا۔ چاہے مانع کوئی دشمن ہو یا کوئی اور سبب اور چاہے وہ حرم میں پیش آیا ہو یا حرم سے باہر اور قربانی کا گوشت فقیروں میں بانٹ دے گا۔ اور اگر وہاں پر کوئی آدمی نہ مل سکے تو حرم یا آس پاس کے فقیروں کے درمیان تقسیم کردے گا اور بال کٹوا کر حلال ہو جائے گا اور اگر قربانی کی استطاعت نہیں رکھتا تو دس روزے رکھے اور پھر بال کٹوا کر حلال ہو جائے۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

حج بیت اللہ اور عمرہ کے متعلق چنداہم فتاوی

صفحہ:14

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ