سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(87) مکڑی کو مارنا

  • 21427
  • تاریخ اشاعت : 2017-07-09
  • مشاہدات : 166

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا مکڑی کو مارنا جائز ہے؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ مکڑی کے جالا تاننے کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غار ثور میں کفار کے ہاتھ آنے سے بچ گئے تھے۔ لہذا اسے مارنا جائز نہیں ہے۔ (حنا عبدالرحمٰن۔ کراچی)

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا مکڑی کو مارنا جائز ہے؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ مکڑی کے جالا تاننے کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غار ثور میں کفار کے ہاتھ آنے سے بچ گئے تھے۔ لہذا اسے مارنا جائز نہیں ہے۔ (حنا عبدالرحمٰن۔ کراچی)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مکڑی کو مارنے کی ممانعت کسی صحیح حدیث میں ہمارے علم کے مطابق وارد نہیں ہوئی۔ جو لوگ ہجرت کے واقعہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غار ثور میں تشریف لے گئے، اس وقت غار کے منہ پر مکڑی نے جالا بن دیا تھا، جس کی وجہ سے آپ کفار کے ہاتھوں بچ گئے تھے۔ خطباء اور واعظین اس بات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں۔ لیکن اہل علم کے ہاں یہ بات پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتی۔

ذیل میں اس واقعہ کے متعلق مروی روایات پر مختصر سا تبصرہ درج کیا جاتا ہے۔

(1) اس سلسلہ میں ایک روایت ابو مصعب مکی نے بیان کی ہے کہ میں نے انس بن مالک، زید بن ارقم اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنھم کو گفتگو کرتے ہوئے سنا کہ غار کی رات اللہ تعالیٰ نے ایک درخت کو غار کے دھانے پر اگنے کا حکم دیا۔ تاکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار سے چھپائے اور مکڑی کو بھیج دیا اس نے وہاں پر جالا بن دیا اور دو جنگلی کبوتروں کو بھیج دیا جب قریش مکہ اپنی لاٹھیوں، تلواروں اور کمانوں سمیت تلاش کرتے کرتے وہاں پہنچے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کافروں کے درمیان چالیس ہاتھ کا فاصلہ تھا۔ ان میں سے بعض نے غار کے دھانے کی طرف جلدی سے دیکھا تو اس نے وہاں کبوتروں اور جالے کو دیکھا تو واپس پلٹ گیا۔ تو اس کے ساتھیوں نے کہا: کیا ہوا تو نے غار نہیں دیکھا؟ اس نے کہا میں نے وہاں دو جنگلی کبوتر دیکھے ہیں جس کی وجہ سے میں پہچان گیا کہ اس غار میں کوئی آدمی نہیں۔ اس کی اس بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن لیا جس بناء پر آپ نے جان لیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ہم سے دور کر دیا ہے۔

"کتاب الضعفاء الکبیر للعقیلی جلد 3 صفحہ 422'423۔ طبقات ابن سعد جلد 1 ص 228'229۔ کشف الاستار جلد 2 ص 299 میزان الاعتدال جلد 3 ص 307 دلائل النبوۃ للبیہقی جلد 2 ص 482 البدایۃ والنھایۃ جلد 3 ص 158'159

مذکورہ بالا روایت کے اندر دو خرابیاں ہیں:

(1) اس کو بیان کرنے والا راوی ابو مصعب مکی مجہول راوی ہے۔ یہ بات امام عقیلی نے اپنی کتاب الضعفاء جلد 3 ص 423 میں امام ذھبی نے اپنی کتاب میزان الاعتدال جلد 3 ص 307 میں تحریر کی ہے۔

(2) ابو مصعب سے روایت کرنے والا عون بن عمرو القیسی بھی قابل حجت نہیں ہے۔ امام بخاری نے اسے منکر الحدیث اور امام یحییٰ بن معین نے اسے لا شیء (کچھ نہیں ہے) کہا۔ (میزان الاعتدال جلد 3 ص 304)

یہ روایت حسن بصری سے بھی مروی ہے:

(ملاحظہ ہو البدایہ والنھایہ جلد 3 ص 158۔ مسند ابی بکر الصدیق لابی بکر احمد بن علی المروزی ص 118 رقم الحدیث 73۔ یہ روایت بھی سندا کمزور ہے۔ اس کے اندر بھی دو خرابیاں ہیں)

(1) یہ حسن بصری کی مرسل روایت ہے۔ اور مرسل حدیث جمہور محدثین، فقہاء اور اصولیین کے نزدیک ضعیف ہوتی ہے۔ (اصول الحدیث جلد 1 ص 350)

(2) دوسری خرابی یہ ہے۔ اس کی سند میں بشار بن موسی الخفاف ضعیف راوی ہے۔ امام بخاری نے اسے منکر الحدیث، امام نسائی نے غیر ثقہ اور حافظ ابن حجر وغیرہ نے بہت غلطیاں کرنے والا قرار دیا ہے۔ المغنی فی الضعفاء جلد 1 ص 150 تقریب  ص 44

تیسری روایت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مصنف عبدالرزاق جلد 3 ص 389، مسند احمد جلد 1 ص 348 مجمع الزوائد جلد 7 ص 30 میں مروی ہے اس کی سند میں عثمان بن عمرو الجزری ضعیف راوی ہے۔ امام ابو حاتم رازی نے اسے ناقابل حجت اور حافظ ابن حجر نے اسے ضعیف کہا ہے۔ الجرح والتعدیل جلد 2 ص 126 تقریب ص 235 امام ازدی فرماتے ہیں کہ محدثین اس کی روایت میں کلام کرتے ہیں۔ کتاب الضعفاء والمتروکین لابن جوزی جلد 2 ص 71 ابن حبان کے سوا اسے کسی نے بھی قابل اعتماد قرار نہیں دیا۔ لہذا یہ روایت بھی قابل حجت نہیں۔

اس سلسلے کی چوتھی روایت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ مکڑی کو ہماری جانب سے اچھا بدلہ دے۔ اس نے مجھ پر غار میں جالا بنا تھا۔

(الجامع الصغیر للسیوطی ص 218 رقم الحدیث: 3585)

امام سیوطی نے اس کو مسند فردوس دیلمی کے حوالے سے ذکر کر کے آگے ضعف کی علامت لگائی ہے۔ علامہ البانی حفظہ اللہ نے سلسلہ ضعیفہ جلد 3 ص 338،339 میں اسے نقل کر کے اس کے دو راویوں عبداللہ بن موسی اسلمی اور اس کے استاد ابراہیم بن محمد پر جرح نقل کی۔

مذکورہ بالا توضیح سے واضح ہوا کہ غار ثور کے دھانے پر جالا بننے والی مکڑی کے بارے میں بیان کی گئی روایات صحیح نہیں ہیں۔ لہذا یہ بات درست نہیں۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ہجرت کا واقعہ ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

﴿إِلّا تَنصُروهُ فَقَد نَصَرَهُ اللَّهُ إِذ أَخرَجَهُ الَّذينَ كَفَروا ثانِىَ اثنَينِ إِذ هُما فِى الغارِ إِذ يَقولُ لِصـٰحِبِهِ لا تَحزَن إِنَّ اللَّهَ مَعَنا فَأَنزَلَ اللَّهُ سَكينَتَهُ عَلَيهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنودٍ لَم تَرَوها وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذينَ كَفَرُوا السُّفلىٰ وَكَلِمَةُ اللَّهِ هِىَ العُليا وَاللَّهُ عَزيزٌ حَكيمٌ ﴿٤٠﴾... سورةالتوبة

"اگر تم اس کی مدد نہیں کرو گے تو اللہ ہی نے اس کی مدد کی۔ اس وقت جب کہ اسے کافروں کے دیس سے نکال دیا تھا۔ وہ دو میں سے دوسرا تھا جب کہ وہ دونوں غار میں تھے۔ جب یہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ غم نہ کر، اللہ ہمارے ساتھ ہے پس جناب باری نے اپنی طرف سے تسکین اس پر نازل فرما کر ان لشکروں سے اس کی مدد کی جنہیں تم نے دیکھا بھی نہیں۔ اس نے کافروں کی بات پست کر دی اور بلند و عزیز تو اللہ کا کلمہ ہی ہے۔ اللہ غالب حکمت والا ہے۔"

اس آیت کریمہ میں اللہ نے ہجرت کے دوران مدد کا ذکر کیا ہے ایک سکینہ ہے اور دوسری ایسے لشکروں سے ہے جنہیں دیکھا نہیں گیا جب کہ مکڑی اور کبوتروں کی مدد تو دیکھی جانے والی ہے۔ نہ دیکھی جانے والی مدد اللہ کے فرشتوں سے تھی۔

امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

" وهم الملائكة نزلوا يصرفون وجوه الكفار وأبصارهم عن رؤيته "

(تفسیر بغوی: جلد 2 ص 296)

"وہ اللہ کے فرشتے تھے جو اتر کر کافروں کے چہروں اور آنکھوں کو رسول اللہ کی رؤیت سے پھیرتے تھے۔"

اور اس معنی کی تائید اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے غار کے سامنے ایک آدمی دیکھا۔ فرمانے لگے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم وہ ہمیں دیکھنے والا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہرگز نہیں بےشک فرشتے اب اسے اپنے پروں سے چھپا رہے ہیں۔ پھر وہ آدمی ان کے سامنے پیشاب کرنے بیٹھ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوبکر! اگر یہ دیکھ رہا ہوتا تو یہ کام نہ کرتا۔

(مجمع الزوائد جلد 6 ص 56 اور طبرانی کبیر جلد 24 ص 106 (284)

اس کی سند میں یعقوب بن حمید بن کاسب راوی حسن الحدیث ہے۔ ابن حجر نے تقریب میں اسے صدوق (سچا) قرار دیا ہے۔ مندرجہ بالا دلائل سے واضح ہو گیا کہ مکڑی کے جالے والی روایت جو غار ثور کے متعلق بیان کی جاتی ہے۔ وہ صحیح نہیں ہے۔ لہذا اس روایت سے مکڑی کو نہ مارنے پر استدلال کرنا درست نہ ہوا۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

آپ کے مسائل اور ان کا حل

جلد3۔کتاب البیوع-صفحہ436

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ

ABC