سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(3) ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کیسے ہوئی؟

  • 21343
  • تاریخ اشاعت : 2017-07-04
  • مشاہدات : 1249

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

رفیق غار کا ہجرت کی رات میں واقعہ بیان کرتے ہوئے مولانا فضل محمد صاحب اپنی کتاب "فتنہ ارتداد اور جہاد فی سبیل اللہ" کے صفحہ نمبر 186 پر لکھتے ہیں مختصرا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو جب سانپ نے ڈنک مارا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعاب دہن لگا دیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا درد ختم ہو گیا پھر یہ درد آخری عمر میں دوبارہ اٹھا جس کی وجہ سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی موت واقع ہو گئی۔ گویا رفاقت صدیقی کی کیفیت موت میں بھی ساتھ رہی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی زہر سے شہید ہوئے تھے کیا مذکورہ بات درست ہے کسی حدیث یا مستند کتاب سے حوالہ دیجیے؟ (ذوالفقار احمد۔ راہوالی)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب یہ واقعہ خطیب تبریزی اپنی کتاب "مشکوۃ المصابیح" میں باب مناقب ابی بکر رضی اللہ عنہ کی الفصل الثالث میں امام رزین بن معاویہ العبدری کی "مسند رزین" سے لائے ہیں۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک دفعہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا گیا تو وہ رو پڑے اور فرمانے لگے کاش کہ میرے تمام اعمال ان کے ایک دن اور ایک رات جیسے ہوتے، ایک رات وہ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غار کی طرف چلے جب وہاں پہنچے تو کہا اللہ کی قسم آپ داخل نہ ہوں یہاں تک کہ میں آپ سے پہلے داخل ہو جاؤں، اگر اس میں کوئی ایذا پہنچانے والی چیز ہو گی تو مجھے ایذا پہنچے گی آپ اس سے محفوظ رہیں گے۔ چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ غار میں داخل ہوئے اسے صاف کیا اور اس کی ایک جانب کئی سوراخ تھے۔ انہوں نے اپنے تہہ بند کو پھاڑ کر اس کے ٹکڑوں سے سوراخ بند کئے البتہ دو سوراخ باقی رہ گئے انہوں نے ان میں اپنے دونوں پاؤں داخل کر دیے۔ پھر کہا آپ اب تشریف لائیں چنانچہ آپ داخل ہوئے اور سر ابوبکر رضی اللہ عنہ کی گود میں رکھا اور سو گئے۔

اس دوران ابوبکر رضی اللہ عنہ کا پاؤں سوراخ سے ڈسا گیا لیکن وہ اس لئے نہ ہلے (حرکت نہ کی) کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار نہ ہو جائیں جب آپ کے رخ انور پر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آنسو گرے تو آپ نے دریافت کیا کہ اے ابوبکر! تمہیں کیا ہوا ہے؟ انہوں نے فرمایا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں تو ڈسا گیا ہوں چنانچہ آپ نے اپنا لعاب دہن لگایا تو وہ تکلیف دور ہو گئی۔ پھر اس کے بعد زہر کا اثر ان پر دوبارہ ظاہر ہوا تھا جو ان کی موت کا سبب بنا۔ (الحدیث)

یہ واقعہ مولانا صفی الرحمان مبارکپوری حفظہ اللہ نے بھی "الرحیق المختوم" میں درج کیا ہے لیکن اس روایت کا یہ حصہ جو میں نے درج کیا ہے سند کے اعتبار سے کمزور ہے۔ امام بیہقی نے دلائل النبوۃ ج2 ص 476'477، امام ذہبی نے السیرۃ النبویہ ص 221 اور علامہ ھبۃ اللہ الطبری الالکائی نے شرخ اصول اعتقاد اھل السنۃ والجماعۃ رقم 2426 ج 12 ص 434 میں درج کیا ہے اور علامہ علی متقی ہندی نے کنز العمال رقم 30615 ج 12 ص 494 میں دینوری کی کتاب المجالۃ اور ابوالحسن بن بشران کے فوائد، بیہقی کی دلائل النبوۃ اور لالکائی کی شرح اصول اعتقاد اہل السنہ والجماعۃ کے حوالے سے درج کیا ہے۔

اس کی سند میں عبدالرحمٰن بن ابراہیم الراسبی اور اس کا استاد فرات بن السائب دونوں ضعیف راوی ہیں۔

عبدالرحمن بن ابراہیم الراسبی کے بارے امام ذھبی فرماتے ہیں اس نے ایک طویل باطل روایت ذکر کی ہے اور اس کے وضع کے ساتھ متھم ہے اور فرات بن السائب از میمون بن مھران ازضبہ بن محصن ازابی موسی۔ اس نے غار کا قصہ بھی بیان کیا ہے۔ دوسرے مقام پر فرماتے ہیں۔ اس کی روایت موضوع ہے۔

(میزان الاعتدال 2/545 المغنی فی الضعفاء 2/593، دیوان الضعفاء 2411)

امام ابو نعیم اور امام دارقطنی نے بھی اسے ضعیف کہا ہے (لسان المیزان 3/403)

نیز دیکھیں:

(تنزیۃ الشریعہ المرفوعہ 2/77 الکشف الحثیث عمن رمی بوضع الحدیث 254 کتاب الضعفاء والمتروکین لابن الجوزی 2/988 کتاب الموضوعات 1/212)

فرات بن السائب کے بارے میں امام یحیی بن معین نے فرمایا یہ محض ہیچ ہے، امام دار قطنی و امام نسائی نے متروک، امام ابو حاتم رازی نے ضعیف الحدیث اور منکر الحدیث قرار دیا ہے۔ امام ابن عدی فرماتے ہیں اس کی روایات غیر محفوظ ہیں اور میمون سے منکر روایتیں بیان کرتا ہے اور یہ روایت اس نے میمون سے ہی بیان کی ہے۔ امام بخاری فرماتے ہیں یہ منکر الحدیث ہے اور محدثین نے اسے ترک کر دیا ہے جس کے بارے میں امام بخاری منکر الحدیث کہیں اس سے روایت لینا حلال نہیں۔

(کتاب الضعفاء الصغیر للبخاری 29، التاریخ الکبیر 7/130، التاریخ الصغیر 2/131، المغنی فی الضعفاء 2/175، میزان الاعتدال 3/341، دیوان الضعفاء 488'3346، لسان المیزان 4/430، الضعفاء الکبیر 3/458، کتاب المجروحین 2/207، الضعفاء والمتروکین للدارقطنی 434/141، الجرح والتعدیل 7/455، تنزیہ الشریعہ 1/95، الآلی المصنوعۃ 1/90، 2/115، المدخل الی الصحیح 186)

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ مذکورہ بالا روایت درست نہیں علاوہ ازیں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بارے دو اور روایتیں ہیں۔

(1) ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حارث بن کلدۃ کھانا تناول فرما رہے تھے۔ یہ کھانا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ھدیہ دیا گیا تھا تو حارث نے کہا اے خلیفۃ الرسول کھانے سے اپنا ہاتھ اٹھا لیں اس میں زہر ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہاتھ اٹھا لیا تو دونوں بیمار ہو گئے۔ اور اختتام سال پر دونوں ہی فوت ہو گئے۔

(2) ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سوموار 7 جمادی اخری کے دن غسل فرمایا اس دن سردی تھی تو انہیں بخارہو گیا۔ 15 دن بیمار رہے اس میں فوت ہو گئے۔

(اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابۃ) 3/224'223 الاصابہ فی تمیز الصحابہ 2/344)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

آپ کے مسائل اور ان کا حل

جلد3۔کتاب العقائد و التاریخ-صفحہ41

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ