سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(68) آل بریلی و آل دیوبند کے نزدیک تفسیر ابن عباس (مطبوع) کا علمی مقام

  • 21321
  • تاریخ اشاعت : 2017-07-03
  • مشاہدات : 315

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

آج کل تفسیر ابن عباس(تنویرالمقباس)کے نام سے ایک کتاب مشہور ہے جس سے بعض آل بریلی و آل دیوبند اپنی تحریروں و تقریروں میں چند حوالے بطور استدلال پیش کرتے ہیں۔ اس تفسیر کا علمی مقام کیا ہے؟ تحقیق و ثبوت سے جواب دیں۔(ایک سائل)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ابو طاہر محمد بن یعقوب الفیروز آبادی الشیرازی الشافعی(متوفی 817ھ)کی روایت سے تنویر المقباس(تفسیر ابن عباس)نامی جو تفسیر مشہور ہوئی ہے اس کی آخری سند کا دارومدار"

"محمّد بن مروان السدي الصغير عن الكلبي عن أبي صالح"

السدی عن الکلبی کی یہ تفسیر سلسلۃ الکذب اور جھوٹ کا پلندا ہے۔

تفصیل کے لیے دیکھئے ماہنامہ الحدیث حضرو(عدد24ص49۔61)

فی الحال آل بریلی و آل دیوبند کے دوزبردست حوالے پیش خدمت ہیں۔

1۔احمد رضا خان بریلوی نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے۔

"(3)یہ تفسیر کہ منسوب سید نا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ہے ان کی کتاب ہے نہ ان سے ثابت بسند بن مروان عن الکلبی عن ابی صالح مروی ہے اور آئمہ دین اس سند کو فرماتے ہیں کہ یہ سلسلہ کذب ہے۔

تفسیر اتقان شریف میں ہے:

"وأوهى طرقه طريق الكلبي عن أبي صالح عن ابن عباس فإن. (2/497). انضم إلى ذلك رواية محمد بن مروان السدي الصغير فهي سلسلة الكذب"

اس کے طرق میں سے کمزور ترین طریق کلبی کا ابو صالح سے اور اس کا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت کرنا اگر اس کے ساتھ محمد بن مروان اسدی کی روایت مل جائے تو کذب کا سلسلہ ہے(ت)"(فتاوی رضویہ ج 29ص396)

2۔محمد تقی عثمانی دیوبندی نے لکھا ہے:

"رہے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سواگرچہ وہ باتفاق مفسرین کے امام ہیں لیکن اول تو ان کی تفسیر کتابی شکل میں کسی صحیح سند سے ثابت نہیں ہے۔ آج کل "تنویر المقابس" کے نام سے جو نسخہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی طرف منسوب ہے اس کی سند نہایت ضعیف ہے۔کیونکہ یہ نسخہ محمد بن مروان السدی الصغیر عن الکلبی عن ابی صالح کی سند سے ہے اور اس سلسلہ سند کو محدثین نے"سلسلہ الکذب "قراردیا ہے۔"(فتاوی عثمانی ج1ص215)

ان دونوں بریلوی و دیوبندی فتووں (مفتی بہا اقوال )سے بھی ثابت ہوا کہ تفسیر ابن عباس نامی کتاب کا انتساب سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی طرف صحیح نہیں ہے، لہٰذا اس کتاب سے آل بریلوی و آل دیوبند کے نزدیک بھی استدلال غلط و مردود ہے۔(12/جولائی 2011ء)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاوی علمیہ

جلد3۔اصول ،تخریج الروایات اور ان کا حکم-صفحہ245

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ