السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا خلع صرف عدالت کے ذریعے ہی واقع ہوتا ہے۔؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
فسخ نکاح یا خلع کے لیے عدالت یا حاکم کی شرط نہیں ہے اور یہ کام اصحاب حل وعقد کے ذریعہ بھی ہو سکتا ہے لیکن اگر یہ کام عدالت کے ذریعے طے پائے تو بہتر ہے کیونکہ ہمارے ہاں پاکستان میں نکاح کی رجسٹریشن اور طلاق کا ایک باقاعدہ قانونی نظام ہے جس کا لحاظ نہ رکھنے سے کئی ایک قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
شیخ صالح المنجد اس سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:
خلع کی صورت یہ ہے کہ :
خاونداس کے عوض میں کچھ لے یا پھر وہ کسی عوض پر متفق ہوجائيں اورپھر خاوند اپنی بیوی کوکہے کہ میں نے تجھے چھوڑدیا یا خلع کرلیا یا اس طرح کے دوسرے الفاظ کہے ۔
ھذا ما عندی واللہ أعلم بالصواب