سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(41) میت دفن کرنے کے بعد کوئی تلقین ثابت نہیں

  • 21294
  • تاریخ اشاعت : 2017-06-22
  • مشاہدات : 194

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک کتاب میں لکھا ہواہے کہ"جب میت کے دفن سے فارغ ہوجاؤ تو قبر پر کھڑے ہوکر:

1۔اللہ سے اپنے بھائی کے لیے مغفرت چاہو۔

2۔اس کے لیے ثابت قدم رہنے کی دعا کرو۔

میت کو دفن کرچکنے کے بعد قبر پر یہ پڑھو:

سورۃ البقرۃ آیات اتا5۔۔۔۔۔1بار

سورۃ البقرۃ آیات 285تا286 1بار

میت کو جب دفن کرچکوتو قبر پر کھڑے ہوکرکہو:

 "يَا فُلَانُ ، قُلْ : لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ "

"يا فلانُ، قل: ربيَ اللهُ، ودينِيَ الإسلامُ، ونبيِّ محمدٌ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ "

کیا مذکورہ باتیں  کتاب وسنت سے ثابت ہیں؟تحقیق سے جواب دیں۔(نعیم اقبال ۔اٹلی)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس عبارت میں تین باتوں کا ذکر ہے:

1۔مغفرت چاہنا اور ثابت قدمی کی دعا مانگنا۔

یہ دونوں باتیں سیدنا عثمان  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی بیان کردہ حدیث سے ثابت ہیں۔(دیکھئے سنن ابی داود :3221 وسندہ حسن وصححہ الحاکم 1/37 ووافقہ الذہبی)

2۔سورۃالبقرۃ کی پہلی اور آخری آیات کا عند القبر پڑھنا۔

یہ روایت السنن الکبریٰ للبیہقی(4/56۔57) وغیرہ میں موقوفاً مروی ہے اور اس کی سند میں عبدالرحمان بن العلاء بن اللجلاج مجہول الحال راوی ہے لہذا یہ سند ضعیف ہے۔اس مفہوم کی ایک مرفوع روایت بھی مروی ہے۔(شعب الایمان للبیہقی:9294 المشکوٰۃ:1717)

لیکن اس کی سند ایوب بن نہیک اور یحییٰ بن عبداللہ البابلتی دو مجرومین کی وجہ سے سخت ضعیف ہے۔

3۔یافلان والی روایت بلوغ المرام(ح471) میں بحوالہ سعید بن منصور مذکورہے اور اس کی سند میں اشیاخ من اھل حمص سارے کے سارے مجہول ہیں۔(دیکھئے بلوغ المرام مترجم طبع دارالسلام ج1ص 423)

المعجم الکبیر للطبرانی(8/298ح7979)میں اس کا ایک ضعیف شاہد بھی ہے،جس میں راویوں کی ایک جماعت مجہول ہے۔(دیکھئے مجمع الزوائد 2/324)

اس روایت کو حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ  نے:

"وإسنادهُ صالحٌ ، وقد قواهُ الضياءُ في " أحكامهِ " لکھا ہے۔(التلخیص الجیر 2/135۔136ح796)

حالانکہ اس کی سند میں محمد بن ابراہیم بن العلاء الحمصی بھی ہے،جس کے بارے میں حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ  نے خود لکھا ہے:"منکر الحدیث"(تقریب التہذیب 5698)

خلاصہ یہ کہ قبر پر دفن کرنے کےبعدکسی قسم کی تلقین کرنا ثابت نہیں،لہذا اس سے اجتناب کرناچاہیے اور وفات سے  پہلے تلقین ثابت ہے،لہذا شرعی حدودوقیود کومد نظر رکھتے ہوئے اس کااہتمام کرنا چاہیے۔(19/رجب 1433ھ بمطابق 10 جون 2012ء)

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاوی علمیہ

جلد3۔نمازِ جنازه سے متعلق مسائل-صفحہ139

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ