سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(2) تہتر فرقے اور اُمت اجابت

  • 21255
  • تاریخ اشاعت : 2017-06-20
  • مشاہدات : 220

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
محترم حافظ صاحب! ایک حدیث کی وضاحت فرمادیں:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ میری اُمت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوگی ،تمام فرقے جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے۔(مشکوٰۃ:172)
اس حدیث میں جو فرقے ہیں،کیا اس سے مسلمانوں کے فرقے مراد ہیں یا یہود ونصاریٰ بھی اس میں شامل ہیں؟ہمارے ساتھیوں میں اس مسئلے میں اختلاف ہوگیا،بعض نے مسلمانوں کے فرقے مراد لیے اور بعض نے ساری اُمت میں یہود ونصاریٰ ،ہندوبت پرست،آتش پرست وغیرہ بھی شامل کیے ہیں۔محدثین وشارحین کا اس مسئلے میں کیا موقف ہے؟
آپ اس کا مفصل جواب تحریر فرمائیں اور محدثین وشارحین کے حوالہ جات بھی ضرور لکھیں۔جزاکم اللہ خیرا(ابوابراہیم خرم ارشاد محمدی۔دولت نگر)

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محترم حافظ صاحب! ایک حدیث کی وضاحت فرمادیں:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ میری اُمت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوگی ،تمام فرقے جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے۔(مشکوٰۃ:172)

اس حدیث میں جو فرقے ہیں،کیا اس سے مسلمانوں کے فرقے مراد ہیں یا یہود ونصاریٰ بھی اس میں شامل ہیں؟ہمارے ساتھیوں میں اس مسئلے میں اختلاف ہوگیا،بعض نے مسلمانوں کے فرقے مراد لیے اور بعض نے ساری اُمت میں یہود ونصاریٰ ،ہندوبت پرست،آتش پرست وغیرہ بھی شامل کیے ہیں۔محدثین وشارحین کا اس مسئلے میں کیا موقف ہے؟

آپ اس کا مفصل جواب تحریر فرمائیں اور محدثین وشارحین کے حوالہ جات بھی ضرور لکھیں۔جزاکم اللہ خیرا(ابوابراہیم خرم ارشاد محمدی۔دولت نگر)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اُمت کی دو قسمیں ہیں:

1۔اُمتِ دعوت مثلاً یہودونصاریٰ ،ہندواور قادیانی مرزائی وغیرہ ہر قسم کے کافر ان سب لوگوں پر فرض ہے کہ دین اسلام قبول کریں اور کفر وشرک ترک کردیں۔

2۔اُمت اجابت یعنی کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کرنے والے یا اس کا دعویٰ کرنے والے لوگ،بشرط یہ کہ وہ ضروریات دین کا انکار کرکے کافر ومرتد نہ قرار  پائیں ،مثلاً مرجیہ،شیعہ،خوارج اور مبتدعین وغیرہ۔

یاد رہے کہ اُمت اجابت سے قادیانی مرزائی اور بہائی وغیرہ خارج ہیں۔

اس تمہید کے بعد عرض ہے کہ حدیث مذکور میں اُمت سے مراد اُمت اجابت یعنی اُمت محمدیہ ہے(صلی اللہ علیہ وسلم) جیسا کہ شارحین حدیث اوردیگر علماء نے صراحت کی ہے اور اس کے فی الحال دس حوالے پیش خدمت ہیں:

1۔ترمذی(بتبويبه قبل ح،2640) "ما جاء في افتراق هذه الأمة"

يعنی اس اُمت کے فرقوں کے بارے میں جو(باب) آیا ہے۔

2۔معالم السنن للخطابی(4/295 کتاب شرح السنہ)

3۔عارضۃ الاحوذی(10/108۔109۔1 ح 2640 اشارۃ)

4۔الکاشف عن حقائق السنن یعن شرح الطیبی عن مشکاۃ المصابیح ج1 ص 368 ح 171)

5۔فیض القدیر للمناوی الصوفی(2/26 ت 1223)

6۔حاشیۃ السندھی علی سنن ابن ماجہ(2/479ح3991)

7۔تحفۃ الاحوذی(3/367 ح2640) وقال:"المراد من " أمتي " الإجابة" "یعنی من اُمتی سے مراد اُمت اُجابت ہے"

8۔مرعاۃ المفاتیح(1/270ح171)

9۔انجاز الحاجہ شرح سنن ابن ماجہ(11/397ح3991)

10۔علمائے کرام نے اس حدیث سے مراد اُمت مسلمہ کے فرقے،مثلاً خوارج،شیعہ اور مرجیہ وغیرہ لیے ہیں۔

دیکھئے الفرق فی الفرق لعبد القاہر البغدادی اور غنیۃ الطالبین لعبد القادر جیلانی وغیرہما۔

معلوم ہواکہ اس حدیث سے مسلمانوں کے یا اسلام کی طرف منسوب فرقے مراد ہیں۔یہود ونصاریٰ اور کفارومرتدین مراد نہیں ہیں۔(12/جون 2010ء)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاوی علمیہ

جلد3۔توحید و سنت کے مسائل-صفحہ16

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ