سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

دعائے قنوت رکوع سے پہلے یا بعد میں

  • 212
  • تاریخ اشاعت : 2011-12-06
  • مشاہدات : 746

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میں پہلے رکوع کے بعد قنوت پڑھتا تھا لیکن ایک جگہ اس موضوع پر دلائل سے یہ لکھا گیا تھا (جس کو آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں)کہ وتر میں قنوت رکوع سے پہلے پڑھتے ہیں تو میں اب رکوع سے پہلے پڑھتا ہوں۔ جس کا طریقہ یہ ہے کہ وتر شروع کر کے ثناء پھر سورۃ الفاتحہ،پھرکوءی دوسری  سورۃ اور پھر قنوت،کیا یہ درست ہے۔؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں پہلے رکوع کے بعد قنوت پڑھتا تھا لیکن ایک جگہ اس موضوع پر دلائل سے یہ لکھا گیا تھا (جس کو آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں)کہ وتر میں قنوت رکوع سے پہلے پڑھتے ہیں تو میں اب رکوع سے پہلے پڑھتا ہوں۔ جس کا طریقہ یہ ہے کہ وتر شروع کر کے ثناء پھر سورۃ الفاتحہ،پھرکوءی دوسری  سورۃ اور پھر قنوت،کیا یہ درست ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 علامہ البانی رحمہ اللہ کا کہنا یہ ہے کہ دعائے قنوت رکوع سے پہلے ہے اور جن روایات میں رکوع کے بعد کا تذکرہ ہے تو اس سے مراد قنوت نازلہ ہے۔ امام ابن حجر رحمہ اللہ کا بھی یہی رائے ہے۔اگر چہ بعض اہل علم مثلا امام احمد بن حنبل، امام شافعی رحمہا اللہ وغیرہ رکوع کے بعد دعائے قنوت کے قائل ہیں۔امام ابن حجر رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ بعض صحابہ سے یہ ملتا ہے کہ وہ رکوع کے بعد بھی دعائے قنوت کر لیا کرتے تھے لہذا یہ جائز اور مباح امر ہے اگرچہ رکوع سے پہلے قنوت کرنا زیادہ افضل ہے۔امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے وتر میں رکوع کے بعد دعائے قنوت کو فرض نمازوں میں آپ کی قنوت نازلہ کے عمل پر قیاس کیا ہے۔

خلاصہ کلام یہی ہے کہ رکوع سے پہلے دعائے قنوت افضل ہے اور رکوع کے بعد دعائے قنوت مباح اور جائز امر ہے۔

ھذا ما عندی واللہ أعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ