سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(299) قبر پرمٹی ڈالنا اور پانی چھڑکنا

  • 21192
  • تاریخ اشاعت : 2024-03-02
  • مشاہدات : 1158

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قبر پر(مٹی ڈالنے کے بعد)پانی چھڑکنے سے متعلق احادیث کی تحقیق و حکم درکار ہے(محمد صدیق ،ایبٹ آباد)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قبر پر پانی چھڑکنے والی تمام روایات بلحاظ ضعیف ہیں جیسا کہ راقم الحروف نے تخریج الا دحایث (ماہنامہ شہادت مئی 2003ء)ربیع الاول 1424ھ ج 10،شمارہ 5میں ص34) پر ایک سوال کے جواب میں اشارہ کیا۔

صحیح مسلم میں ہے۔

"انْتَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَبْرٍ رَطْبٍ"

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  ایک ترو نرم قبر کے پاس پہنچے۔(ج1ص309ح954وترقیم دارالسلام :2211)

"رطب"نرم و نازک ، تروتازہ اور تر کو کہتے ہیں۔(القاموس الوحید ص635)

یہ لفظ یابس(خشک)کی ضد ہے۔ یعنی حدیث مذکورہ میں پانی سے ترو نرم قبر کا ذکر ہے۔ محدث عبد الرزاق نے اس مفہوم کی ایک روایت "باب الرش علی القبر"کے تحت ذکر کی ہے۔(ج3ص501،ح6483)

خلاصہ یہ کہ قبر پر پانی چھڑکنا جائز ہے۔(شہادت، مارچ 2004ء)

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

فتاوی علمیہ

جلد1۔كتاب الجنائز-صفحہ546

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ