سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(298) قبر پر پانی چھڑکنا

  • 21191
  • تاریخ اشاعت : 2024-04-16
  • مشاہدات : 817

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قبر پر پانی چھڑکنے کے بارے میں کوئی صحیح یا حسن روایت درکار ہے؟(محسن سلفی، کراچی)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سنن ابن ماجہ والی روایت "ورش القبر بالماء" اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے سعد(بن معاذ) رضی اللہ  تعالیٰ عنہ  کی قبر پر پانی چھڑکا تھا۔ (الجنائز باب ماجاء فی ادخال المیت القبرح1551)

مندل بن علی اور محمد بن عبید اللہ ابی رافع کی وجہ سے ضعیف ہے۔تسہیل الحاجہ (ص107مصنف عبدالرزاق6481اورالسنن الکبری للبیہقی (3/411)میں قبرپر پانی چھڑکنے والی کئی ضعیف و مردود روایات موجود ہیں۔

(شہادت مئی2003ء)

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

فتاوی علمیہ

جلد1۔كتاب الجنائز-صفحہ546

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ