سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(74) مشت زنی کا حکم

  • 20890
  • تاریخ اشاعت : 2017-05-24
  • مشاہدات : 418

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں نوجوان آدمی ہوں اور کچھ عرصہ سے ایک عادت بد مشت زنی میں مبتلا ہوگیا ہوں اور بعض دفعہ میرا ضمیر مجھے ملامت کرتا ہے اور میں شرمندگی بھی محسوس کرتا ہوں حالانکہ میں نمازیں بھی پابندی سے ادا کرتا ہوں۔اسے چھوڑنا بھی چاہتا ہوں لیکن پھر بھی ترک نہیں کرتا۔میری صحیح راہنمائی فرمائیں کہ کیا شریعت میں اس کی کوئی رخصت موجود ہے یا نہیں۔مزید تفصیل ذکر نہیں کرسکتا۔آپ کتاب وسنت کی رو سے اس مسئلہ کی اچھی طرح وضاحت فرمائیں۔(ایک سائل،بھکر)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جس عادت بدکا آپ نے ذکر کیا ہے،یہ شرعاً بالکل حرام ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿قَد أَفلَحَ المُؤمِنونَ ﴿١ الَّذينَ هُم فى صَلاتِهِم خـٰشِعونَ ﴿٢ وَالَّذينَ هُم عَنِ اللَّغوِ مُعرِضونَ ﴿٣ وَالَّذينَ هُم لِلزَّكو‌ٰةِ فـٰعِلونَ ﴿٤ وَالَّذينَ هُم لِفُروجِهِم حـٰفِظونَ ﴿٥ إِلّا عَلىٰ أَزو‌ٰجِهِم أَو ما مَلَكَت أَيمـٰنُهُم فَإِنَّهُم غَيرُ مَلومينَ ﴿٦ فَمَنِ ابتَغىٰ وَراءَ ذ‌ٰلِكَ فَأُولـٰئِكَ هُمُ العادونَ ﴿٧﴾... سورة المؤمنون

"یقیناً ایمان والوں نے فلاح حاصل کرلی (1) جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں (2) جو لغویات سے منھ موڑ لیتے ہیں (3) جو زکوٰة ادا کرنے والے ہیں (4) جو اپنی شرمگاہوں کی حفاﻇت کرنے والے ہیں (5) بجز اپنی بیویوں اور ملکیت کی لونڈیوں کے یقیناً یہ ملامتیوں میں سے نہیں ہیں (6) جو اس کے سوا کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کرجانے والے ہیں"

ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ایسے آدمی کی مدح کی ہے جو اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرتا ہے اور اپنی خواہش کو پورا کرنے کا کوئی غیر شرعی طریقہ اختیار نہیں کرتا۔اللہ تعالیٰ نے خواہش کو پورا کرنے کے لیے دو جائز مقامات کا ذکر کیا ہے،ایک بیوی اور دوسری باندی۔اور پھر فرمایا:"ان کے علاوہ کوئی اور راہ تلاش کرنے والا اللہ کی حدوں سے تجاوز کرنے والا ہے۔"لہذا معلوم ہوا کہ مشت زنی ان دو صورتوں کے علاوہ ہے اور شرعاً حدود اللہ سے تجاوز کرنا ہے جو کہ حرام ہے۔

امام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:

"وقد استدل الإمام الشافعي رحمه الله ومن وافقه على تحريم الاستمناء باليد بهذه الاية الكريمة {وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ ﴿٥﴾ إِلَّا عَلَىٰ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ } قال فهذا الصنيع خارج عن هذين القسمين "(تفسیر ابن کثیر 3/264)

"امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ  نے اور جنھوں نے ان کی موافقت کی ہے اس آیت کریمہ(جواپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ماسوائے اپنی بیویوں اور باندیوں کے) سے استدلال کیا ہے کہ مشت زنی حرام ہے اس لیے کہ یہ عمل ان دونوں قسموں(بیوی،باندی) سے خارج ہے۔"

نیز امام شافعی  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:

"فلا يَحِلُّ الْعَمَلُ بِالذَّكَرِ إلا في الزوجة أو في مِلْك اليمين، ولا يَحِلُّ الاستمناء واللہ اعلم"(احکام القرآن للشافعی ص:وکتاب الام 5/129)

"بیوی یا باندی کے سوا شرمگاہ کا استعمال حلال نہیں۔اور نہ ہی مشت زنی حلال ہے۔"

حرملہ بن عبدالعزیز  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:

"سألت مالكا عن الرجل يجلد عميرة ، فتلا هذه الآية وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ ......)"

(احكام القرآن لابی بکرابن العربی 3/1310 وتفسیر قرطبی 12/71)

"میں نے امام مالک  رحمۃ اللہ علیہ  سے مشت زنی کرنے والے آدمی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے یہ آیت کریمہ تلاوت کی(جو لوگ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔۔۔)۔"

علامہ محمد الامین الشنقیطی   رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:

"اعلم أنه لا شك في أن آية { قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ } [ المؤمنون : 1 ] هذه التي هي (فَمَنِ ابْتَغَىٰ وَرَاءَ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْعَادُونَ) تدل بعمومها على منع الاستمناء باليد المعروف ، بجلد عميرة ، ويقال له الخضخضة ، لأن من تلذذ بيده حتى أنزل منيه بذلك ، قد ابتغى وراء ما أحله الله ، فهو من العادين بنص هذه الآية الكريمة"(اضواء البیان 5/769،770)

"جان لیجئے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سورۃ مومنون کی مذکورہ آیت کریمہ اپنی عمومیت کے اعتبار سے مشت زنی جو جلد عمیرہ کےنام سے معروف ہے اور اسے خضخضة بھی کہا جاتا ہے کی حرمت پر دلالت کرتی ہے۔اس لیے کہ جس شخص نے اپنے ہاتھ سے لذت حاصل کی حتیٰ کہ اس طرح اس کی منی نکل آئی تو اس نے اللہ تعالیٰ نے جو اس کے لیے حلال کیا تھا۔اس کے علاوہ راہ تلاش کی وہ اس آیت کریمہ کی نص قطعی کے ساتھ حدود اللہ سے تجاوز اختیار کرنے والوں میں سے ہے۔"

آگے مزید  فرمایا:

"وهذا العموم لا شك أنه يتناول بظاهره ناكح يده، وظاهر عموم القرآن لا يجوز العدول عنه إلا لدليل من كتاب، أو سنة يجب الرجوع إليه، أما القياس المخالف له فهو فاسد الاعتبار"(اضواء البیان 5/771)

"اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ عموم اپنے ظاہری اعتبار سے مشت  زنی کرنے والے کو شامل ہے اور قرآن کے ظاہر سے اس وقت تک نکلنا جائز نہیں جب تک کتاب وسنت میں کوئی ایسی دلیل موجود ہو جس کی طرف لوٹنا واجب ہو۔بہرحال جو قیاس اس کے مخالف ہوتو اسے فاسد سمجھا جائے گا۔"

قرآن پاک کی اس  آیت کریمہ اور ائمہ محدثین  رحمۃ اللہ علیہ  کی ان توضیحات سے واضح ہوگیا کہ مشت زنی حرام اور حدود اللہ سے تجاوز کرنا ہے لہذا اس عادت بد سے اجتناب کرنا چاہیے۔جہاں شرعاً یہ اسلام ہے  طبی طور پر اس کے بڑے نقصانات ہیں یہ کئی امراض کا سبب بنتی ہے اس سے نظرکی کمزوری بھی آتی ہے اور مردمی امتیازات بھی ختم ہوتے ہیں اور جو آدمی اس مرض بد میں مسلسل مبتلا ہو وہ شادی کے قابل نہیں رہتا اور اگر بالفرض اس کی شادی ہوجائے تو اپنی بیوی کے صحیح معنوں میں حقوق ادا نہیں کرسکتا۔علاوہ ازیں اس سے اعصابی کمزوری بھی پیدا ہوتی ہے کمر کے مہروں میں بھی درد ہونے لگتا ہے کیونکہ یہی وہ صلب ہے جس  سے مادہ منویہ کا اخراج ہوتا ہے اور یہ بھی کہ مرد کا مادہ تحلیل ہونے لگتا ہے جس سے مادہ پتلا ہوجاتا ہے اور کیڑوں سے خالی ہوتا جاتا ہے جس سے اولاد کے نہ پیدا ہونے کی صورتحال بن جاتی ہے اور انسان اپنی زندگی سے مایوس ہونے لگتا ہے اس لیے اس صورتحال سے بچنے کے لیے ایسا طرز عمل اپنانا چاہیے جسے شرع نے جائز رکھا ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا:

"يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ البَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِيعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وَجَاءٌ"

(صحیح بخاری کتاب النکاح(5066) صحیح مسلم کتاب النکاح 2/1019(1400)

"اے نوجوانوں کی جماعت جو تم میں سے اسباب نکاح کی طاقت رکھتا ہو وہ شادی کرے یہ نگاہ کو پست رکھنے اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے کے لیے ہے اور جسے نکاح کی طاقت نہ ہو،وہ روزے رکھے۔یہ اس کے لیے خصی کرنا ہے۔"

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی آدمی اپنی شہوت کی تسکین کے لیے نکاح جیسے پاکیزہ فعل کی طاقت نہ رکھتا ہو،وہ روزے رکھے کیونکہ روزہ انسان کو خصی کردیتا ہے یعنی اس کی شہوت کوتوڑتا ہ ے ان شاء اللہ جو آدمی اس علاج نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  پر عمل کرے گا،اللہ تعالیٰ اسے ضرور شفا بخشے گا اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے گا اور جو اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے گا اس کے لیے نبوی بشارت ہے۔سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا:

((مَنْ يَضْمَنْ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ أَضْمَنْ لَهُ الْجَنَّةَ))

(شرح السنۃ باب حفظ اللسان 14،313 صحیح بخاری کتاب الرقاق باب حفظ اللسان (6474) وکتاب المحاربین باب فضل من ترک الفواحش،مسند احمد 5، 333ترمذی کتاب الذھد باب ماجاء فی حفظ اللسان(2416) بیہقی 8/116) ابن حبان(5701) طبرانی(5960)

"جو آدمی مجھے زبان اور شرمگاہ کی ضمانت دے دے میں اسے  جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔"

لہذا اس نبوی نسخہ پر عمل پیرا ہوکر زبان وشرمگاہ کی حفاظت کرکے جنت کے حصول کے لیے کوشاں ہونا چاہیے اور بدکردار لوگوں کی مجلس میں بیٹھنے سے اجتناب کیا جائے ۔اچھے افراد کی مجلس اختیار کی جائے جہاں نیکی اورتقویٰ کی گفتگو ہو تاکہ وساوس شیطانی سے اجتناب کیا جاسکے جو شخص اس عادت خبیثہ کو ترک نہ کر سکے وہ کسی اچھے طبیب سے بھی رابطہ کرسکتا ہے  تاکہ علاج کے ذریعے اس سے نجات حاصل کی جاسکے کیونکہ علاج کی بھی شرع میں رخصت موجود ہے۔

اسامہ بن شریک  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کہتے ہیں:

"عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ : قَالَتِ الأَعْرَابُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلا نَتَدَاوَى ، قَالَ : نَعَمْ يَا عِبَادَ اللَّهِ تَدَاوَوْا فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلا وَضَعَ لَهُ شِفَاءً "

(ترمذی کتاب الطب (2045) الادب المفرد(291) ابوداود کتاب الطب (3855) ابن ماجہ کتاب الطب(3436) مسند حمیدی(824) طبرانی کبیر (469)مسند طیالسی(1232) بیہقی 9/343 شرح السنہ(3226)

"دیہاتیوں نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کیا ہم علاج نہ کریں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا ہاں! اے اللہ کے بندو وعلاج کرو یقیناً اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری نازل نہیں کی مگر اس کے لیے شفا بھی رکھی ہے۔"

اسی طرح ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  فرماتے ہیں ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

"مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً"(بخاری کتاب الطب (5678)

"اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری نازل نہیں کی مگر اس کے لیے شفاء بھی اتاری ہے۔"

لہذا کسی صحیح واچھے طبیب سے رابطہ کرکے دوا بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔لیکن یادرہے کہ فٹ پاتھوں پر بیٹھے ہوئے جاہل وفراڈیے قسم کے لوگوں سے اجتناب کیا جائے یہ لوگ نوجوان نسل کو بگاڑنے میں بہت آگے نکل چکے ہیں۔علاج کروانے کے لیے وہ دوائیں استعمال کی جائیں جو حرام نہ ہوں۔

         
ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

آپ کے مسائل اور ان کا حل

جلد2۔كتاب الادب۔صفحہ نمبر 579

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ