سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(5) شیعہ اور قرآن

  • 20821
  • تاریخ اشاعت : 2017-05-20
  • مشاہدات : 1641

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا یہ بات واقعی درست ہے کہ شیعہ اثنا عشریہ کا ہمارے پاس موجود قرآن حکیم پر ایمان نہیں ہے اور یہ اس قرآن میں تحریف کے قائل ہیں۔اس مسئلہ کو صحیح اورٹھوس دلائل سے واضح کریں۔(نثار احمد،سرگودھا)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اللہ وحدہ  لا شریک نے اپنے انبیاءورسل  علیہ السلام  پر کتب وصحائف نازل فرمائے۔اور اسی سلسلے کی آخری کڑی امام اعظم سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  ہیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  پر بذریعہ جبرئیل امین  علیہ السلام  قرآن نازل کیا جیسا  کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿قُل مَن كانَ عَدُوًّا لِجِبريلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلىٰ قَلبِكَ بِإِذنِ اللَّهِ مُصَدِّقًا لِما بَينَ يَدَيهِ وَهُدًى وَبُشرىٰ لِلمُؤمِنينَ ﴿٩٧ مَن كانَ عَدُوًّا لِلَّهِ وَمَلـٰئِكَتِهِ وَرُسُلِهِ وَجِبريلَ وَميكىٰلَ فَإِنَّ اللَّهَ عَدُوٌّ لِلكـٰفِرينَ ﴿٩٨﴾... سورةالبقرة

"(اے نبی!) آپ کہہ دیجیئے کہ جو جبریل کا دشمن ہو جس نے آپ کے دل پر پیغام باری تعالیٰ اتارا ہے، جو پیغام ان کے پاس کی کتاب کی تصدیق کرنے  والا اور مومنوں کو ہدایت اور خوشخبری دینے والا ہے۔ (97) (تو اللہ بھی اس کا دشمن ہے) جو شخص اللہ کا اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبرائیل اور میکائیل کا دشمن ہو، ایسے کافروں کا دشمن خود اللہ ہے "

اس آیت کریمہ میں واضح کیا گیا ہے کہ جبریل امین علیہ السلام  یہ قرآن لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  پر نازل ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے خود اس کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿إِنّا نَحنُ نَزَّلنَا الذِّكرَ وَإِنّا لَهُ لَحـٰفِظونَ ﴿٩﴾... سورةالحجر

"بے شک ہم نے ہی اس ذکر(قرآن ) کو نازل کیا اور بے شک ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔"

ایک اور مقام پر فرمایا:

﴿إِنَّ الَّذينَ كَفَروا بِالذِّكرِ لَمّا جاءَهُم وَإِنَّهُ لَكِتـٰبٌ عَزيزٌ ﴿٤١ لا يَأتيهِ البـٰطِلُ مِن بَينِ يَدَيهِ وَلا مِن خَلفِهِ تَنزيلٌ مِن حَكيمٍ حَميدٍ ﴿٤٢﴾... سورة فصلت

"بے شک وہ لوگ جنھوں نے قرآن حکیم کے ساتھ کفرکیا جب ا ن کے پاس آیا مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک زبردست کتاب ہے۔باطل نہ سامنے سے اس پر آسکتا ہے نہ پیچھے سے یہ ایک حکیم وحمید کی نازل کردہ چیز ہے۔"

معلوم ہواکہ قرآن پاک ایک ایسی  کتاب ہے جس میں باطل کو دخل نہیں اور اسکی حفاظت کی ذمہ داری رب ذوالجلال والاکرم نے لے رکھی ہے۔قرآن حکیم لاریب کتاب ہے اس میں تبدیلی وتحریف ناممکن ہے قرآن حکیم کایہ اعجاز ہے کہ اس جیسی کتاب نہ کوئی لاسکتا ہے اور نہ ہی لاسکے گا۔نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے جب یہ وحی الٰہی لوگوں کو سناتا شروع کی تو کفار نے کہاکہ اس میں کچھ ترمیم کرلو تب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی بات مان سکتے ہیں تو ارشاد الٰہی ہوا:

﴿وَإِذا تُتلىٰ عَلَيهِم ءاياتُنا بَيِّنـٰتٍ قالَ الَّذينَ لا يَرجونَ لِقاءَنَا ائتِ بِقُرءانٍ غَيرِ هـٰذا أَو بَدِّلهُ قُل ما يَكونُ لى أَن أُبَدِّلَهُ مِن تِلقائِ نَفسى إِن أَتَّبِعُ إِلّا ما يوحىٰ إِلَىَّ إِنّى أَخافُ إِن عَصَيتُ رَبّى عَذابَ يَومٍ عَظيمٍ ﴿١٥﴾... سورةيونس

"اور جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں جو بالکل صاف صاف ہیں تو یہ لوگ جن کو ہمارے پاس آنے کی امید نہیں ہے یوں کہتے ہیں کہ اس کے سوا کوئی دوسرا قرآن لائیے یا اس میں کچھ ترمیم کردیجئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) یوں کہہ دیجئے کہ مجھے یہ حق نہیں کہ میں اپنی طرف سے اس میں ترمیم کردوں بس میں تو اسی کا اتباع کروں گا جو میرے پاس وحی کے ذریعہ سے پہنچا ہے، اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں"

معلوم ہواکہ وحی الٰہی قرآن پاک میں تغیر وتبدل کا حق کسی کو نہیں ہے ہمارے نزدیک قرآن حکیم ایک مکمل وجامع کتاب ہے اس میں کسی قسم کا شبہ ،تغیروتبدل اورتحریف سے کام نہیں لیاگیا جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کو جمع کرنے کے لیے کہا انہوں نے اسی طرح اس کو جمع کردیا۔قرآن پاک کی تحریف کا قائل مسلمان نہیں ہے۔ امام ابن حزم  رحمۃ اللہ علیہ  نے اپنی کتاب"الفصل فی الملل والھواء والنحل"میں نصاریٰ کایہ الزام نقل کیا:

"وايضا فان الروافض يزعمون ان اصحاب نبيكم بدلو القرآن واسقطعوا منه وزادوافيه "(الفصل 2/75)

"نیز روافض  دعویٰ کرتے ہیں کہ تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  نے قرآن پاک کو تبدیل کردیا ہے اور اس میں سے  کچھ آیات گرادی ہیں اور کچھ زیادہ کردی ہیں۔"

اس بات کاجواب دیتے ہوئے امام ابن  حزم  رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"قال ابن حزم: ( وأما قولهم- يعني النصارى- في دعوى الروافض تبديلَ القرآن، فإن الروافض ليسوا من المسلمين، إنما هي فرقة حدث أولها، بعد موت رسول الله صلى الله عليه وسلم بخمس وعشرين سنة، وهي طائفة تجري مجرى اليهود والنصارى في الكذب والكفر"(الفصل 2/78)

رہا نصاریٰ کایہ کہنا کہ روافض کادعویٰ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  نے قرآن تبدیل کردیا تھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ روافض کا شمار مسلمانوں میں نہیں ہے۔یہ ایسے فرقے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی وفات کے 25 سال بعد پیدا ہوئے اور ان فرقوں کی ابتداء اس شخص کی دعوت کو قبول کرنے کی وجہ سے ہوئی جسے اللہ تعالیٰ نے اسلام کےخلاف سازشیں کرنے والوں کا داعی ہونے کی وجہ سے ذلیل ورسوا کردیا تھا اور یہ روافض کا گروہ جھوٹا ہونے اور کفر میں یہود ونصاریٰ کے راستے پر گامزن ہے۔

حافظ ابن حزم اندلسی  رحمۃ اللہ علیہ  کی اس توضیح سے معلوم ہواکہ اہلحدیث کے نزدیک تحریف قرآن کا قائل مسلمان نہیں ہےروافض کو انہوں نے مسلمانوں سے شمار نہیں کیا۔اس  لیے کہ یہ لوگ  تحریف قرآن کے قائل اور عقائد فاسدہ رکھتے تھے۔شیعہ حضرات کا ایمان موجودہ قرآن کریم پر نہ ہے اور نہ ہی ہوسکتا ہے اور اس کی وجوہات درج ذیل ہیں:

1۔پہلی وجہ:

شیعہ حضرات کے عقائد کا جزولاینفک ہے کہ ناقلان قرآن اور راویان دین اسلام یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کی جماعت جھوٹی تھی ان  میں سے ایک آدمی بھی ایسا نہ تھا جس نے حق وصداقت کو دل وجان سے قبول کیا ہو اور ان کے نزدیک ،اصحاب رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کے دوگروہ تھے ایک گروہ خلفائے ثلاثہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  اور دیگرہزاروں کی تعداد میں موجود تھا۔دوسرا گروہ علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور ان کے چندساتھیوں پر مشتمل تھا۔پہلے گروہ کے جھوٹ کا نام انہوں نے نفاق رکھا اور دوسرے گروہ کے جھوٹ کانام تقیہ رکھا ہے۔شیعہ حضرات کا ثقہ اسلام ابوجعفر محمد بن یعقوب الکلینی (المتوفی 328/329ھ) لکھتا ہے کہ:

1۔امام باقر  رحمۃ اللہ علیہ  نے فرمایا:

"كَانَ النَّاسُ أَهْلَ رِدَّةٍ بَعْدَ النَّبِيِّ ( صلى الله عليه وآله ) إِلَّا ثَلَاثَةً فَقُلْتُ وَ مَنِ الثَّلَاثَةُ فَقَالَ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ وَ أَبُو ذَرٍّ الْغِفَارِيُّ وَ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ"( کتاب الروضہ من الکافی 8/245)

"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی وفات کے بعد لوگ مرتد ہوگئے تھے سوائے تین اشخاص کے راوی کہتا ہے میں نے کہا اور وہ تین کون ہیں؟توانہوں نے کہاالمقداد بن اسود ،ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ "۔

2۔قاضی نوراللہ شوشتری نے لکھا ہے کہ امام باقر سے روایت ہے کہ:

"ارتد الناس إلا ثلاثة نفر: سلمان، وأبو ذر، والمقداد"

(مجالس المومنین 1/203 مطبوعہ تہران)

"تین کے سوا تمام لوگ مرتد ہوگئے تھے سلمان فارسی ،ابوذر غفاری اور مقداد بن اسود۔"

اس کے بعد لکھتا ہے کہ:

(یعنی حضرت امام فرمود کہ جمیع مشاہیر صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کہ استماع نص نبوی در باب خلافت امیرالمومنین نمودہ بوند مرتد شد ندالاسہ نفرکہ سلمان وابوذر ومقداد است۔"(مجالس المومنین 1/203)

"امام باقر  رحمۃ اللہ علیہ  نے فرمایا کہ تمام مشہور صحابہ امیرالومنین  رضوان اللہ عنھم اجمعین  کی خلافت کے بارے نص نبوی سننے کے باوجود پھر گئے اور مرتد ہوگئے سوائے تین اشخاص کے یعنی سلمان،ابوذر اور مقداد۔"(نیز دیکھیں ترجمہ وتفسیر مقبول دہلوی ص:107)

3۔احمد بن علی الطبرسی نے لکھا ہے کہ:

"وما من الامة احد بائع مكرها  غير  علي واربعتنا"

(الاحتجاج 1/84 مطبوعہ بیروت)            

"امت میں کوئی ایسا آدمی نہ تھا جس نے ولی رضا مندی کے بغیر ابوبکر صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی بیعت کی ہو چار اشخاص کے سوا یعنی ابوذر،سلمان،مقداد اور عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔"

طبرسی کی اس عبارت سے معلوم ہو اکہ تمام امت مسلمہ نے دل وجان سے ابو بکر صدیق کی بیعت کی تھی صرف مذکورہ چاراشخاص ایسے تھے جنھوں نے مجبوراً بیعت کی اور جو بات ان کے دل میں تھی وہ زبان پر نہ تھی۔یعنی ان کا ظاہر وباطن ایک نہ تھا العیاذ باللہ زبان سے تو ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے ساتھ تھے اور دل سے کسی اور کے ساتھ۔

5۔شیخ الطائفہ الامامیہ ابو جعفر الطوسی رقم طراز ہے:

"عن حمران بن أعين قال: قلت لابي جعفر عليه السلام: جعلت فداك ما أقلنا لو اجتمعنا على شاة ما أفنيناها؟ فقال: ألا احدثك بأعجب من ذلك، المهاجرون والانصار ذهبوا إلا وأشار بيده ثلاثة"(رجال کشی ص:7تحت ترجمہ سلمان الفارسی)

"حمران نے کہا میں نے امام باقر سے کہا ہماری تعداد کس قدر کم ہے اگر ہم ایک بکری پر جمع ہوں تو اسے بھی ختم نہ کرپائیں امام نے کہا میں تجھے اس سے بھی عجیب بات بتاتا ہوں۔میں نے کہا ضرور فرمایا مہاجرین وانصار تین کے علاوہ سب چلے گئے یعنی مرتد ہوگئے۔"

شیعہ حضرات کے مذکورہ بالا معتبر حوالہ جات سے معلوم ہوا ان کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی وفات کے بعد تمام صحابہ  رضوان اللہ عنھم اجمعین  العیاز باللہ مرتد ہوگئے تھے۔اور یہ عقیدہ انہوں نے اپنے مزعومہ ائمہ معصومین سےنقل کیا ہے شیعہ حضرات کا صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کے بارے میں موقف مزید معلوم کرنا ہوتو اسد حیدرکی کتاب"الصحابہ فی نظر الشیعۃ الامامیہ"مطبوعہ قاہرہ اور باقرمجلسی کی بحار الانوار سے مطاعن پر مشتمل جلدوں کامطالعہ کریں۔جس سے یہ حقیقت آشکارا ہوجاتی ہے کہ ان کے نزدیک دین اسلام کےراویان اور ناقلان قرآن جھوٹے تھے جب تک عدالت وعظمت صحابہ  رضوان اللہ عنھم اجمعین  کو شیعہ حضرات تسلیم نہیں کرلیتے اتنی دیر تک ان کا قرآن حکیم پر ایمان  درست نہیں ہوسکتا۔اور صحابہ  رضوان اللہ عنھم اجمعین  پر تبرا اور سب وشتم کرنا ان کا بنیادی عقیدہ ہے اس عقیدے کی موجودگی میں قرآن حکیم پر ایمان محال ہے ۔تقیہ اور کتمان کے بارے  اصول کافی وغیرہ کتب کا مطالعہ کرلیں۔

2۔دوسری وجہ

شیعہ علماء کے اقرار کے مطابق اس قرآن کو خلفائے ثلاثہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  نے جمع کیا اور انہیں کے انتظام وانصرام ہے یہ پوری دنیا میں پھیلایا گیا اور اس موجودہ قرآن کی قابل وثوق تصدیق ان کے ائمہ معصومین سے نہیں ملتی اورخلفائے ثلاثہ کے متعلق شیعہ کاعقیدہ ہے کہ وہ دین  دشمن تھے اور اسلام کے لبادہ میں حصول حکومت  کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے گرد جمع تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  پر ان کا رعب ودبدبہ اس قدر تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  ان کے پوچھے بغیر کوئی کام  سرانجام نہیں دیتے تھے اور ان کے رعب کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  خلافت بلافصل کاعلی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے لیے کھلے عام واضح اور دو ٹوک اعلان نہ کرسکے۔لہذا جو چیز  دین دشمن لوگوں نے لکھ کر  پھیلادی ہو وہ معتبر اور قابل وثوق کیسے ہوسکتی ہے۔شیعہ حضرات کا کہناہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  فوت ہوئے تو لوگ مرتد ہوگئے اور علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے خلاف ہوگئے اور زمام حکومت سنبھالنے لگے اور علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے غسل،کفن دفن کا انتظام کرنے لگے وہاں سے فارغ ہوکر اپنے گھر میں محصور ہوکرقرآن تالیف کرنے لگے۔جب قرآن پاک جمع کرلیا تو اسے انصار و مہاجرین کے پاس لے کر آئے اس لیے کہ اس بات کی انہیں رسول  اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے وصیت کی تھی۔

"فلمّا فتحه أبو بكر, خرج في أوّل صفحة فتحها فضائح القوم, فوثب عمر وقال: يا ... اردده فلا حاجة لنا فيه, فأخذه عليه السلام وانصرف "

(فصل الخطاب فی اثبات تحریف کتاب رب الارباب ص:7)

"جب اسے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے کھولا توپہلے صفحہ پر قوم کی فضیحتوں اوررسوائیوں کا ذکرتھا تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اُٹھ کھڑے ہوئے اور کہا اے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اس کو لے جاؤ ہمیں اس کی حاجت نہیں۔علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے اس قرآن کو لیا اور چلے گئے۔"

پھر زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ  قاری قرآن کو بلاکر نیا قرآن لکھوالیاگیا اور اس میں سے انصار ومہاجرین کی ذلت ورسوائی والی آیات کو نکال دیا گیا۔(الاحتجاج للطبرسی 1/156)

دوسری روایت میں ہے کہ جب صحابہ  رضوان اللہ عنھم اجمعین  نے کہا کہ ہمیں تمہارے جمع کردہ قرآن کی حاجت نہیں تو علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے فرمایا:

"والله ماترونه بعد يومكم هذا "

(فصل الخطاب فی اثبات تحریف کتاب رب الارباب ص:7)

"اللہ کی قسم تم اس قرآن کو آج کے بعد کبھی نہیں دیکھو گے۔"

مذکورہ بالاحوالہ جات سے معلوم ہو اکہ شیعہ حضرات کے نزدیک موجود قرآن کے جامع ابوبکر وعمر رضوان اللہ عنھم اجمعین  تھے اور انہوں نے اسے زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے لکھواکر دنیا میں پھیلا دیا اور اصل قرآن جو علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے لکھا تھا وہ تسلیم نہ کیا تو علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے اسے غائب کردیا۔ابوبکر وعمر رضوان اللہ عنھم اجمعین  کا پھیلایا ہوا قرآن ہی آج دنیا میں پڑھا جارہا ہے۔اور اس کے حافظین دنیا کے ہرگوشے میں موجود ہیں اور ابوبکروعمر رضوان اللہ عنھم اجمعین  کے بارے شیعہ کا عقیدہ ملاحظہ ہو۔ملاباقر مجلسی نے اپنی کتاب میں لکھا ہےکہ:

"ابوبکر وعمر رضوان اللہ عنھم اجمعین ۔۔۔ہردو کافر بودند وہرکہ ایشاں رادوست داردکافر است"(حق الیقین ص:542)

"ابوبکروعمر رضوان اللہ عنھم اجمعین (العیاذ باللہ) دونوں کافر تھے اور ان سے دوستی رکھنے والا ہرفرد بھی کافر ہے۔"

اس کے بعد لکھتاہے :

"ودریں باب احادیث بسیار است ودرکتب متفرق است واکثر دربحار الانوار مذکوراست"(حق الیقین ص:542)

اس بارے میں بہت سی  روایات ہیں اور متفرق کتب میں  موجود ہیں اور اکثر کاذکر"بحار الانوار"میں موجود ہے۔

بحار الانوار باقر مجلسی کی ہی کتاب ہے جو 10 جلدوں میں مطبوع ہے اور راقم الحروف کے کتب خانہ میں موجود ہے اسی طرح مجلسی نے لکھا ہےکہ:

"اعتقاد ماوربراءت آنستکہ بیزاری جویند ازبت ہائے چہار گانہ یعنی ابو بکر وعمر عثمان ومعاویۃ وزنان چہار گانہ یعنی عائشہ وحفصہ وہندوام الحکم واز جمیع اشیاع واتباع ایشاں وآنکہ ایشاں بدترین خلق خدا یند وآنکہ تمام نمی شووا اقرار بخدا ورسول وائمہ مگربہ بیزاری از  دشمنان ایشاں"

(حق الیقین ص:539)

"تبرا کے بارے  ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ چار  بتوں سے بیزاری اختیار کریں یعنی ابوبکر( رضی اللہ تعالیٰ عنہ )عمر( رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) اور معاویہ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے اور چار عورتوں سے بیزاری اختیار کریں۔یعنی عائشہ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا  ) حفصہ ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا  ) ہند ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا  ) اور اُم الحکم( رضی اللہ تعالیٰ عنہا  ) سے اور ان کے تمام پیروکاروں سے اور یہ اللہ کی مخلوق میں سے بدترین لوگ تھے اور یہ کہ اللہ پر ،رسول پر اور ائمہ پر ایمان مکمل نہیں ہوگا جب تک  ان دشمنوں سے بیزاری نہ کریں۔"

مشہور شیعہ مفسر علی بن ابراہیم قمی رقم طراز ہے کہ:

"وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ " میں کفر سے مراد ابوبکر( رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) فسوق سے مرادعمر( رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) اور عصیان سے مراد عثمان( رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) ہیں۔"(العیاذ باللہ)

(تفسیر قمی 2/319 نیز دیکھیں شیعہ کی تفسیر الصافی 2/590 تفسیر نورالثقلین 5/83)

مولوی مقبول حسین دہلوی لکھتا ہے :کافی اور تفسیر قمی میں جناب امام جعفر صادق سے روایت ہےکہ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ میں ایمان سے اورزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ میں ضمیر غائب سے مراد جناب امیر المومنین  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ہیں اور وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ  میں الکفر سے مراد ہیں  حضرت اول اور الْفُسُوقَسے مراد ہیں حضرت ثانی اورالْعِصْيَانَسے مسٹر ثالث۔(ترجمہ تفسیر مقبول  دہلوی ص:823)

مذکورہ بالا حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ اہل تشیع کے نزدیک قرآن کا انتظام وانصرام کرنے والے اور اسے نقل کرواکے دنیاکے مختلف گوشوں میں پھیلانے والے خلفائے راشدین رضوان اللہ عنھم اجمعین  تھے اور ان کی سب سے زیادہ دشمنی ان کے ساتھ ہے اور ان سے بیزاری اختیار کرنا ان کا عقیدہ ہے اس عقیدے کی موجودگی میں یہ موجودہ قرآن پر ایمان کیسے رکھ سکتے ہیں اگر اس قرآن کو مان لیں تو ان کا عقیدہ باطل ہوجاتا ہے۔

3۔تیسری وجہ

تیسری اہم وجہ یہ ہے کہ تحریف قرآن کے بارے شیعہ حضرات کی امہات الکتب میں دوہزار سے زائد  روایات موجود ہیں جن میں پانچ قسم کی تحریف کاذکر ہے۔1۔کمی۔2۔زیادتی۔3۔تبدیلی  الفاظ۔4۔تبدیلی حروف۔5۔آیات وسور اور کلمات کی خرابی ترتیب۔پھر ان روایات میں شیعہ حضرات کے معتبر اور ثقہ علماءکے تین اقرار ہیں:

1۔یہ روایات متواتر ہیں اور ان کی تعداد مسئلہ امامت کے متعلق مروی روایت سے کم نہیں۔

2۔یہ روایات تحریف قرآن پر صراحتاً دلالت کرتی ہیں۔

3۔ان روایات کے مطابق شیعہ کاتحریف قرآن کا عقیدہ بھی ہے۔

توضیح:۔

ایران سے مرزاحسین بن محمد تقی نوری طبرسی شیعہ کی ایک کتاب 1298ء میں بنام"فصل الخطاب فی اثبات تحریف کتاب رب الارباب"چھپی جس میں مولف نے ہر عقلی ونقلی طریقے سے یہ بات اپنے مذہب کی امہات الکتب سے ثاتب کی ہے کہ قرآن محرف ومبدل ہے۔موجودہ قرآن پر شیعہ کا ایمان نہیں ہے۔اور یہ شیعہ کے ثقہ علماء میں سے ہے اور شیعہ رجال کے تراجم پر ایران وہندوستان سے جتنی کتب طبع ہوئیں ان میں سے اکثر کے اندر اس کا ذکر بڑے بھاری  القابات سے کیا گیا ہے۔مثلاً شیخ عباس  قمی نے"فوائد رضویہ" ص:15 میں لکھا ہے کہ:

"سحاب الفضل الهاطل وبحر العلم الذي ليس له ساحل"

"مرزا حسین بن محمد نوری فضل کا بادل۔۔۔اورعلم کا ایسا سمندر ہے جس کاکوئی کنارہ نہیں۔"

نیز مستدرک الوسائل ص: 4ج1 میں لکھا ہے کہ: امام ائمة الحديث ... كبار رجال الاسلام معلوم ہواکہ فصل الخطاب کامولف شیعہ حضرات کے ہاں بڑا معتبر محدث اور بحرالعلوم ہے اور یہ کتاب اُس نے  حضر ت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے روضہ میں بیٹھ کر مکمل کی ہے۔اپنی کتاب کے آخری صفحہ 398 میں لکھتا ہے کہ:

"وقد فرغ من تنميق هذه الاوراق  رجاء الانتفاع بها في يَوْمَ يُكْشَفُ عَن سَاقٍ العبد المذنب المسئي المنسي حسين بن محمد تقي النوري الطبرسي في مشهد مولانا امير المومنين عليه السلام لليتين ان بقيا من شهر جمادي الاخرٰي من سنة ااثنتين بعد الالف"

"امیرالمومنین کے روضہ میں بیٹھ کر ان اوراق کے لکھنے سے بندہ گناہگار حسین بن محمد تقی النوری الطبرسی 28جمادی اخری 1292ھ میں قیامت والے دن نفع کی امید کرتے ہوئے فارغ ہوا۔"

اوریہ مقام شیعہ کے ہاں بڑا بابرکت اور اقدس البقاع ہے اور جب یہ مولف فوت ہوا تو اسے نجف میں مشہد مرتضوی کے  صحن میں دفن کیا گیا اور مشہد مرتضوی یعنی علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا روضہ شیعہ کے ہاں اتقیاء کے دفن کا مقام ہے۔لہذا اس کتاب کا مولف ان کے ہاں برا معتبر محدث ہے اور اس نے فصل الخطاب لکھ کر ثابت کردیا کہ شیعہ اس قرآن کو تسلیم نہیں کرتے۔اس کتاب میں لکھا ہے کہ:

"إن الأخبار الدالة على ذلك ـ أي التحريف ـ تزيد على ألفي حديث، وادعى لاستفاضتها جماعة كالمفيد والمحقق والداماد والعلامة المجلسي وغيرهم "

(فصل الخطاب فی اثبات تحریف کتاب رب الارباب ص:251)

"تحریف قرآن پر دلالت کرنے والی احادیث دو ہزار سے زائد ہیں  اور ان کے مشہور ہونے کادعویٰ علماء کی ایک جماعت نے کیا ہے جیسے شیخ مفید،محقق داماد اور علامہ مجلسی وغیرہم ہیں۔"

اس مولف نے سید نعمت اللہ الجزائری الشیعی کے حوالے سے لکھا ہے کہ:

"إن الأصحاب قد أطبقوا على صحة الأخبار المستفيضة بل المتواترة الدالة بصريحها على وقوع التحريف في القرآن كلاماً ومادةً واعراباً والتصديق بها "

(فصل الخطاب ص:31 الانوار النعمانیہ 2/357)

"اصحاب امامیہ نے ان روایات مشہورہ کی صحت بلکہ تواتر پر اتفاق کیا ہے ایسا تواتر جو صراحتاً قرآن  پاک میں تحریف پر دلالت کرتا ہے یہ  تحریف کلام،مادہ اور اعراب  میں ہے اور ان روایات کی  تصدیق پر بھی علمائے شیعہ نے اتفاق کیا ہے۔"

شیعہ کی معتبر کتاب اصول کافی میں روایت ہے کہ امام جعفرصادق رحمۃ اللہ علیہ  نے فرمایا:

"إن القرآن الذي جاء به جبرائيل عليه السلام إلى محمد صلى الله عليه وسلم سبعة عشر ألف آية "

"بلاشبہ جو قرآن جبرئیل  علیہ السلام  محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کی طرف لے کر آئے اس کی 17ہزار آیات تھیں۔"

اس حدیث کی شرح میں ملاباقر مجلسی نے لکھا ہے:

"فالخبر صحيح. ولا يخفى أن هذا الخبر وكثير من الأخبار الصحيحة صريحة في نقص القرآن وتغييره وعندي أن الأخبار في هذا الباب متواترة معنى ، وطرح جميعها يوجب رفع الاعتماد عن الأخبار رأساً ، بل ظني أن الأخبار في هذا الباب لا يقصر عن أخبار الإمامة فكيف يثبتونها بالخبر ؟"

(مراۃ العقول فی شرح اخبار آل رسول 12/535)

"یہ خبر صحیح ہے پس مخفی نہ رہے کہ یہ خبر اور دیگر بہت ساری صحیح روایات  صراحتاً قرآن پر کمی اور تبدیلی پر دلالت کرتی ہیں اور میرے نزدک تحریف قرآن کے مسئلہ میں  روایات معناً متواترہیں اور ان روایات کو ترک کرنا تمام ذخیرہ احادیث سے اعتماد کو اٹھانا ہے۔بلکہ میرا خیال ہے کہ تحریف قرآن کی روایات مسئلہ امامت کی روایات سے کم نہیں اگر ان روایات کا اعتبار نہ ہوا تو مسئلہ امامت روایات سے کیسے ثابت کریں گے۔"

مرزا حسین بن محمد بن تقی نوری طبرسی لکھتا ہے:

"الأخبار الكثيرة المعتبرة الصريحة فى وقوع السقط ودخول النقصان فى الموجود من القرآن " (فصل الخطاب:235)

"بہت ساری معتبر روایتیں موجودہ  قرآن میں کمی پر صراحتاً دلالت کرتی ہیں۔"

ملافیض  کا شانی لکھتا ہے:

"واما اعتقاد مشايخنا في ذلك فالظاهر من ثقة الأسلام محمد بن يعقوب الكليني انه كان يعتقد بالتحريف والنقصان في القران, لأنه روى روايات في هذا المعنى في كتابه الكافي, ولم يتعرض لقدح فيها, مع انه كان يثق بما رواه فيه, وكذلك استاذ علي بن ابراهيم القمي فأن تفسيره مملوء منه وله غلو فيه وكذلك احمد بي ابي طالب الطبرسي فأنه نسج على منوالهما في كتاب الأحتجاج "(مقدمہ تفسیر صافی 1/34)

"بہرکیف تحریف قرآن کے بارے ہمارے مشائخ کا عقیدہ تو ظاہر بات ہے کہ ثقۃ الاسلام محمد بن یعقوب کلینی قرآن پاک میں  تحریف اور کمی کاعقیدہ رکھتے ہیں اس لیے کہ انہوں نے اپنی کتاب اصول کافی میں اس معنی کی  روایات بیان کی ہیں اور ان پر جرح نہیں کی باوجود اس کے کہ انہوں نے اپنی کتاب کی ابتداء میں ذکر کیا ہے کہ جو روایات وہ  اس میں لائیں گے اس پر انہیں اعتماد ہے۔اسی طرح ان کے استاذ علی بن ابراہیم قمی کا بھی یہی عقیدہ تھا۔ان کی تفسیر قمی اس بات سے بھری پڑی ہے اور انہوں نے اس میں غلو سے کام لیا ہے اور شیخ احمد بن ابی طالب طبرسی بھی ان دونوں کے منہج پر اپنی کتاب الاحتجاج میں چلے۔"

مذکورہ بالاحوالہ جات سے معلوم ہواکہ فقہ جعفریہ کی امہات الکتب میں دو ہزار سے زائد روایات تحریف قرآن پر دلالت کرتی ہیں اور یہ ان کے ہاں متواتر روایات ہیں ان کامقام بھی وہی ہے جو مسئلہ امامت کی روایات کا ہے اور مسئلہ امامت ان کے ہاں اصول دین سے ہے ا گر ان روایات کا انکار کریں گے تو اپنے اصول دین کا انکار کرنا پڑے گا اور ان روایات  میں اس  بات کی  تصریح ہے کہ قرآن محرف ہوچکا ہے۔اس میں کمی بیشی تبدیلی حروف کلمات وغیرہ ہے اور تحریف قرآن پر ان کا ثقہ علماء کا اتفاق ہے ۔تفسیر قمی جو ان کی پہلی  تفاسیر میں سے ہے اور بڑی معتبر سمجھی جاتی ہے اور اس کا مولف علی بن ابراہیم قمی ان کے ہاں ثقہ محدث و مفسر ہونے کے ساتھ گیارہویں امام حسن عسکری کے دور کا ہے ۔اس میں تحریف قرآن پر دلالت کرنے والی کثیر روایات موجود ہیں اور اس کا شاگرد محمد بن یعقوب کلینی جو اصول کافی وغیرہ کامولف ہے اور یہ کتاب ان  کے ہاں ایسے ہی ہے جیسے ہمارے ہاں بخاری شریف کامقام ہے یہ بھی تحریف قرآن کاقائل ہے اور اس کے علاوہ ان کے علماء بہت بڑی تعداد صراحتاً  تحریف قرآن پر عقیدہ رکھتی ہے۔

بعض شیعہ حضرات اپنے چار علماء کا نام لیتے ہیں کہ وہ  تحریف کے قائل نہ تھے۔

1۔سید شریف مرتضیٰ۔2۔شیخ صدوق۔3۔ابو جعفر طوسی۔4۔ابو علی طبرسی۔

لیکن  حقیقت یہ ہےکہ یہ بھی تحریف کے قائل تھے انہوں نے قرآن کے محرف نہ ہونے کا قول تقیہ کرتے ہوئے اور بعض مصلحتوں کی بنیاد پر اختیار کیا کیونکہ سید شریف مرتضیٰ نے اپنے رسالہ:"المحكم والمتشابه المعروف بتفسير النعماني " ص:٢٦ میں لکھا ہے کہ:

"وأما ما حرف من كتاب الله فقوله تعالى: (((كنتم خير أئمة))) الآية، فحرفت إلى خير أمة الخبر. وهو طويل"

مقصود یہ ہے کہ اس آیت میں لفظ أئمة کو أمة سے بدل دیا گیا ہے۔اسی طرح کی کئی ایک مثالیں شریف مرتضیٰ نے اس مقام پر ذکرکرکے واضح کردیاکہ یہ اس بات کا قائل ہے کہ قرآن حکیم میں تحریف کی گئی ہے۔

مرزا حسین بن محمد نے فصل الخطاب میں ذکر کیا ہے کہ ان کامتقدمین میں کوئی موافق نہیں ہے۔(دیکھیں ص:33) سید نعمت اللہ الجزائری الشیعی نے لکھا ہے کہ:

"والظاهر أن هذا القول إنما صدر منهم لأجل مصالح كثيرة منها سد باب الطعن عليها بأنه إذا جاز هذا في القرآن فكيف جاز العمل بقواعده وأحكامه مع جواز لحوق التحريف لها كيف وهؤلاء الأعلام رووا في مؤلفاتهم أخباراً كثيرة تشتمل على وقوع تلك الأمور في القرآن، وان الاية هكذا انزلت ثم غيرت الي هذا"

(الانوار النعمانیہ 2/358،359)

"ظاہر ہے کہ ان حضرات کایہ انکار چند مصلحتوں پر مبنی تھا جن میں سے ایک یہ ہے کہ طعن کا دروازہ بند کرنے کے لیے کہ جب قرآن میں تحریف جائز ہے تو اس کے قواعد اور احکام پر عمل کیسے جائزہوسکتاہے باوجود اس کے کہ ان میں تحریف کاواقع ہونا جائز ہے اور یہ قرآن کے غیر محرف ہونے کا عقیدہ کیسے رکھ سکتے تھے جبکہ انہوں نے اپنی کتابوں میں بہت ساری ایسی روایات درج کی ہیں جو تحریف قرآن پر مشتمل ہیں اور بتاتی ہیں کہ فلاں آیت اس طرح نازل ہوئی پھر اس طرح بدل دی گئی۔"

معلوم ہواکہ ان چاروں نے بھی تقیہ کرتے ہوئے اور بعض  مصلحتوں کی بنا پر کہہ دیا کہ قرآن محرف نہیں حالانکہ یہ  تحریف کے قائل تھے ۔بعض شیعہ یہ مغالطہ دیتے ہیں کہ ہم تو اسی قرآن کو مانتے ہیں اور اسے ہی پڑھتے پڑھاتے ہیں لہذا ہم کیسےاس کی تحریف کے قائل ہوسکتے ہیں۔یہ بھی صرف مغالطہ ہے کیونکہ یہ تقیہ کی آڑ میں ایسا کہتے ہیں ان کو یہ حکم ہے کہ جب تک بارھواں امام اصل قرآن لے کر نہیں آتا تم اسے ہی پڑھتے رہو جب وہ اصل قرآن لے کر آئے گا تو پھر اس کی تلاوت ہوگی۔مولوی  مقبول دہلوی نے سورہ یوسف کی آیت نمبر 49 میں جو يَعْصِرُونَ کا لفظ ہے اس کے بارے میں لکھا ہے:

"معلوم ہوتاہے کہ جب قرآن میں ظاہر اعراب لگا دیے گئے تو شراب خوارخلفاء کی خاطر يُعْصَرُونَ کو يَعْصِرُونَ سے بدل کر معنی کو زیر وزبر کیا گیا ہے مجہول کومعروف سے بدل کر لوگوں کے لیے ان کے کرتوت کی معرفت آسان کردی ہم اپنے امام کے حکم سے مجبور ہیں کہ جو تغیر یہ لوگ کردیں تم اس کو اس کے حال پر رہنے دو اور تغیر کرنے والے کا عذاب کم نہ کرو ہاں جہاں تک ممکن ہو لوگوں کو اصل حال سے مطلع کر دو قرآن کو اس کی اسی حالت پر لانا جناب صاحب العصرعلیہ السلام کاحق ہے اور ان ہی کے وقت میں وہ حسب تنزیل خدائے تعالیٰ پڑھا جائے گا۔(ترجمہ وتفسیر مقبول دہلوی ص:384)

نیز دیکھیں شیعہ حضرات کی معتبر کتب"الانوار النعمانیہ"2/360 المقدمہ السادسہ من تفسیر الصافی ص 1/25 بصائر الدرجات الجزء الرابع ص؛193وغیرھا)

  مذکورہ بالاحوالہ جات سے معلوم ہوا کہ یہ لوگ اس قرآن کو پڑھنے پر مجبور ہیں اور ان کے نزدیک اصل قرآن ان کا بارہواں امام صاحب  العصر والزماں لے کر آئے گا۔اس کے ظہور تک یہ اسے ہی پڑھتے رہیں گے۔حقیقت میں ان کا اس پر ایمان نہیں ہے۔

لہذا واضح ہوگیا کہ ان کا ایمان نہ قرآن پر ہے اور نہ ہی ہوسکتاہے اگر یہ قرآن پر صحیح ایمان لے آئیں تو فقہ جعفریہ کاخون ہوجاتا ہے اللہ تعالیٰ حقائق کو سمجھ کر صحیح عمل کی توفیق نصیب کرے اور مذاہب باطل سے محفوظ رکھے ۔شیعہ حضرات کے اس موقف کی تفصیل کے لیے ان کی کتاب "فصل الخطاب فی اثبات تحریف کتاب رب الارباب "اور علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمۃ اللہ علیہ  کی "الشیعہ والقرآن" ملاحظہ ہوں۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

آپ کے مسائل اور ان کا حل

جلد2۔العقائد و التاریخ۔صفحہ نمبر 71

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ