سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(528) جھوٹے قصے کہانیاں

  • 20791
  • تاریخ اشاعت : 2017-05-17
  • مشاہدات : 613

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے ہاں اکثر جرائد و رسائل میں جھوٹے قصے کہانیاں ، افسانے ، ناول اور سنسنی خیز لٹریچر شائع ہوتا ہے ، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 جھوٹے قصے اور کہانیاں شائع کرنا دل بہلاوے کے طور پر پڑھنا شرعاً درست نہیں۔دور جاہلیت میں لوگوں کی قرآن کریم سے توجہ ہٹانے کے لئے یہی حربہ استعمال کیا گیا تھا بلکہ ایک ازلی بدبخت نضر بن حارث کا یہی کاربار تھا کہ وہ مکہ سے عراق اور فارس وغیرہ جاتا ، وہاں سے شاہانِ عجم کے قصے اور رستم و اسفند یار کی کہانیاں لا کر قصہ گوئی کی محفلیں جماتا تاکہ لوگوں کی توجہ قرآن کریم سے ہٹ جائے اور وہ اس قسم کی کہانیوں میں مصروف ہو جائیں تو اس پر یہ آیات نازل ہوئیں:﴿وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْتَرِيْ لَهْوَ الْحَدِيْثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ١ۖۗ وَّ يَتَّخِذَهَا هُزُوًا١o اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ﴾[1]

’’ اور انسانوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو کلام دلفریب خرید کر لاتا ہے کہ لوگوں کو اللہ کے راستہ سے علم کے بغیر بھٹکا دے اور اس راستے کی دعوت کو مذاق میں اڑا دے ، ایسے لوگوں کے لئے سخت ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔‘‘

’’ لہو الحدیث‘‘ سے مراد ہر وہ بات ہے جو آدمی کو اپنے اندر مشغول کر کے ہر دوسری چیز سے غافل کر دے، قرآن کریم نے اس قسم کی اشیاء کو سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ لہٰذا ہمیں اس قسم کے لٹریچر سے اجتناب کرنا چاہیے جو محض جھوٹ پر مبنی ہو اور اس میں رنگینی پیدا کرنے کے لئے خلافِ حقیقت واقعات پر مشتمل ہو۔ ہمارے ہاں بیشتر قسم کے ڈائجسٹ اور رسالے اس قسم کے لٹریچر پر مشتمل ہوتے ہیں، نیز ان سے بے راہ روی کا درس ملتا ہے جس سے انسان کی عاقبت خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔


[1] لقمان : ۶۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد4۔ صفحہ نمبر:459

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ