سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(516) حافظ قرآن اور رشتہ داروں کی سفارش

  • 20779
  • تاریخ اشاعت : 2017-05-17
  • مشاہدات : 182

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ہمارے ہاں حفظ قرآن کی ایک تقریب میں کہا گیا کہ حافظ قرآن قیامت کے دن اپنے رشتے داروں کی سفارش کرے گا جن پر جہنم واجب ہو چکی ہو گی۔ اس روایت کے متعلق وضاحت درکار ہے، اولین فرصت میں جواب دیں؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے ہاں حفظ قرآن کی ایک تقریب میں کہا گیا کہ حافظ قرآن قیامت کے دن اپنے رشتے داروں کی سفارش کرے گا جن پر جہنم واجب ہو چکی ہو گی۔ اس روایت کے متعلق وضاحت درکار ہے، اولین فرصت میں جواب دیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہمارے واعظین کا معاملہ بہت عجیب ہے، وہ دوران وعظ ضعیف اور موضوع روایات کو بڑے مزے سے بیان کرتے ہیں اور ان کے نتائج سے بالکل بے خبر ہوتے ہیں۔ مذکورہ سوال میں جس روایت کا حوالہ دیا گیا ہے وہ بھی اسی طرح کی ہے۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس نے قرآن پڑھا اور اسے یاد کر لیا، اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور اس کے اہل خانہ کے متعلق اس کی سفارش قبول کرے گا جن پر جہنم واجب ہو چکی ہو گی۔" (مسند امام احمد ص148ج1)

امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس روایت کو بیان کیا ہے۔ (حدیث نمبر 2905) آپ فرماتے ہیں: "یہ حدیث غریب ہے، اس کی کوئی سند صحیح نہیں کیونکہ اس میں ایک راوی حفص بن سلیمان ابو عمر البزار کوفی ہے، جسے حدیث میں ضعیف سمجھا جاتا ہے۔

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے متعلق فرمایا ہے کہ محدثین نے اسے چھوڑ دیا تھا۔ (کتاب الضعفاء)

اسی طرح دور حاضر کے عظیم محدث علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسے سخت ضعیف قرار دیا ہے۔ (ضعیف الترغیب ص 432 ج 1)

بہرحال یہ روایت سخت ضعیف ہے، ہمارے واعظین کو چاہیے کہ اس قسم کی کمزور روایات بیان کرنے سے اجتناب کیا کریں۔ (واللہ اعلم)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد4۔صفحہ نمبر 450

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ