سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(515) سورۃ یٰسین قرآن کا دل ہے؟

  • 20778
  • تاریخ اشاعت : 2017-05-17
  • مشاہدات : 295

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک عالم دین نے دوران خطبہ سورۃ یٰسین کے فضائل بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ سورت قرآن مجید کا دل ہے، اس کی تحقیق درکار ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک عالم دین نے دوران خطبہ سورۃ یٰسین کے فضائل بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ سورت قرآن مجید کا دل ہے، اس کی تحقیق درکار ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

فضائل قرآن کے سلسلہ میں بعض روایات ہمارے ہاں بہت مشہور ہیں لیکن استنادی طور پر ان کی حیثیت بہت کمزور ہے، اس لئے ہمارے خطباء کو چاہیے کہ وہ صحیح روایات سے فضائل و احکام بیان کریں۔

سورۃ یٰسین کے فضائل میں درج ذیل حدیث بیان کی جاتی ہے: "ہر چیز کا دل ہوتا ہے اور قرآن کا دل سورۃ یٰسین ہے جو شخص ایک مرتبہ سورۃ یٰسین پڑھتا ہے تو اس کی قراءت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے لئے دس مرتبہ قرآن پڑھنے کا ثواب لکھ دیتا ہے۔" (ترمذی،فضائل القرآن :2887)

یہ روایت ہارون ابو محمد کے مجہول ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے، چنانچہ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ خود ہی اس روایت کے بعد فرماتے ہیں: "ہارون ابو محمد ایک مجہول شخص ہے۔"

علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے۔ (الضعیفہ ص312ج1)

سورۃ یٰسین کے فضائل میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا درج ذیل قول صحیح ہے، آپ فرماتے ہیں: "جو شخص صبح کے وقت پڑھے تو اسے شام تک آسانی ہو گی اور جو شخص رات کے وقت اس کی تلاوت کرے تو اسے صبح تک سہولت میسر ہو گی۔" (دارمی ص487ج1)

اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص رات دن سورۃ یٰسین پڑھنے کا معمول اختیار کرتا ہے تو اس کی زندگی آرام و راحت اور سہولت سے گزرے گی، یقینا جو شخص اس کے معانی پر غوروفکر کرے گا، اس کے ایمان میں اضافہ ہو گا، اس کا اللہ پر اعتماد اور یقین بڑھے گا جو دنیا میں آرام و سکون کا باعث ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم کو دنیا میں آرام و سکون عطا فرمائے۔ آمین!

اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص رات دن سورۃ یٰسین پڑھنے کا معمول اختیار کرتا ہے تو اس کی زندگی آرام و راحت اور سہولت سے گزرے گی، یقینا جو شخص اس کے معانی پر غوروفکر کرے گا، اس کے ایمان میں اضافہ ہو گا، اس کا اللہ پر اعتماد اور یقین بڑھے گا جو دنیا میں آرام و سکون کا باعث ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم کو دنیا میں آرام و سکون عطا فرمائے۔ آمین!

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد4۔صفحہ نمبر 450

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ